وزیرقانون کااستعفااورعقیدے کاسرٹیفیکیٹ

چند برس اُدھر کی بات ہے۔ کیو موبائل نیا نیا مارکیٹ میں آیا تو اس نے اپنی بیٹری ٹائمنگ اور ڈبل سم کارڈ کی سہولت کی بنا پر پاکستانی لوئر مڈل اور ورکنگ کلاس میں کافی مقبولیت حاصل کر لی۔ یہ صورت حال باقی کمپنیوں کے لیے پریشان کن تھی۔ انہوں نے کیو موبائل کو دبانے کی بڑی کوشش کی لیکن اس کا جادو اب سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ جب کوئی ترکیب کارگر نہ ہوئی تو کسی ذہن رسا نے انہیں بتایا کہ مذہب سے کمک لو اور پھر دیکھو تماشا ، چنانچہ اس کے بعد ایک دن ہم نے وہ ٹیکسٹ میسج وائرل دیکھا جس میں’ انکشاف ‘کیا گیاتھا کہ کیو موبائل قادیانی کمپنی ہے ، دلیل دی گئی کہ آپ ان کے فونز میں لفظ ’محمد ‘ٹائپ کر کے دیکھیں تو وہ درست دکھائی نہیں دیتا۔ عام لوگ اس افواہ پر’ ایمان‘ لے آئے۔ حالانکہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ سافٹ وئیر ابھی ایسا ڈویلپ نہیں ہوا تھا جولفظ’ محمد‘ کو نوری نستعلیق فونٹ میں میں دکھا سکے۔ لفظ کے ہجے مکمل تھے اور کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔لیکن جب بات مذہبی حساسیت سے مربوط ہو جائے تو دلیل کم ہی سنی جاتی ہے۔

یہ صورت حال کیو موبائل کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔ انہوں نے ہزارہاوضاحتیں پیش کیں لیکن چونکہ عقیدے کا ہتھیار استعمال ہوا تھا تو کوئی یقین کرنے کو تیار نہ تھا ۔ بالآخر کار کیو موبائل کی انتطامیہ نے دفتر تحریکِ ختمِ نبوت سے رابطہ کیا اور وہاں سے اپنے مسلمان اور ختم نبوت پر کامل یقین رکھنے کا سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ انہیں بعد میں وہ تصدیقی سرٹیفکیٹ ملک کے دو تین نمایاں قومی اخبارات کے صفحۂ اول پر شائع کرانا پڑے۔ اس طرح کافی کوشش کے بعد’ مہربانوں‘ کے اس وار کا کسی حد تک اثر زائل ہوا۔

اب ذرا اور پیچھے جائیں ۔ ایک اور مثال بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈنمارک سے شائع ہونے والے ایک میگزین نے توہین مذہب پر مبنی خاکے بناکر دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا تھا۔ عرب ممالک میں مغربی مصنوعات کا محدود وقت تک بائیکاٹ بھی کیا گیا۔یہاں پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پرجلسے جلوس ہوئے ۔ انہی دنوں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے خلاف بائیکاٹ مہم چلی ، اس کمپنی کے بارے میں کہا گیا کہ چونکہ اس ملک نے چونکہ ہمارے مذہب کی توہین کی ہے ،جہاں کی یہ کمپنی ہے ، لہذا اس کی کمپنی کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اہل جبہ و دستار اس مہم میں پورے خلوص کے ساتھ بروئے کار آئے۔ انہوں نے تقریروں کے ذریعے لوگوں کی مذہبی جذبات کو چارج کیا، اشتعال سوا ہوا گیا ۔

پھر ایک روز اسلام آباد میں اس ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے ہیڈ آفس کے سامنے بڑا احتجاج ہوا ، اس احتجاج میں مدارس کے طلبہ اور مذہبی جماعتوں کے ارکان کی بڑی تعدادشریک تھی ، وہ فلک شگاف نعرے لگارہے تھے اور مقررین مسلسل انہیں گرما رہے تھے۔ پھر اس ہجوم نے دفتر کے سامنے اس کمپنی کے سِم کارڈز نکال کر نذر آتش کر دیے ، یوں اپنے جذبے کے ساتھ ’مخلص ‘ عام لوگوں کے دِل کی بھڑاس نکل گئی ۔ بعد میں کچھ باخبر افراد نے بتایا کہ اس احتجاج کو بھی بیچا گیا تھا ۔ لوگ چونکہ مشتعل تھے ، اس اشتعال کو ایک اور بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے اپنی حریف کمپنی کے خلاف استعمال کرنے کا سوچا۔ بیچ کی ایک ’پارٹی‘ نے اس حریف کمپنی سے مذہبی گروہوں کے ذریعے دوسری کمپنی کی ساکھ ’گرانے ‘کی قیمت وصول کر لی۔دوسری جانب بلاشبہ وہ سراپا احتجاج مذہبی کارکن اپنے جذبے کے ساتھ مخلص تھے لیکن نہیں جانتے تھے کہ ان کے جذبے کی قیمت کس نے کہاں ، کتنی اور کس نے وصول کر لی ہے۔ پتا چلا کہ اس جہاں تگ دو میں متوازن زندگی کرنے کے لیے محض اخلاص کافی نہیں ہوتا.

یہ دونوں واقعات مجھے ایک تصویر دیکھ کر یاد آئے۔ یہ تصویر حال ہی میں ایک مذہبی گروہ کے 21 روزہ دھرنے کے بعد مستعفی ہوجانے والے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی ہے۔ وہ خانہ کعبہ کے سامنے حالت احرام میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں.یوں لگتا ہے کہ انہوں نے یہ تصویر’ اہتمام‘ سے بنوائی ہے تاکہ سوشل میڈیا اور چوکوں میں لوگوں کے عقیدوں کے فیصلے کرنے والوں کو یہ باور کرا سکیں کہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ۔ انہوں نے استعفا دیتے ہوئے طویل نوٹ بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے اسلام سے لگاؤ اور ان کی لاہور کی مشہور درگاہ دربار حضرت میاں میر کے قبرستان میں تدفین کا ذکر کیا ہے ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اہلیہ بھی اسی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں اور انہوں نے خود اپنے لیے بھی اسی قبر کے پہلو میں جگہ مختص کروا رکھی ہے ۔ زاہد حامد نے اپنے نوٹ میں درگاہ کے قریب زمین کے اس چند گز ٹکڑے کا میسر آنا ، اپنی خوش قسمتی قرار دیا ہے ۔

مستعفی ہونے والے وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کی تازہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے

اس سے قبل فیض آباد دھرنے کے ابتدائی دنوں میں جب ان کے خلاف دھرناقائدین نے اشتعال انگیز گفتگو کی تو انہوں نے ایک ویڈیو بنا کر سوشل پر چلائی جس میں وہ اپنے اسلام اور ایمان کی یقین دہانی کروا رہے تھے ۔ لیکن اکثرلوگ ایسی وضاحتیں نہیں سنتے ۔ وہ صرف اہل جبہ ودستار کی جنبش لب کے منتظر رہتے ہیں ۔ان لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ فیض آباد دھرنے کے آخری لمحات میں بات چیت جاری تھی تو دھرنا قائدین کو یہ کہتے بھی سنا گیا کہ’’ اگر زاہد حامد استعفا دے دے تو ان کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا جائے گا‘‘ گویا یہ فتویٰ نہ ہوا ، توپ ہوئی۔

یہ انتہائی خطرناک صورت حال ہے ۔ اس سے قبل پاکستان میں جہادی عناصر ایک قوت کے طور پر موجود رہے ۔اور انہیں کبھی کھلے عام تو کبھی درپردہ ریاست کی پشت پناہی حاصل رہی ۔ طالبان کا معاملہ تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ شروع میں وہ سب اچھے قرار پائے ، افغانستان کی امریکہ روس جنگ کو جہاد قرار دیا گیا اور انہیں فریڈم فائٹرز۔ جب استعمار کے مقاصد پورے ہوئے تو پالیسی بدل گئی ۔ پھر پہلے وہ آدھے بُرے قرار پائے اور اب کچھ سالوں سے سب کے سب ’گندے بچے ‘ کہلائے جاتے ہیں ۔

طالبان کے منظر سے ہٹنے کے بعد خیال تھا کہ اب پاکستان آگے کی سمت سفر کرنے لگا ہے لیکن سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں پھانسی پانے والے ممتاز قادری کی موت نے ایک بار پھر اس ملک کو انتہاپسندی کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ ایک سے زائد وجوہ ہیں ، جنہیں دیکھ کرعقیدے کی بنیاد پر جاری اس نئی لہر کوپہلے کی نسبت زیادہ خطرناک قرار دیا جاسکتا ہے ۔ اب کی بار اس مقصد کے لیے جو مذہبی گروہ بروئے کار آئے ہیں ، وہ تعداد کے اعتبار سے پہلے گروپوں سے کہیں زیادہ ہیں اور ان کے پاس درگاہوں کی ’ادارے‘ کی وجہ سے مرشد کے جنبش ابرو پر جان قربان کر دینے والے لاکھوں عقیدت گزاروں کی قوت موجودہے ۔ اس قوت کا تازہ ترین مظہر ہم دارالحکومت کی21روزہ ناکہ بندی کی صورت میں دیکھ چکے ہیں، جو حکومت کی پسپائی پر منتج ہوئی۔

فیض آباد دھرنے کے دوران کئی لوگوں نے تو اسٹیبلشمنٹ پر دھرنوں کی پشت پناہی کا الزام تک عائد کردیا

یہ بات بالکل بجا ہے کہ بحرانوں کی شکار حکومت نے اس حساس معاملے کو مناسب طریقے سے ڈیل نہیں کیا ، مسلسل حماقتوں کی وہ مرتکب ہوتی رہی۔غیر جمہوری قوتوں( جنہیں عُرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے) پر کئی جہات سے سوالات اٹھائے گئے۔ کئی لوگوں نے تو اسٹیبلشمنٹ پر دھرنوں کی پشت پناہی کا الزام تک عائد کردیا۔کئی بار سول اور عسکری قیادت کے درمیان واضح خلیج محسو س کی گئی۔اس ساری صورت حال میں بظاہر حکومت چاروں شانے چت ہوئی لیکن اس دھرنے کے پورے سماج پرپڑنے والے دیرپا منفی اثرات کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔

میں قنوطی ہر گزنہیں ہوں لیکن انتہا پسندی کی تازہ لہر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں شہریوں کو اپنے عقیدوں کے تصدیق شدہ سرٹیفیکٹ ساتھ رکھنے پڑیں گے ۔اور کسی سوال اٹھانے والے کے اطمینا ن کے لیے مقدس مذہبی مقامات پراپنی تصاویر بنا کر تصدیقی سند کے ساتھ لَف بھی کرنا ہوں گی مبادا کہ کوئی بپھراہوا گروہ انہیں کافر قرار دے کر جینے کے حق سے محروم کر دے ۔ خاکم بدہن!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے