سر رہ گزر

سعد رفیق کہتے ہیں:ہمیں گرائیں، آپ کو بھی نہیں چلنے دیں گے ریڈ لائن پار نہ کریں، پھر ہم بھی اتنے اچھے نہیں اور وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے:سیاستدان شب خون مارنا چاہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ وہ کھڑا ہے جون، ذرا سا صبر کر لیا جائے تو میٹھا پھل مل سکتا ہے، مگر یہ کچے بیر توڑنے کے لئے اچھل اچھل کر بیری کی شاخیں چھیڑنے سے اپنی ہی انگلیاں زخمی ہوں گی اورگلا بھی خراب ہو گا، کیونکہ؎
جنے کھادے کچے بیر
مالی پے گیا اوہدے ویر
خاقان عباسی ساڈا شیر
باقی سارا ہیر پھیر
سعد رفیق کے بارے میں ہم ریڈ لائن کراس کرنے والوں کو اتنا بتا دیں کہ وہ کوڑا پیاز ہیں، ’’چک‘‘ نہ ماریں ورنہ پچھتائیں گے، ویسے خدا لگتی تو یہ ہے کہ یقین کریں حکومت ایک باقاعدہ حکومت ہے، جس کے سارے اعضاء پورے ہیں، وہ ہرگز لولی لنگڑی، گونگی، بہری، ٹنڈی نہیں کہ حکومت گرانے والے آسانی سے اسے چت کر دیں گے۔ سعد رفیق کے لہجے میں عاجزی کا بھی ناجائز فائدہ اٹھانا ،جائز بھی نہیں آسان بھی نہیں، سیدھا راستہ یہ ہے کہ رپورٹ فیصلہ نہیں ہوتی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں، فیصلہ لے آئیں، اور زیادہ رولا نہ ’’پائیں‘‘ اللہ اللہ اور خیر سلا،
وقت حکومت کو پورا کرنے دیں اچھا ہے
ورنہ سعد رفیق بھی اتنا اچھا نہیں ہے
حکومت گرانا شہیدوں کا قصاص نہیں، قصاص کا مفہوم کسی عالم سے ضرور پوچھ لیں۔ اور بہت ممکن ہے کہ ڈاکٹر قادری بھی حکومت گرانے پر راضی نہ ہوں، یہ گٹھ جوڑ کہیں شہداء کا کیس ہی خراب نہ کر دے۔
٭٭٭٭
وڈیو کلپس
سیاسی دروغ گوئی کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا وہی کچھ کرتا ہے جو قیامت کے روز اپنے کرتوتوں سے انکاری کے ساتھ اس کے اعضاکریں گے، جونہی کوئی سیاستدان اینکر کے روبرو اپنے کئے، کہے سے انکار کرتا ہے اینکر فاتحانہ ہنسی کے ساتھ کہتا ہے وڈیو کلپ دکھا دوں گا پھر بھی سیاستدان نہ مانے تو اینکر کہتا ہے، دیکھیں میں دکھا دوں گا، لو جی میں دکھانے لگا ہوں پھر یہی ہوتا ہے ’’تے وڈیو بول پیا‘‘ لگ بھگ یہی کچھ ہو گا میدان حشر میں خدا کے روبرو بھی جب مجرم جرم نہیں مانے گا تو اس کا جسم صوتی بصری وڈیو چلا دے گا، فرق اتنا ہے کہ یہاں منکر شرمندہ نہیں ہوتا وہاں ہوگا۔ ہمارے بعض لکھاری بھی گالم گلوچ کے خلاف علم اخلاقیات بلند کرتے ہیں لیکن اپنے ہی قلم سے دشنام رقم کرتے ہیں، وہ بھی شاید سیاستدانوں کی طرح اپنے قلم کی مخالف گواہی سے یہاں وہاں، نہیں بچ سکتے، دارالمکافات اور دارالآخرت میں کچھ کچھ مماثلت ہے، لیکن فائنل رائونڈ فیصلہ کن ہو گا۔ ہمیں پوری امید ہے کہ یہ وڈیو کلپس کم از کم سیاسی جھوٹ بولنے کا دروازہ بند کر دیں گے، سیاستدان اب قول و فعل میں کھلے تضاد سے پرہیز کریں گے، مگر ہماری سیاست میں بالخصوص ایک چیز ہوتی ہے ڈھٹائی، اس کے لئے بھی ایک آلہ موجود ہے مگر استعمال نہیں کیا جاتا، دیکھیں جی کروڑوں انسانوں کے سامنے جھوٹ کا پکڑا جانا کوئی معمولی بات نہیں، اس پر ’’انعام‘‘ تو ملنا چاہئے۔ اہل سیاست نہیں جانتے کہ جب کیمرا کچا چھٹا کھول کر رکھ دیتا ہے تو ان کے عقیدت مند مرتد ہو سکتے ہیں اور ووٹ بینک میں کمی آ سکتی ہے، شاید انہیں یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ اینکر جن جن کو اپنے فورم پر مدعو کرتا ہے ان کا نامۂ اعمال پہلے سے تیار رکھتا ہے، لیکن وہ بھی کیا کریں کہ؎
شوق ہر رنگ رقیب سرو ساماں نکلا
شیدا تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
وڈیو کلپس سے پہلے وڈیو لنکس وجود میں آتے ہیں، پھر وہ محفوظ کئے جاتے ہیں اور بوقت ضرورت اور مکر جانے کی صورت میں آئینہ دکھائے جاتے ہیں، اور آئینہ ہم نے دکھایا تو برا مان گئے وغیرہ وغیرہ۔
٭٭٭٭
سیاسی مخولیا
شیخ رشید نے کہا ہے2018:ء میں عمران کامیاب نہ کرایا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ ہر فیلڈ میں ایک مخولیا بھی ہوتا ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ اس کے بغیر کوئی بھی شعبہ ہو ویران دکھائی دیتا ہے، ویسے تو ہمارے ہاں پوری سیاست ہی نوٹنکی ہے مگر جو اس کے باہر پھٹے پر کھڑا منہ پر چونا لگا کر بار بار اپنی الاسٹک کھینچتا ہے اس کا تو جواب نہیں، وہ بزعم خود یہ سمجھتے ہیں کہ بقول کسے چپراسی ہو کر بھی وہ خان کو وزارت عظمیٰ پر نہ بٹھا سکے تو بھی سیاست نہیں چھوڑیں گے یہی پورا سچ ہے، اور ایک جھوٹ ہی ہوتا ہے جس پر قدم جما کر شیخ صاحب خود کو سیاستدان سمجھتے ہیں، چینلز نے بلا بلا کر انہیں سیاستدان بنا دیا ہے ہمیں ان چینلز کی مردم شناسی کی بھی داد دینی چاہئے، شیخ صاحب نے خان صاحب کی کمزوری نوٹ کر لی ہے اس لئے ان کا اسٹانس اب یہ ہے کہ؎
جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے
تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گے
ن لیگ کے سیاسی مستقبل کےبارے میں ابھی کچھ کہنا نون لیگ کو انڈر اسٹیمیٹ کرنا ہو گا، اس کا ووٹ بینک بہرحال اپنی جگہ مستحکم ہے، باقی غیب تو خدا ہی جانتا ہے، شیخ رشید خان کے ذہن میں اپنا مقام بہت پہلے جان چکے ہیں اور وہ بدلہ بھی لیں گے اسی لئے تو وہ عمران کو کامیابی کا مژدہ سناتے رہتے ہیں، سیاست چھوڑنے کی دھمکی بھی وہ اپنے آپ کو دیتے ہیں، کسی کی صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی یہ کہہ کر وہ اپنی اپنی بات کو معتبربنا سکتے ہیں، سیاست کے میدان میں ان کی بڑھکوں کو بڑے، صرف بڑ ہی سمجھتے ہیں اور ہنس دیتے ہیں،بہرصورت شیخ رشید ہماری ضرورت ہیں مگر ہماری سیاست کے لئے ناگزیر نہیں۔
٭٭٭٭
ملٹی کلر فقرے
….Oشہباز شریف:نیب اور عدالتوں نے زرداری کا احتساب نہ کیا تو عوام کریں گے۔
عوام ہرگز عدالت نہیں ہوتے اگر ایسا ہو تو عدلیہ مہمل ٹھہرتی ہے، البتہ احتساب کے قابل تو زرداری بھی ہیں اور خان صاحب نے ان کی دولت واپس لانے کا اعلان پہلے ہی کر رکھا ہے بلکہ ان کا نعرہ زرداری اب تیری باری۔
….Oچوہدری نثار:ملک کو آگے بڑھنا ہے تو دھرنوں کا باب بند کرنا ہو گا۔ دھرنوں کا باب بند کرنا چاہئے، ’’آگے بڑھنا‘‘ اب کافی بدنام ہو چکا ہے۔ اسی لالچ میں عوام بیچارے غلط فیصلے دیتے آئے ہیں۔
….Oعمران خان48:گھنٹے میں فاٹا انضمام کا بل نہ آیا تو سڑکوں پر آئیں گے۔
کیا آپ فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی سے مخاطب ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے