جنریشن گیپ اوربچے نئےعہد کے

جنریشن گیپ کا تذکرہ ہم اکثر اپنے اردگرد سنتے رہتے ہیں اور ان کا تجربہ ہوتا ہوا بھی دیکتھے ہیں ،پہلا تجربہ ہمارے والدین ،خاندان کے بڑے بزرگوں اور اساتذہ سے شروع ہوتا ہے جن کی نظر میں آج کی نوجوان نسل کسی کام کی نہیں سستی ،کاہلی،اور کام چوری ان کی رگ رگ میں بس چکی ہے ۔اگر دو بزرگ اکٹھے کہیں بیٹھے ہوں تو ان کی گفتگو کا موضوع نئی نسل کی عادات ،تعلیم اور شخصیت ہوتا ہے وہ اپنی یا اپنے بزرگوں کی اخلاقی تربیت ،اعلی اخلاق کی پاسداری ،قابلیت ،اصول پسندی اور احترام آدمیت کو کچھ اس طرح بیان کر رہے ہوتے ہیں جیسا کہ تمام اخلاقی قدریں ان کی نسل سے شروع ہو کر ان پر ہی ختم ہو گئی ہوں ۔

جنریشن گیپ کا تصور 1960 سے مغربی دنیا سے آیا جس کا مطلب دو مختلف ادوار کی نسلوں کا مختلف سوچ و فکر اور نظریے کے ساتھ ایک ہی جگہ پر ایک دوسرے کے ساتھ رہتا ہے ۔خاص طور پر والدین اور اولاد اس کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں کیونکہ والدین اور اولاد کے درمیان پائے جانے والے تناؤ کی کی وجہ یہی جنریشن گیپ ہے ۔1940 کی دہائی کے بعد پچاس کی دہائی کا آغازہوا تو نوجوان نسل اور ان کے درمیان نظریاتی اختلافات میں فرق دن بدن بڑھتا گیا الغرض رہن سہن ،ثقافت ،تعلیم ،موسیقی ،سیاحت ،سوچ ،نظریات ،اخلاقی اقدار حتی کے بنیادی حقوق کے حصول میں بھی فرق آگیا ۔

نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فرق کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے وہ جدید ٹیکنالوجی کا ہماری زندگی میں بڑھتا ہوا عمل دخل ہے پچھلی دہائیوں میں دو دو تین تین نسلیں اکٹھی ایک ہی گھر میں خوش رہا کرتی تھیں بغیر کسی اختلاف کے آج کی جدید ٹیکنالوجی نے باپ کو بیٹے سے اور بیٹے کو باپ سے دور کر دیا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی سوچ میں تبدیلی آتی گئی جس کی وجہ سے وہ کہیں اگے نکل گئی ،کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے’’ اگر دو افراد ایک ساتھ بیٹھے ہوں لیکن ایک دوسرے سے کہنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ یقیناًباپ بیٹا ہوں گے ‘‘

رشتے کے لحاظ سے اتنا قریب برتاؤ کے حوالے سے اتنے دور ،یہ جذبہ احترام کا دراصل اعجاز ہے پتہ نہیں ایسا کیونکر ہوا کہ باپ کو محترم بنا کر اولاد سے کوسوں دور کر دیا گیا اور اس دوری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’فادر ہیوسٹلیٹی‘‘ کا جذبہ پیدا ہوا اور اس ’’لو ہیٹ‘‘ کے تعلق کی وجہ سے دو نسلوں باپ اور بیٹے کے درمیان جنریشن گیپ کا مسئلہ وجود میں آیا ۔

سیانے کہتے ہیں احترام ایک دیوار ہے جو محترم اور احترام کرنے والے کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہے جو کبھی بھی دونوں کو ایک دوسرے کے قریب نہیں آنے دیتی ،قرب کے وجود کو رشتوں کے درمیان سے ختم کر دیتی ہے اور خوف کو پیدا کرتی ہے ،خوف مثبت نہیں منفی جذبہ ہے اور احترام کا جذبہ باہمی محبت کے امکانات کو کم کر دیتا ہے ۔خاص کر باپ اور بیٹے کے رشتے کو دیکھا جائے تو بیٹے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ باپ کا احترام کرے اور پھر یہی احترام ان دونوں کے درمیان جنریشن گیپ کی بڑی وجہ ثابت ہوتا ہے ۔

اگر ہم آج کے نوجوان پر نکتہ چینی کریں تو ان کاجواب ہوتا ہے کہ یہ سب ہمارے بڑوں کا قصور ہے جنھوں نے ہماری تربیت ٹھیک سے نہیں کی بڑوں نے ہمیں حقیر جانا ،ہمیں کبھی بولنے نہیں دیا اور ہمارے دلوں میں خوف کے جالے بن دیے اگر سوچا جائے تو نوجوان نسل کی یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ انھیں کبھی بڑوں نے بولنے کا موقع نہیں دیا اگر کہیں غلطی سے کسی نے بولنے کی جسارت کر لی تو انھیں شٹ اپ کی کال دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے ۔

اگر بچوں کے دلوں میں والدین کا خوف ڈنڈے کے ڈر کی بنیاد پر نہ ہو اور ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ انھیں اعتماد بھی دیں کہ وہ اپنے دل کی بات بلا جھجک ان سے شیئر کر سکتے ہوں تو کسی حد تک جنریشن گیپ کا مسئلہ جو دو نسلوں کے درمیان قائم ہو چکا ہے پچھلی کئی دہائیوں سے وہ کسی حد تک ختم ہو سکتا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے