سر رہ گزر مسئلہ اب عوام کی عدالت میں چلا گیا

اسلام آباد حالات کشیدہ، فوج طلب، معاملات ٹرپل ون بریگیڈ کے حوالے، ملک بھر میں دھرنے ریلیاں، 7جاں بحق سینکڑوں زخمی، وزراء کے گھروں پر حملے، اکثر سنتے تھے کہ ہم اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے جا رہے ہیں۔ریاستی و حکومتی مسائل عوام کی عدالتوں میں لے جانا تو کجا عوام کو ہلکا سا چھیڑنا بھی بہت مہنگا پڑتا ہے، اگر 20روز میں مسئلہ، حکومت سے حل نہ ہوا، خلق خدا کے راستے بند تھے تو ظاہر ہے اعلیٰ عدلیہ نے نوٹس تو لینا تھا، اب بار بار یہ کہنا کہ ہم نے جو کیا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی خاطر کیا اس میں بھی حسنِ نیت کا فقدان دکھائی دیتا ہے، عدلیہ نے تو صرف یہ کہا کہ دھرنا ختم کرائو، اب حکومت کے پاس ایک سیدھا سادہ فوری حل تھا کہ وہ وزیر قانون کو رخصت پر ہی بھیج دیتی، قصہ رفع دفع ہو جاتا، کوئی کچھ بھی کہے لیکن ختم نبوت ایسا حساس معاملہ ہے کہ پاکستان کے عوام اس بارے کسی افواہ کے متحمل نہیں ہو سکتے چہ جائیکہ اس قانون کو چھیڑا جائے، بہرحال جو ہوا افسوسناک ہے اور حکومتی نا اہلی اس سے بھی زیادہ قابل افسوس، اب تو ن لیگ کو سمجھ آ گیا ہو گا کہ فیصلے عوام کے ہوں یا حکومت کے عدلیہ ہی کرتی ہے، عوام نہیں، اب پوری قوم کو متحد ہو کر اصل فتنے کا سدباب کرنا چاہئے حکومت سے تصادم کی راہ نہ اپنائی جائے اور حکومت بھی اس وقت ٹھنڈا پانی چھڑک دیا کرے جب کہیں سے معمولی سا دھواں بھی اٹھے، ورنہ پھونکیں مارنے والے تاک میں رہتے ہیں، اور ایک چنگاری الائو بن جاتی ہے، عوام کی عدالت ہوتی ہے نہ وہ فیصلے کرنے کی مجاز، حکومت، عوام، سب کو عدلیہ سے رجوع کرنا چاہئے۔
٭٭٭٭
آزادیٔ اظہار کتھارسز ہے!
آپریشن کی براہ راست کوریج، نیوز چینلز بند، سوشل میڈیا بھی بلاک، صحافی تنظیموں نے بندش کے فیصلے کو قابل مذمت قرار دے دیا، اے پی این ایس نے کہا:سخت اقدام کے سبب افراتفری پھیلی، افواہوں نے جنم لیا، مفاد پرستوں اور ملک دشمن عناصر نے فائدہ اٹھایا اب صحافیوں اور میڈیا ہائوسز کی پراپرٹی کو بھی تحفظ دیا جائے، آزادیٔ اظہار کو روکنا دراصل انسانی کتھارسس نہ ہونے دینے کے مترادف ہے، دنیا بھر میں کہیں آزادی اظہار پر پابندی عائد نہیں کی جاتی، البتہ یہ فرض میڈیا کا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہار میں مرچ مسالہ نہ استعمال کرے، جو کیمرے کی آنکھ دکھائے اسی پر بس کریں، اور اپنے تبصروں، تجزیوں اور خبروں میں بھی ہیجان انگیزی کا عنصر داخل نہ کریں، آزادی اور مادر پدر آزادی میں فرق ملحوظ رکھنا چاہئے، جب آپ کسی کو پورا حوال باہر کا نہیں سننے دیں گے تو وہ فطری طور پر تجسس سے سرشار خود باہر نکلے گا، میڈیا اگر آزاد ہو وہ ہر خبر سے باخبر کرتا رہے تو اکثریت اپنے گھروں تک محدود رہتی ہے، یہ بندش تو ہجوم کو باہر لانے کا سبب بنی، اور افواہوں نے کام مزید خراب کیا، جب تقسیم کے وقت لاکھوں انسان مارے گئے تھے تو اس لئے کہ آج کی طرح تیز ترین میڈیا موجود نہ تھا، اور افواہ پھیل گئی کہ مسلمانوں نے سارے سکھوں ہندوئوں کو قتل کر دیا ہے اور لاشوں بھری ٹرینیں ہندوستان آ رہی ہیں، بس پھر کیا تھا بھارتی ہندوئوں سکھوں نے گائوں کے گائوں جلا دیئے، اور پاکستان آنے والوں کو راستے ہی میں کاٹ کر رکھ دیا یہ سب بے خبر رکھنے یا ہونے کے باعث ہوا، اس لئے ہم اب بھی اپنی نہایت فاضل وزارت اطلاعات و نشریات سے کہیں گے کہ وہ آزادیٔ اظہار پر قدغن نہ لگائے، نیوز چینلز کھول دے، اگر کوئی ضابطے کی خلاف ورزی کرے تو انفرادی بندش کر دے۔
٭٭٭٭
ہم تو ڈوبے ہیں صنم!
بعض اوقات کثرت گریہ میں ہنسی بھی آ جاتی ہے، اور اکثر انسانی فطرت ہے کہ جب اس کا کام خراب ہوتا ہے تو وہ دوسروں کا کام بھی خراب کرنے میں دیر نہیں لگاتا اور یاد رہے کہ اس سارے عمل میں عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، ورنہ آج حکومت اور اس کی پارٹی پر جو بپتا آن پڑی ہے وہ ابتدا ہی میں ٹل گئی ہوتی، خود ہی پھونکیں مار مار کر اپنا نشیمن پھونک ڈالا اور پھر نگر نگر کہا کیوں پھونک ڈالا؟ بھائی یہ تو خود سے پوچھ لوگوں سے کیا پوچھتے ہو، اور یہ جو عوام کی عدالت ہوتی ہے اس کے پاس تو کوئی بلیک ڈکشنری بھی نہیں ہوتی، یہ تو ایک سیلاب ہوتا ہے خدا ہی جانے کس جانب رخ کرے، اس لئے در عدل پر دستک دینی چاہئے اور فیصلے کو خوشی خوشی تسلیم کر لینا چاہئے کیونکہ رونے سے آنسو ضائع ہوتے ہیں اور آنسو کم پڑ جائیں تو نیند نہیں آتی، بیشک کسی طبیب سے پوچھ لیں، اب بھی اگر عقل کو آواز دی جائے صبر و تحمل کا سہارا لیا جائے تو ڈلے بیروں کا کچھ نہیں گیا، مگر یہ سوچ کہ جہاں ہم ہیں کہ خود سارا جہاں ہیں، ترک کر دینا چاہئے، نہ جانے کیوں بار بار عزیز بن شعیب یاد آ جاتے ہیں، جب سے انہوں نے یہ شعر کہا ہے؎
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
بخدا یہ شعر اپنے مصداق پیدا کرتا رہتا ہے، نہ وہ یہ شعر کہتے نہ لوگ اس طرح کے کام کرتے جو شامیں اداس کر جاتے، بہرحال ان کو بھی آیا ہوا تھا سو کہہ دیا، اور اچھا شعر وہی ہوتا ہے جو اپنے مطالب معاشرے میں رائج کر کے چھوڑتا ہے، بہر صورت ان کے شاعر ہونے کے لئے یہی ایک شعر ہی کافی ہے۔
٭٭٭٭
آزادی اظہار کو بھی شامل کرتے
….Oسراج الحق:حکومت کا آخری وقت آئے تو لاٹھی، گولی اور تشدد پر اتر آتی ہے،
کاش انسان کو بھی دمِ آخر یہ سہولت حاصل ہوتی۔
….Oخورشید شاہ:حکومت نے آپریشن کر کے معاملہ بگاڑ لیا۔
دراصل آپ نے ساتھ چھوڑ دیا سابقہ ریکارڈ دیکھو پھر یہ تو ہونا تھا، ویسے جب انسان ڈبل مائنڈڈ ہو جائے تو بڑے بڑے سرجن دل کا آپریشن کرتے کرتے بڑی آنت کا صفایا کر جاتے ہیں، یہ سیاست بھی سرجن کا استرا ہے بہت تیز ہوتا ہے۔
….Oمریم اورنگزیب:انتظامیہ عدالتی احکامات یقینی بنانے کی پابند ہے،
عدالتی احکامات پہلی بار آپ کو پسند آئے یہ اچھا شگون ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے