کیا حکم ہے میرے آقا !

مبارک ہو۔ایک اور دھرنا پرامن ختم ہوگیا۔اب اگلا دھرنا ٹوٹ پڑنے تک بلاخوف و خطر رہا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ خالی کرانے کے آٹھ روزہ فوجی آپریشن میں دس کمانڈوز سمیت ایک سو دو لوگ جاں بحق اور ایک سو اٹھانوے زخمی ہوئے اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک روزہ پولیس کارروائی کے دوران چودہ افراد جاں بحق اور سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔

لال مسجد آپریشن یا ماڈل ٹاؤن میں طاقت کا استعمال کسی عدالت کے حکم پر نہیں بلکہ حکومت نے اپنی صوابدید پر کیا۔فیض آباد آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کہنے پر دارلحکومت کے ڈپٹی کمشنر اور آئی جی نے کیا۔ایسا وزیرِ داخلہ احسن اقبال کہتے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ اگر دھرنا کامیابی سے اکھاڑ پھینکا جاتا تب بھی احسن اقبال، ڈی سی اور آئی جی کو مکمل کریڈٹ دیتے کہ نہیں۔البتہ اہلِ دھرنا کے ساتھ جو تحریری سمجھوتہ ہوا، اس پر ڈپٹی کمشنر یا آئی جی کے نہیں بلکہ لڑکی والوں کی طرف سے سیکریٹری اور وزیرِ داخلہ کے دستخط ہیں۔

اچھی بات ہے کہ جو ہونا تھا اکیس روز میں ہی ہو گیا۔ کسی کو یاد ہے دو ہزار چودہ کا ایک سو چھبیس دن والا دھرنا۔جب پارلیمنٹ کے لان میں کپڑے دھوکے الگنیوں پر لٹکائے جا رہے تھے۔پائپ لائن توڑ کر نہایا جا رہا تھا ، اینٹوں کے چولہوں پر کھانے پک رہے تھے۔ آس پاس ہی مٹی کے قدمچوں پر بیٹھ کر حوائج سے فراغت پائی جا رہی تھی اور دھار کا رخ پارلیمنٹ کی طرف تھا۔ججوں اور ارکانِ پارلیمان کو پتلی سڑکوں سے ہو کر دفتر پہنچنا پڑ رہا تھا۔ وزیرِ اغطم ہاؤس کا جنگلہ ، کئی پولیس افسروں کے سر اور سرکاری ٹیلی ویڑن کے دفاتر میں رکھے آلات توڑ دیے گئے تھے۔

کسی کو یاد ہے کہ کسی عدالت نے وہ والا دھرنا ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہو ؟ اور جب ڈیڈ لائن پوری نہ ہوئی ہو تو حکومت کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہو گیا ہو ؟ کسی کو یاد ہے حکومت نے طاقت کا استعمال کر کے وہ دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی ہو ؟ کسی کو یاد ہے کہ ایک سو چھبیس روز میں قانون نافذ کرنے والے دستوں کی گولی سے کوئی مرا ہو ؟ اس وقت بھی پھینٹی کس کی زیادہ لگی تھی ؟ پولیس کی کہ مظاہرین کی ؟

مقدمات تو تب بھی درج ہوئے تھے اور وہ بھی سنگین قانونی دفعات کے تحت۔کیا کسی کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے، حساس سرکاری عمارات پر حملہ کرنے، پولیس پر تشدد کرنے اور لاکھوں شہریوں کی زندگی اجیرن کرنے کے تعلق سے کسی بھی قانون کے تحت سزا ملی ؟ تو پھر فیض آباد کے اہلِ دھرنا نے بھی اگر اپنے زورِ بازو پر یہ رعائیتیں حاصل کر لیں تو کیا غلط ہوگیا۔

اٹھارویں صدی میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد وہ طوائف الملوکی مچی کہ جس کا منہ اٹھتا دلی میں گھس کے شہر کو تلپٹ کر دیتا بھلے وہ سکھ ہوں کہ مراٹھا ، نادرشاہ ہو کہ احمد شاہ ابدالی۔اسی طرح پچھلے چند برس سے جس کا موڈ ہوتا ہے، ہزار دو ہزار بندے لے کر راجد ھانی اسلام آباد پر چڑھ دوڑتا ہے اور پھر سرکار کو کبھی ٹھوڑی میں ہاتھ دے کر،کبھی ہنس کر،کبھی آنکھوں میں آنسو بھر کے، کبھی خدا کا واسطہ دے کر،کبھی بند دروازوں کے پیچھے ترلے کر کے، تو کبھی کچھ مطالبات مان کے اور سارے پولیس پرچے واپس لے کے عزت سے اہلِ دھرنا کو واپس بھیجنا پڑتا ہے۔

مولانا طاہر القادری کے دو ہزار تیرہ کے انقلابی اور عمران خان کے دو ہزار چودہ کے نظام کی شفافی کے دھرنے کے بعد مولانا خادم حسین رضوی کا دھرنا تب تک یاد رہے گا جب تک اس سے بھی اعلیٰ اور فصیح و بلیغ دھرنا سامنے نہیں آتا۔مولانا بذاتِ خود ایک زندہ کرامت ہیں۔ چند برس پہلے تک وہ بس لاہور کی ایک سرکاری مسجد میں پیش امام تھے اور انھیں لاہور اور مضافات کے بریلوی بھائی ہی جانتے تھے۔

لیکن جب گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہینِ مذہب کے شبہے میں قتل کرنے والے ممتاز قادری کو عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دی گئی تو مولانا خادم حسین نے ممتاز قادری کے مشن کا بیڑہ اٹھا لیا۔قادری صاحب کے گھر والوں کو آج بھلے زیادہ لوگ نہ جانتے ہوں مگر خادم حسین رضوی کا الحمدللہ صدرِ مملکت سے لے کر میرے محلے کے طفیلے ترکھان تک سب کو لگ پتہ گیا ہے۔

پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد جب ’’ مجھے کیوں نکالا فیم ’’نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی خالی سیٹ پر بیگم کلثوم نواز نے ضمنی انتخاب جیتا تو ان کی جیت کو یہ خبر کھا گئی کہ الیکشن کمیشن سے منظور شدہ ایک نئی نئی پارٹی تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیدوار نے بھی لاہور کے حلقہ ایک سو بیس سے سات ہزار ووٹ لیے اور پھر اتنے ہی ووٹ این اے چار پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی حاصل کیے۔اس کے بعد سے خادم حسین رضوی صاحب میں گویا جناتی طاقت آ گئی اور انھوں نے الیکشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے حلف نامے کی غلطی کو پارلیمنٹ کی جانب سے فوری طور پر تسلیم کر کے درست کرنے کے باوجود اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر اپنے حامی بٹھا کر دونوں شہروں کے لاکھوں لوگوں کو اکیس روز تک ختمِ نبوت کے عقیدے کو لاحق خطرات سے بالتفصیل کما حقہہ نہایت آسان اور سلیس عوامی اندازِ بیاں میں آگاہ کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی ڈانٹ پھٹکارکے بعد سرکار نے سنیچر کو غیرت میں آ کر ڈنڈے، ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے زور پر یہ دھرنا اٹھانے کی کوشش کی مگر رضوی صاحب کے پتھروں اور غلیلوں سے مسلح جانثاروں نے یہ کوشش ناکام بنا دی اور معاملہ کراچی تک پھیل گیا۔حتیٰ کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کہنا پڑا کہ مار سے نہیں پیار سے بات کی جائے اور پھر حکومت نے ’’ علاقہ معززین‘‘ کے کہنے پر دوسرا گال بھی آگے کر دیا۔

اسلام آباد اورنگ زیب کے بعد کی دلی مفت میں نہیں بنا، اس کے لیے جنرل ضیا کے دور سے اب تک خوب گوڈی کی گئی۔ جب ہاتھوں میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کی شکل میں الہ دین کا چراغ آیا تو اسے رگڑ کر ہم نے تو پوری فیکٹری ڈال لی۔ہر سائز،ہر ماڈل ہر نظریے کا آرڈر لے لیا گیا۔ نفرت کسی سے نہیں محبت سب سے کے اصول پر انکار کسی کو نہیں کیا گیا۔

پر مشکل یہ ہے کہ الہ دین کے جن کو ہر وقت کوئی نہ کوئی کام اور مصروفیت چاہئیے۔اب بہت دنوں سے کوئی خاص کام ہی نہیں بچا، کوئی بڑا آرڈر بھی نہیں آیا۔آپ کتنی دیر تک کسی جن کو درخت پر اترنے چڑھنے کا غیر دلچسپ کام دے کر مصروف رکھ سکتے ہیں۔چنانچہ چراغ اب جن کے ہاتھ میں ہے اور پوچھنے کی باری الہ دین کی ہے ’’کیا حکم ہے میرے آقا ‘‘؟۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے