پاکستان میں عدم استحکام کی اصل وجہ

زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کا کھلے دل و دماغ سے جائزہ لیتی ہیں اور اپنی غلطیوں سےسبق سیکھ کرترقی کی راہوں پر آگے بڑھتی ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی اورکامیابی میں سیاسی نظام مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سیاسی نظام کا بنیادی کام ملک میں موجود مختلف شناختوں، پیشوں اور قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، انہیں ایک مرکز پر اکٹھا کرنا، عوام کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کےلئے پالیسیاں ترتیب دینا اور معاشرے میں خوف اور عدم اطمینان کا خاتمہ کرکے امن اور سکون کی فضاء پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی نے سورۃ قریش میں انسانیت پر اپنے دو انعامات کا ذکر کیا جن میں ایک بھوک کی حالت ميں رزق کا میسر آنا (یعنی معاشی خوشحالی) اور دوسرا خوف کی حالت میں امن کاپیدا ہونا (یعنی سیاسی استحکام) ہے۔ اسی طرح سورۃ نحل میں قرآن حکیم نے ایک ایسے معاشرے کو بطور مثال پیش کیا جس میں رِزق کی فراوانی اور اطمینان و سکون کی کیفیات کا غلبہ تھا لیکن اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری اور اس کے احکامات کی نافرمانی کے نتیجے میں اُس معاشرے پر بھوک اور خوف کا عذاب مسلط ہوگیا۔

ہمارے معاشرے میں امن اور خوشحالی کا غلبہ ہے یا پھر بھوک اور خوف کا؟ اس سوال پر غور و فکر اور تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارےمعاشرے کی اکثریت خطِ غربت (دو ڈالر روزانہ آمدنی)سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ بنیادی انسانی حقوق انتہائی منافع بخش کاربار بن چکے ہیں اور وہ اُنہیں کو دستیاب ہیں جو اِن کی بھاری قیمت چکا سکتے ہیں۔ حکومتی اداروں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 80 فی صد سے زائد آبادی مضر ِصحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے کے حوالے سے ہمارا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 60 فی صد سے زائد بچے اور مائیں غذائی کمی کا شکارہیں۔ دوسری طرف پورے ملک میں فرقہ واریت، عدم برداشت اور تقسیم در تقسیم کا ماحول غالب ہے۔ چاہے امیر ہو یا غریب، کوئی شخص بھی اپنے آپ کو محفوظ نہيں سمجھتا۔ اسی لئے جلد از جلد زیادہ سے زیادہ مال اور وسائل حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنے خاندان کی حفاظت کرسکے۔ ایک دیہاتی اَن پڑھ سے لے کر اعلی تعلیم یافتہ شہری نوجوان تک سب کی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح وہ یہ ملک چھوڑ کرچلے جائیں کیونکہ نہ تو یہاں ان کی محنت کے قدر کی جاتی ہے اور نہ ہی انہیں سماجی اطمینان اور عزت حاصل ہے۔

اسی طرح ہمیں اپنے اردگرد کے ممالک کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔ چین جو کہ ہم سے دوسال بعد آزاد ہوا اورچینی پوری دنیا میں افیمی قوم کے طور پر مشہور تھے،لیکن آج دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے جارہا ہے۔دنیا کی تمام ترقی یافتہ ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں چینی معاشی پالیسیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ دنیا کی تقریبا 20فی صد آبادی چین میں رہائش پذیر ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے ماتحت غربت،جہالت اور بدامنی میں گھرےایشیا اور افریقہ کے خطوں میں اتنی بڑی آبادی کی خوراک، رہائش اور لباس کی ضروریات پوری کرنا کسی معجزے سے کم نہيں ہے ۔ اسی طرح ایران جہاں 1979ء میں سماجی تبدیلی کا عمل کامیاب ہوا، آج وہ دنیا میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔ ہر طرف سے امریکہ کے حواری ممالک میں گھرے ہونے کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی قومی خود مختاری کا دفاع کیا ہے بلکہ انسانی معیارِ زندگی، امن و امان، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور فنونِ لطیفہ میں بھی ترقی کا سفر طے کررہا ہے۔

یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ کیا ہمارا خطہ، یعنی بر عظیم پاک وہند ، ہمیشہ سے اِسی طرح کی بھوک، غربت یا بدحالی کا شکار رہا ہے یا پھر اس کے ماضی میں بہت سی درخشاں مثالیں بھی موجود ہیں؟ عام طور پر ہمیں جو تاریخ پڑھائی ہے یا ٹی وی وغیرہ پر دکھائی جاتی ہے، اس میں انگریز کے آنے سے پہلے کے ماضی کی انتہائی منفی منظر کشی کی جاتی ہے اور انگریز کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور مغل حکمرانوں کا تعارف عیاش، ظالم اور نااہل حکمرانوں کے طور پر کروایا جاتا ہےاور ٹی وی پروگراموں میں مزاح کے نام پر ان کی تذلیل بھی کی جاتی ہے۔ اس منفی تعارف کے برعکس جب ہم نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد ہو کر تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں مغل حکمرانوں کے ماتحت برصغیردنیا کی سب سے بڑی معیشت تھا۔ اپنی ترقی اور خوشحالی کی وجہ سے یورپ میں اِسے سونے کی چڑیا کے نام سے پکارا جاتا تھا اور پوری دنیا سے سیاح اور تاجر اِس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔لیکن انگریز کے دو سو سالہ دورِ حکومت کے نتیجے میں برصغیر ایک بدحال ، قحط زدہ، جاہل اور لڑائی جھگڑوں پر مبنی خطے میں تبدیل ہوگیا۔یورپی طاقتوں کے دنیا پر اس غاصبانہ قبضے کو نوآبادیاتی نظام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے خلاف پوری دنیا میں آزادی اور حریت کی تحریکیں چلیں اور ایشائی اور افریقی اقوام نے آزادی حاصل کی۔

اب چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔ پاکستان میں عدم استحکام کا پہلا سبب جدید نوآبادیاتی نظام کا غلبہ ہے۔ جدید نوآبادیاتی نظام سے مراد یہ ہے کہ انگریز بظاہر تو اس خطے سے چلا گیا لیکن جاتے جاتے وہ اقتدار ایسی سیاسی قیادت اور افسرشاہی کے حوالے کرگیا جو کہ ذہنی اور عملی حوالے سےانگریزوں کی غلام اور ان کی وفادار تھی۔ آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری سول اور ملٹری افسر شاہی کوعوامی خدمت کے اصول پر نئے خطوط پر استوار کیا جاتا اور ہماری سیاسی قیادت ملک و قوم کے مفاد میں داخلہ اور خارجہ پالیسیاں ترتیب دیتی ۔لیکن اِس کے برعکس افسرِ شاہی کے اداروں میں آج بھی غلام اور آقا کی نفسیات غالب ہے جہاں وہ اپنے آپ کو اعلی و اَرفع اور عوام کو حقیر ،بدتہذیب اور جاہل ہی خیال کرتے ہیں۔اِسی طرح یہاں کی سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی ترجیحات کو نظر انداز کرکےہمیشہ سات سمندر پار آقا‎ؤں کے مفادات کے لئے پالیسیاں مرتب کیں اور داخلی سطح پر بھی پالیسیاں ترتیب دیتے وقت محض اپنے شخصی ،گروہی اور طبقاتی مفادات کو مدنظر رکھا۔ عجیب صورت حال یہ ہے کہ ملک کی قسمت کے فیصلے آج بھی لندن ، دبئی، ریاض اور واشنگٹن میں طے پاتے ہیں اور جیسے ہی ملکی نظام اپنے اندرونی تضادات کی وجہ سے انتشار کا شکار ہوتا ہے، فوراً سب کو بیرون ِ ملک حاضر کرکے مستقبل کے حوالے سے معاملات طے کرلئے جاتے ہیں۔

ملک میں عدم ِاستحکام کا دوسرا بڑا سبب معاشی خود انحصاری کا نہ ہونا ہے۔ اپنی تخلیق سے لے کرآج تک، ماسوائے پہلے بجٹ کے، ملک کے تمام بجٹ خسارے کے بنتے رہےہیں۔ یعنی اخراجات زیادہ ہیں اور آمدنی کم ہے ۔ اِس خسارے کو پورا کرنے کے لئے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے سامراجی اداروں سے قرض لئے جاتے ہیں جوکہ آگے چل کر اپنی مرضی کی سیاسی اور معاشی پالیسیاں بنواتے ہیں۔ اِس سونے پر سہاگہ ہمارے حکمران طبقے کا رہن سہن اور طرز زندگی ہے۔ بجائے اِس کے کہ ہمارے حکمران اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سادگی اور قربانی کو اپناتے، الٹا انہوں نے عیش و عشرت اور نمود ونمائش کا وطیرہ اپنایا ۔ ہمارے حکمران جب دنیا کے دوسرے ممالک میں عوام کے نام پر بھیک مانگنے جاتے ہیں تو وہاں کی قیادت ان کے اللّے تللّے دیکھ کر پریشان رہ جاتی ہے کہ کیا یہ واقعی تیسری دنیا کے ایک ملک کے حکمران ہیں جہاں عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات سے محروم ہے اور ہر طرف بھوک، غربت ، بدامنی اور جہالت کا راج ہے! آپ ہی سوچئے کہ جس گھر کے اخراجات زیادہ اور آمدنی کم ہووہ کیسے ترقی کرسکتا ہے۔ جس طرح گھر میں والدین بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اپنی ذات ،خواہشات اورآرام کی قربانی دیتے ہیں اسی طرح کسی قوم کی قیادت اس کے والدین کی طرح ہوتی ہےجن کا ذمہ داری خود قربانی دے کر اپنی اولاد کے معیار زندگی کو بلند کرنا ہونا چاہیے۔ اب والدین اگر خود موج مستی اور فضول خرچی میں لگے رہیں اوربچوں کو بھوکا، پیاسا اور ان پڑھ چھوڑ دیں تو ایسا گھر کیسے آگے بڑھ سکتا ہے!

پاکستان میں عدم ِاستحکام کی تیسر ی وجہ ملک میں جاگیرداری نظام کی موجودگی ہے۔ انگریز جو کہ پَندرہویں اور سولہویں صدی میں اپنے علاقوں میں جاگیرداری کا خاتمہ کررہا تھا، وہی انگریز جب یہاں آیا تو اس نے یہاں بدترین قسم کا جاگیرداری نظام قائم کیا۔ انگریز کی آمد سےپہلے زرعی زمین ریاست کی ملکیت سمجھی جاتی تھی جسے انتظامی بنیادوں پر سنبھالنے کے لئے افراد کے تصرف میں دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس جن افراد اور خاندانوں نے اس خطے کی آزادی کی جدوجہد میں غداریاں کرتے ہوئے انگریزوں کی مدد کی، انگریزوں نے انہیں خوب نوازا اور وسیع وعریض زمینیں ان کی نجی ملکیت میں دے دیں۔ جاگیرداری نظام میں محنت تو کسان اور ہاری کرتا ہے لیکن اکثریتی پیداوار پر قبضہ جاگیر دار کا ہوتا ہے۔ کسان اور ہاری ایک طرح سے جاگیردار کے غلام ہوتے ہیں اور ان کے سیاسی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ جاگیردار کے مزارعوں کی ساری زندگی جاگیردار کو خوش کرنے میں گزر جاتی ہے۔آزادی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے پڑوسی اوردنیا کے دیگر ممالک کی طرح ملک سے اس لعنت کا صفایا کرتے اورزرعی اصلاحات کے زریعے یہاں کے محنت کشوں اور کاشت کاروں کو زمین کا مالک بناتے لیکن اس کے برعکس یہاں کی سیاسی جماعتوں او ر بیوروکریسی نے جاگیرداری نظام کا تحفظ کیا کیوں ملک کی خالق جماعت کی اکثریت اِنہیں جاگیرداروں پر مشتمل تھی اور وہ اِسی شرط پر مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے کہ اِس کے بدلے میں اُن کی جاگیروں کو برقرار رکھا جائےگا۔ چند بڑے شہروں کو چھوڑ کر ہم آج بھی ایک قبائلی اور جاگیرداری سماج میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جاگیرداری نظام کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی ایک وسیع اکثریت غلاموں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہےبلکہ ہم اپنی قابلِ کاشت زمین سے مناسب پیداوار حاصل کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہونے کے باوجود ہم اپنی آبادی کی ضرورت کا اناج اور سبزیاں اگانے میں ناکام ہیں۔سبزیاں اور دالیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں اورہم آلو ، پیاز اور ٹماٹر جیسی سبزیاں بھی باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ اِسی طرح دور حاضر میں کوئی بھی ملک صنعتی ترقی کے بغیر اپنے معاشی مسائل حل نہیں کرسکتا ہے۔ جاگیرداری نظام اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے رویے ملک میں صنعتی ترقی کے راستے میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن چکےہیں۔

ملکی عدمِ استحکام کی چوتھی بڑی وجہ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کانفاذہے۔ سرمایہ داریت ایک ایسے غیر فطرتی نظام کا نام ہے جس میں مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت سرمائے کو حاصل ہوتی ہے اور انسانیت سرمائے کے تابع قرار پاتی ہے۔ کامیابی، ناکامی، عزت، ذلت اور مرتبے کا واحد معیار سرمایے کا حصول بن جاتا ہے۔ انسانی محنت کی قدرو قیمت ختم ہوجاتی ہےاور ہرفیصلے کا اختیار سرمائے کے مالک کے پاس آجاتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کی ایک اور خاصیت وسائل دولت اور اختیارات کا چند ہاتھوں میں اکٹھے ہوجانا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ایسے قوانین اور اصول و ضوابط ترتیب ديے جاتے ہیں کہ محنت تو معاشرے کی اکثریت کرتی ہے لیکن ان کی محنتوں سے پیدا شدہ منافع ایک مخصوص راستے سےایک اقلیت کے ہاتھ میں مرتکز ہوتا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتے جاتے ہیں۔ ایک طرف اتنی دولت اکٹھی ہونے لگتی ہے کہ اُنہیں خرچ کرنے کی جگہ نہیں ملتی اور وہ اُسے خرچ کرنے کے لئے نمود و نمائش اور عیش پرستی کے نئے سے نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں یا پھر اس دولت کو چھپانے کے لئے سوئس بینکوں اور دوسرے آف شور اکاؤنٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری طر ف انسانوں کی وسیع اکثریت خوراک، لباس، رہائش، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔ صحت، تعلیم اور صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حقوق بھی طبقاتی بنیادوں پر قیمتاً ملنے لگتے ہیں۔ سرمایہ داریت انسان میں لالچ، ہوس ، دکھاوااور دوسرے انسانوں کو روند کر آگے بڑھنے کی ایسی ذہنیت پیداکرتی ہے جس کے نتیجے میں انفرادیت اور نفسانفسی کاماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان اپنی انسانیت سے گر کر درندہ بن جاتا ہے اور معاشرہ جہنم کا نمونہ پیش کرنے لگتا ہے۔

سرمایہ داری نظام میں تمام ریاستی ادارےبشمول پارلیمنٹ ،انتظامیہ، عدلیہ اورمیڈیا سرمائے کے تحفظ اور بڑھوتری کے لئے کام کرتےہیں یہاں تک کہ تعلیمی نظام اور مذہبی ادارےبھی اپنی ساری کوششیں سرمایہ داری نظام کو جواز بخشنے اور اسے فطرت کے عین مطابق ثابت کرنے میں صرف کردیتے ہیں۔ دانشور اور مذہبی راہنماء خود تو عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں لیکن عوام کو ظلم و استحصال پر صبر، شکر اور دنیا کی نعمتوں سے کنارہ کشی کی تلقین کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتےہیں کہ یہ دنیا کی زندگی تو عارضی ہے، تمہیں آخرت میں جنت کی شکل میں اس کا اجر ملے گا۔ اِس ذہنی پروگرامنگ کے زریعے وہ مروجہ استحصال کو بالواسطہ مذہبی اور علمی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

یوں تو سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہی انسانیت کے استحصال پر قائم ہے لیکن ہمارے ملک میں سرمایہ داری نظام کی بھی بدترین شکل رائج ہے جہاں قانون کی بالادستی کی بجائے قانون طاقتور کی لونڈی بن چکا ہے اور میرٹ کی بجائے اقرباء پروری اور دھونس دھاندلی کا دور دورہ ہے۔ دوسری طرف جدید صنعتی ترقی بھی انتہائی محدود درجے پر موجود ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور ایجادات کی بجائے ہم محض ایک صارف معاشرہ بن چکے ہیں اور سرمایہ دار اپنے منافعوں میں اضافوں کے لئے مزدور کا زیادہ سے زیادہ خون نچوڑنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس، بجلی اور گیس چوری میں مصروف ہے۔سرمایہ داری نظام میں سیاسی عمل بھی سرمائے اور جاگیر کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے اس لئے جمہوریت ایک پرکشش اور پرفریب نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ عوام کی اکثریت دولت اور جاگیر نہ ہونے کے سبب سیاسی عمل میں محض ایک تماشائی کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور عملی طور پر معاشرے میں سرمائے کی آمریت نافذ ہوجاتی ہے۔سرمایہ داری نظام کا لازمی نتیجہ انسانوں میں انفرادیت، خود غرضی اور بے حسی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہر فرد، گروہ اور ادارے کی یہ سوچ بن جاتی ہے کہ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا تمہیں کھائے تم آگے بڑھ کر اسے کھا جاؤ۔

قومی عدم استحکام کی پانچویں بڑی وجہ ملک میں طبقاتی بنیادوں پر رائج نظام تعلیم ہے۔ معاشی تنگدستی کی وجہ سے ایک محتاط انداز ے کے مطابق ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔یعنی قوم کی اکثریت کو بے علم رکھ کرآپ نے انہیں ابتداء سے ہی زندگی اور ترقی کی دوڑ سے باہر کردیا ہے۔ بقیہ بچے بھانت بھانت کے تعلیمی اداروں میں اپنے والدین کی معاشی حالت، پس منظر اور ذہنی مزاج کے مطابق زیر تعلیم ہیں۔ انگریز نے دین و دنیا کی تعلیم کی علیحدگی کا جو درس ہمیں دور غلامی میں پڑھایا تھا ہم آج بھی اسی سبق کو دہرا رہے ہیں ورنہ مسلمانوں کے عروج کے دور میں کبھی بھی دو طرح کے تعلیمی نظام رائج نہیں رہے۔ جس تعلیمی ادارے سے ایک مذہبی عالم نکلتا تھا اسی ادارے سے ایک صوفی، حکومتی اہلکار، فنون لطیفہ اور صنعت و حرفت کا ماہر تعلیم پاتا تھا۔تعلیمی اداروں میں سب سے بڑی تقسیم مذہبی اور عصری اداروں کی ہے۔ گویا دنیا کی کامیابی کی تعلیم کچھ اور ہے اور دین کی کامیابی کی تعلیم کچھ اور ہے اور ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضد بنا دیا گیا ہے۔مدرسے سے پڑھنا والا عصری تعلیم حاصل کرنے والے کو گمراہ، مغرب زدہ اور کم تر مسلمان سمجھتا ہے، دوسری طرف عصری اداروں سے پڑھنے والا مدرسے میں پڑھنے والے کو جاہل، شدت پسند اور دقیانوس سمجھتا ہے۔پھر مذہبی اداروں میں مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہے کہ یہ بریلویوں کے مدرسے ہیں ،یہ دیوبندیوں کی، یہ اہلحدیثوں کے اور یہ شیعوں کے ۔یہاں تعلیم کا واحد مقصد اپنے فرقوں کو درست اور بقیہ فرقوں کو غلط ثابت کرنا رہ گیا ہے۔ اسی طرح عصری تعلیمی ادارے بھی تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ ایک طرف سرکار کےبنائے گئے سرکاری سکول ہیں تو دوسری طرف گلی محلے کے پرائیویٹ سکول ہیں،تیسری طرف متوسط طبقے کےلئے پبلک سکولز سکول ہیں۔تینوں طرح کے تعلیمی اداروں کامقصد سستے مزدور اور نظام کو چلانے والے کلرک پیدا کرنا ہے۔ چوتھی طرف اشرافیہ کے لئے ایچی سن ،لمز، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے ادارے ہیں جہاں نجی اداروں کو چلانے والی قیادت اور مستقبل کے حکمران پیدا کئے جاتے ہیں۔ اب آپ ہی سوچئے کہ اتنی مختلف طرح کے تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے کے بعد نوجوان کیسے کسی مشترکہ قومی سوچ پر اکٹھے ہوسکتے ہیں۔ طبقاتی اور دینی و عصری تقسیم پر قائم ہمارا تعلیمی نظام انگریز کی قائم کردہ ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی کو برقرار رکھنے کا سب سے پر اثر زریعہ بن چکا ہے۔

ملکی عدم استحکام کی چھٹی بڑی وجہ ریاستی اداروں میں دائمی ٹکراؤ کی کیفیت کاموجود رہنا ہے۔ ایک ترقی پذیر معاشرے میں تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبو دمیں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک استحصالی معاشرے میں افراد کی طرح ادارے بھی زیادہ سے زيادہ طاقت، اختیارات اور وسائل کے لئے باہم دست و گریباں رہتے ہیں۔ اس کی واضع مثال ہم اپنے معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں جہاں ستر سال سے سول و ملٹری بیوروکریسی، عدلیہ اور سیاست دان مستقل ٹکراؤکی کیفیت میں ہیں۔ ہر ادارہ یہ تاثر دے کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ یہ سب عوام کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لئے کررہا ہے، لیکن حقیقت میں تمام لڑائی جھگڑا محض اس بات پر ہوتا ہے کہ عوام کی لوٹ مار پر مبنی کیک کی تقسیم کی اتھارٹی کس کے پاس ہوگی تاکہ وہ کیک کا زیادہ سے زیادہ حصہ اپنے ادارے، خاندان یا طبقے کے لئے اکٹھا کرسکے۔ ایسے میں میڈیا بھی دن رات ان کے مصنوعی اختلاف کو اجاگر کرکے عوام کو لایعنی بحثوں میں الجھائے رکھتا ہے تاکہ وہ کبھی بھی اپنے حقیقی مسائل اور ان کے اسباب پر غور و فکر کرسکے۔ انتمام لڑائی جھگڑوں کے باوجود یہ ادارے عوام کا خون چوسنے پر متفق اور متحد ہیں۔

مندرجہ بالا صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا کیا جائے؟ راقم کی ناقص رائے میں اس ضمن میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ نوجوانوں میں عقل اور عمل دونوں کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بچے عقل سے محروم جبکہ بوڑھے بیشتر اوقات علم و عقل رکھنے کے باوجود عمل سے قاصر ہوتے ہیں۔ جس قوم کا نوجوان اپنے حقوق وفرائض کا تعارف حاصل کرلے اور اپنے اندر عقل و شعور، اجتماعیت اور نظم وضبط پیدا کرلے اس قوم کو ترقی کی منازل حاصل کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ہمارے مسائل کے حل کے راستے میں جو دو سب سے بڑی رکاوٹیں حائل ہیں ان میں سے پہلی مایوسی ہے اور دوسری انفرادیت اور خود غرضی کی سوچ ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارا نوجوان مستقل بنیادوں پرباہمی مکالمے اور مذاکرے کا آغاز کرے۔ ایسی نشستوں میں شرکت کی کوشش کرے جہاں قومی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے بات ہوتی ہو۔ اگر ایسی نشستیں دستیاب نہ ہوں تو اپنے طور پر اُن کے آغاز کی کوشش کرے۔ اپنے ملکی حالات پر غور وفکر کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم نے اپنی آزادی کے ستر سال میں کیا کھویا اور کیاپایا اور جس سمت میں ہم جارہے ہیں کیا اس پر چل کر ہم دنیا کی با‏عزت اور ترقی یافتہ قوموں میں اپنا مقام بنا سکیں گے؟ اِن سوالوں پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں رائج مختلف نظاموں کا اپنے دین اور تاریخ کی روشنی میں مطالعہ کرے، اپنے اندر نظم و ضبط، ڈسپلن ، قربانی کا جذبہ اور قیادت کی صلاحیت پیدا کرے ۔ خود بھی مایوسی اور انفرادیت کی سوچ سے نکلے اور دوسروں کوبھی اپنے قول و فعل سے قائل کرے۔ پھر ہی ایک ایسی اجتماعیت (پلیٹ فارم) کا قیام عمل میں آسکے گا جو سرمائے اور جاگیر کی آمریت پر مبنی مروجہ نظام کو جڑ سے اکھاڑکر اُس کی جگہ قومی جمہوری بنیادوں پر سماجی تبدیلی پیداکرے گی اور معاشرے میں مساویانہ بنیادوں پر معاشی خوشحالی اور امن و اطمینان کو یقینی بنائے گي۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے