دھرنا۔حضور کا شوق سلامت رہے

تقسیمِ ملت آخر کب تک!؟ ۲۸مئی ۱۹۸۸ کو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو یہ اکیلے پاکستان کی سول حکومت کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام قومی اداروں کی کامیابی تھی۔ پاکستانیوں کو شیعہ ، سنی ، بلوچی، پنجابی، کشمیری، سندھی اور پٹھان میں تقسیم کرنے کے بعد اب سول اور فوجی میں بھی تقسیم کیا جانے لگا ہے۔

گزشتہ روز وطنِ عزیز میں جو کچھ ہوا ہے اس پر ہر منصف مزاج انسان اور ہر باشعور پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے۔ اس طرح کےمسائل سے یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ یہ عدلیہ، سول حکومت فوجی اداروں ، یا سیکورٹی ایجنسیوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا ، کسی بھی ملک میں جب بھی کوئی مثبت یا منفی کام ہوتا ہے تو پوری حکومتی مشینری خواہ سول ہو یا فوجی سب اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

یہ ملک ،ہمارے سول حکمرانوں اور فوجی جوانوں کے پاس ایک الٰہی اور جمہوری امانت ہے، عوام کے مسائل کو حل کرنا ،عو امی حقوق کی حفاظت کرنا، عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا یہ ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے۔

جب عوام کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو دھرنوں اور احتجاجات کا وجود میں آنا ایک فطری عمل ہے اور اس فطری عمل کو غیر منطقی کہنا یا اسے جبروتشدد سے روکنے کی کوشش کرنا قطعا ایک غیر عاقلانہ اور احمقانہ فعل ہے۔

عوام نے گزشتہ روز سڑکوں پر نکل کر ایک مرتبہ پھر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ ان کے نزدیک آج بھی پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لاالہ الااللہ ہے لہذا ختم نبوت اور اسلامی اقدار پر انہیں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ منظور نہیں۔

اب عوام کو یہ یاد دلانےکی بھی ضرورت ہے کہ ختمِ نبوت کو فقط آئین میں خلاصہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر وہ فعل و عمل جو ختم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کو چیلنج کرے وہ در اصل ختم نبوت کو چیلنج کرتا ہے۔

مثلا ہما رے ہاں میرٹ کے بجائے اقربا پروری،انصاف کے بجائے رشوت، ٹی وی چینلز پر فحاشی، بازاروں اورمحلوں میں آوارہ گردوں کی اوباشی، خواتین کی بے حجابی، خواتین پر دست درازی، بچوں سے جبری مشقت، سرکاری اہلکاروں کے ماورائے قانون عقوبت خانے، لوگوں کا جبری اغوا اور لاپتہ ہونا دوسرے فرقوں ، مسالک اور مکاتب کی عبادت گاہوں، مزارات اور مقدس مقامات کی توہین و اہانت یہ سب بھی ختم نبوت ؐ اور محسنِ انسانیتؐ کی تعلیمات کے خلاف کھلا چیلنج ہیں اور ہمیں ان سب کے خلاف بھی میدان میں اترنا چاہیے۔

گزشتہ روز پورا ملک میدانِ جنگ بنا رہا ، مظاہرین نے چودھری نثار اوروفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر بھی حملہ کیا،مختلف چودھریوں کے گھروں سے بھاگنے کی خبریں بھی چلتی رہیں۔ مجھے ایسے میں وہ وقت یاد آگیا جب ایران کی ائیرپورٹ پر سہمی ہوئی ایران کی ملکہ سے کسی صحافی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کو یقین تھا کہ عوام آپ سے اتنے ہی متنفر ہو جائیں گے کہ آپ کو بھاگنا پڑے گا تو اس نے جواب میں حیرت اور تعجب کے ساتھ کہاتھا کہ نہیں ہر گز نہیں،میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب عوام اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر حکمرانوں کے ساتھ وہ کچھ ہوتا ہے جو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ، اس کے لئے رضا شاہ پہلوی، حسن مبارک ،صدام اور قذافی کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

ہم نے متعدد مرتبہ عرض کیا ہے کہ ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کا حل باہمی تعاون سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر ہمارے اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور عوامی ہمدردی ہوتی تو قطعاً یہ خون خرابہ نہ ہوتا ، اگر ہماری عدالتیں عوام کو دبانے کے بجائے عوامی مطالبات کا جائزہ لیتیں اور رانا ثنااللہ اور زاہد حامد کے بارے میں عوامی شکایات کا نوٹس لیتیں تو عوام کو مارنے پیٹنے کے بجائے مجرم عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے حکومتی رٹ ایک مثبت انداز میں قائم ہو جاتی۔

ہم یہاں پر یہ بھی یاد دہانی کراتے چلیں کہ عوام رانا ثنا اللہ اور ان کے ہمکاروں کے ذاتی ٹارچر سیلوں سے بھی سخت نالاں ہیں، مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے، لوگ اپنی زندگیوں سے اکتا چکے ہیں، داعش ہماری سرحدوں پر دستک دے رہی ہے، محمد اشرف نور جیسے فرض شناس اے آئی جی شہید ہو رہے ہیں، کوئٹہ میں دھماکے ہو رہے ہیں، ایسے میں عوامی غیض و غضب کو للکارنا کسی طور بھی ملک و ملت کے حق میں نہیں۔

ہم اگر عوام کے ساتھ اور کوئی رعایت نہیں کر سکتے تو کم از کم اُن سے حق زندگی و حق عقیدہ تو نہ چھینیں، انہیں جبری طور پر اغوا اور لا پتہ تو نہ کریں اور ان کے عقیدہ ختم نبوت پر حملے کرنے والوں کو سرکاری پروٹوکول تو نہ دیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فوجی اور سول کی تقسیم کر کے، طاقت اور جبر کے ساتھ عوامی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے تو وہ یقیناً غلطی پر ہے۔

لگا کہ آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا

اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت

جھکا کہ سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے

حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت

ملکی سلامتی کا تقاضا یہ ہے کہ شاہ پرستی اور طاقت کے استعمال کے بجائے فوج اور سول حکومت ہم آہنگ ہوکر تمام معاملات میں عوام کو اپنے اعتماد میں لے۔ورنہ پاکستانیوں کو شیعہ ، سنی ، بلوچی، پنجابی، کشمیری، سندھی اور پٹھان میں تقسیم کرنے کے بعد اب سول اور فوجی میں بھی تقسیم کرنے سے داعش اور طالبان کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

تقسیمِ ملت آخر کب تک!؟ ۲۸مئی ۱۹۸۸ کو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے تو یہ اکیلے پاکستان کی سول حکومت کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام قومی اداروں کی کامیابی تھی۔ پاکستانیوں کو شیعہ ، سنی ، بلوچی، پنجابی، کشمیری، سندھی اور پٹھان میں تقسیم کرنے کے بعد اب سول اور فوجی میں بھی تقسیم کیا جانے لگا ہے۔

گزشتہ روز وطنِ عزیز میں جو کچھ ہوا ہے اس پر ہر منصف مزاج انسان اور ہر باشعور پاکستانی کا دل رنجیدہ ہے۔ اس طرح کےمسائل سے یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جا سکتی کہ یہ عدلیہ، سول حکومت فوجی اداروں ، یا سیکورٹی ایجنسیوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا ، کسی بھی ملک میں جب بھی کوئی مثبت یا منفی کام ہوتا ہے تو پوری حکومتی مشینری خواہ سول ہو یا فوجی سب اس میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

یہ ملک ،ہمارے سول حکمرانوں اور فوجی جوانوں کے پاس ایک الٰہی اور جمہوری امانت ہے، عوام کے مسائل کو حل کرنا ،عو امی حقوق کی حفاظت کرنا، عوامی شکایات کا ازالہ کرنا اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا یہ ہم سب کی مشترکہ زمہ داری ہے۔

جب عوام کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو دھرنوں اور احتجاجات کا وجود میں آنا ایک فطری عمل ہے اور اس فطری عمل کو غیر منطقی کہنا یا اسے جبروتشدد سے روکنے کی کوشش کرنا قطعا ایک غیر عاقلانہ اور احمقانہ فعل ہے۔

عوام نے گزشتہ روز سڑکوں پر نکل کر ایک مرتبہ پھر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ ان کے نزدیک آج بھی پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لاالہ الااللہ ہے لہذا ختم نبوت اور اسلامی اقدار پر انہیں کسی بھی طرح کا سمجھوتہ منظور نہیں۔

اب عوام کو یہ یاد دلانےکی بھی ضرورت ہے کہ ختمِ نبوت کو فقط آئین میں خلاصہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر وہ فعل و عمل جو ختم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیمات کو چیلنج کرے وہ در اصل ختم نبوت کو چیلنج کرتا ہے۔

مثلا ہما رے ہاں میرٹ کے بجائے اقربا پروری،انصاف کے بجائے رشوت، ٹی وی چینلز پر فحاشی، بازاروں اورمحلوں میں آوارہ گردوں کی اوباشی، خواتین کی بے حجابی، خواتین پر دست درازی، بچوں سے جبری مشقت، سرکاری اہلکاروں کے ماورائے قانون عقوبت خانے، لوگوں کا جبری اغوا اور لاپتہ ہونا دوسرے فرقوں ، مسالک اور مکاتب کی عبادت گاہوں، مزارات اور مقدس مقامات کی توہین و اہانت یہ سب بھی ختم نبوت ؐ اور محسنِ انسانیتؐ کی تعلیمات کے خلاف کھلا چیلنج ہیں اور ہمیں ان سب کے خلاف بھی میدان میں اترنا چاہیے۔

گزشتہ روز پورا ملک میدانِ جنگ بنا رہا ، مظاہرین نے چودھری نثار اوروفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے گھر پر بھی حملہ کیا،مختلف چودھریوں کے گھروں سے بھاگنے کی خبریں بھی چلتی رہیں۔ مجھے ایسے میں وہ وقت یاد آگیا جب ایران کی ائیرپورٹ پر سہمی ہوئی ایران کی ملکہ سے کسی صحافی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کو یقین تھا کہ عوام آپ سے اتنے ہی متنفر ہو جائیں گے کہ آپ کو بھاگنا پڑے گا تو اس نے جواب میں حیرت اور تعجب کے ساتھ کہاتھا کہ نہیں ہر گز نہیں،میں تو یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب عوام اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو پھر حکمرانوں کے ساتھ وہ کچھ ہوتا ہے جو اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ، اس کے لئے رضا شاہ پہلوی، حسن مبارک ،صدام اور قذافی کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں۔

ہم نے متعدد مرتبہ عرض کیا ہے کہ ایک دوسرے کو مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کا حل باہمی تعاون سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر ہمارے اداروں کے درمیان باہمی تعاون اور عوامی ہمدردی ہوتی تو قطعاً یہ خون خرابہ نہ ہوتا ، اگر ہماری عدالتیں عوام کو دبانے کے بجائے عوامی مطالبات کا جائزہ لیتیں اور رانا ثنااللہ اور زاہد حامد کے بارے میں عوامی شکایات کا نوٹس لیتیں تو عوام کو مارنے پیٹنے کے بجائے مجرم عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے حکومتی رٹ ایک مثبت انداز میں قائم ہو جاتی۔

ہم یہاں پر یہ بھی یاد دہانی کراتے چلیں کہ عوام رانا ثنا اللہ اور ان کے ہمکاروں کے ذاتی ٹارچر سیلوں سے بھی سخت نالاں ہیں، مسنگ پرسنز کا مسئلہ ایک گھمبیر صورت اختیار کر چکا ہے، لوگ اپنی زندگیوں سے اکتا چکے ہیں، داعش ہماری سرحدوں پر دستک دے رہی ہے، محمد اشرف نور جیسے فرض شناس اے آئی جی شہید ہو رہے ہیں، کوئٹہ میں دھماکے ہو رہے ہیں، ایسے میں عوامی غیض و غضب کو للکارنا کسی طور بھی ملک و ملت کے حق میں نہیں۔

ہم اگر عوام کے ساتھ اور کوئی رعایت نہیں کر سکتے تو کم از کم اُن سے حق زندگی و حق عقیدہ تو نہ چھینیں، انہیں جبری طور پر اغوا اور لا پتہ تو نہ کریں اور ان کے عقیدہ ختم نبوت پر حملے کرنے والوں کو سرکاری پروٹوکول تو نہ دیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ فوجی اور سول کی تقسیم کر کے، طاقت اور جبر کے ساتھ عوامی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے تو وہ یقیناً غلطی پر ہے۔

لگا کہ آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا

اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت

جھکا کہ سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے

حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت

ملکی سلامتی کا تقاضا یہ ہے کہ شاہ پرستی اور طاقت کے استعمال کے بجائے فوج اور سول حکومت ہم آہنگ ہوکر تمام معاملات میں عوام کو اپنے اعتماد میں لے۔ورنہ پاکستانیوں کو شیعہ ، سنی ، بلوچی، پنجابی، کشمیری، سندھی اور پٹھان میں تقسیم کرنے کے بعد اب سول اور فوجی میں بھی تقسیم کرنے سے داعش اور طالبان کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن پاکستانیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے