الیکٹرانک سرکٹ کے بغیر وائی فائی سگنل وصول کرنے کا انوکھا تجربہ

واشنگٹن: امریکی ماہرین نے تھری ڈی پرنٹرسے تیار پلاسٹک کی اشیا سے وائی فائی سگنل وصول کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
اس تجربے میں نہ ہی الیکٹرانک سرکٹ استعمال ہوا ہے اور نہ ہی کوئی بیٹری لگائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس اہم انقلابی قدم سے مستقبل میں بغیرالیکٹرانکس کے الیکٹرانک آلات جیسا کام لینا ممکن ہوجائے گا۔
اگر آپ ابھی بھی حیران نہیں ہوئے تو وہ دن دور نہیں جب واشنگ مائع کی بوتل خالی ہونے پر آپ کو خبردار کرے گی کہ آپ نیا صابن خرید لیجئے۔ اس کے بعد عام گھریلو اشیا میں الیکٹرانکس سرایت کرجائے گی اور پورے گھر کی چیزیں ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں گی۔
اس کے لیے یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انجینیئروں نے پلاسٹک سوئچ، گیئر اور اینٹینا تیار کیا ہے جب اسے دبایا جائے یا کسی طرح متحرک کیا جائے تو یہ وائی فائی سگنل خارج کرکے دوسروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایک ماہر وکرم ایئرنے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب عام گھریلو اشیا تھری ڈی پرنٹر سے بنائی جائیں جو دیگر اشیا سےرابطہ کرسکیں۔
لیکن پلاسٹک کی اشیا سے وائی فائی سگنل بھیجنے یا وصول کرنے کا کام اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا جو سب بڑا چیلنج تھا۔ تاہم بعض تکنیک سے یہ ممکن ہے مثلاً تھری ڈی پرنٹر سے ایک باد پیما (انیمومیٹر) بنایا جاسکتا ہے جو تیزی سے گھوم کر ہوا کی رفتار نوٹ کرسکتا ہے، اس کے ریشے یا فلامنٹ آپس میں زیادہ کنیکٹ ہوتے ہیں، یہ کام پانی کے بہاؤ نوٹ کرنے والا ایک پلاسٹک آلہ بھی کرسکتا ہے۔
سائنسدانوں نے پلاسٹک کے ایسے سوئچ، ڈائل اور سلائیڈرز بنائے ہیں جن کی حرکات سادہ وائی فائی سگنل بھیج سکتی ہے اور اسے کسی اسمارٹ فون یا دوسرے آلے پر وصول کیا جاسکتا ہے۔
اس تکنیک کو منعکس امواج (ریفلیکٹوو ویوز) یا بیک اسکیٹرنگ کہا جاتا ہے اور یہاں اسے وائی فائی سگنلز تصور کیا جاسکتا ہے، انجینیئروں کی ٹیم نے تانبے کی بجائے لوہے کا چورہ استعمال کیا ہے جس میں تھری ڈی سے بنائی گئی شے میں انفارمیشن شامل ہوجاتی ہے۔
ایک اور ٹیم ممبر جسٹن چین نے کہا کہ تھری ڈی پرنٹر سے شائع شے میں پوشیدہ معلومات کو اسمارٹ فون سے پڑھا جاسکتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر اسمارٹ فون میں میگنیٹومیٹر موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے ہم سمت معلوم کرسکتے ہیں۔ عین یہی سینسر پلاسٹک اور لوہے کے چورے میں صفر اور ایک کا پیٹرن بھانپ سکتا ہے۔ فی الحال عوام کے لیے فوری طور پر ایسے آلات بنانا ممکن نہیں لیکن یہ سادہ اشیا کو وائی فائی سے جوڑنے کا ایک آسان طریقہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سے ہر آلہ ہر وقت دوسرے آلات سے رابطہ کرسکے گا۔ اس ضمن میں ماہرین نے ایک ویڈیو بھی بنائی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے