شاہ احمدنورانی کی آخری نشانی

قائد اہلسنت علامہ امام شاہ احمد نورانی صدیقی قادری رحمہ اللہ علیہ11 دسمبر 2003 بروز جمعرات 78 سال کی عمر میں دنیا سے آنکھیں موند کر ہمیشہ کے لئے دارفانی کی طرف کوچ کرگئے۔ان کی پوری زندگی کا احاطہ اس جملے سے کیاجاسکتاہے کہ ،معھد سے لے کر لحد تک کردار ہی کردار ۔

ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما،ممتازعالم دین،نابغہ روزگارسیاستدان، قائد ملت اسلامیہ، قائد اہلسنت امام شاہ احمدنورانی صدیقی18رمضان 1344بمطابق یکم اپریل 1926 کومیرٹھ (یوپی )انڈیامیں مولانا شاہ عبدالعلیم صدیقی کے ہاں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی اپنے وقت کے اکابر علما میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام رکھتے تھے آپ کا سلسلہ نسب والد و والدہ دونوں طرف سے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق سے جا ملتا ہے۔ آپ کے دادا کے برادر مولانا محمد اسماعیل میرٹھی تھے جن کی نظمیں آج بھی مشہور و معروف ہیں۔

مولانا شاہ احمد نورانی کی تعلیم و تربیت ایک علمی اور فکری خاندان میں ہوئی آٹھ سال کی عمر میں آپ نے قرآن کریم کو حفظ کر لیا ۔( رمضان پاک میں تراویح کاکبھی ناغہ نہیں کیا اور تراویح اورشبینوں میں 64 سال مسلسل قرآن پاک سنایا) حفظ قرآن کے بعد میرٹھ میں آپ نے اپنی ثانوی تعلیم نیشنل عربک کالج میں مکمل کی جہاں ذریعہ تعلیم عربی زبان تھی ممتاز عالم دین مولانا امجد علی اعظمی مولانا غلام جیلانی میرٹھی سے حدیث فقہ اور دیگر علوم حاصل کئے۔ نیشنل تحریک کالج میرٹھ اور الہ آباد یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی جب آپ نے درس نظامی کی تکمیل کی تو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی رضا خان بریلوی مولانا نعیم الدین مراد آبادی اور سفیر اسلام شاہ عبدالعلیم صدیقی نے اپنے دست مبارک سے دستار فضیلت عطا کی،بعد میں آپ نے اپنے والد کے حکم پر دیگر بین الاقوامی زبانیں سیکھ لیں اسی لئے آپ کو تقریبا 17 زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

مولانا شاہ احمد نورانی پہلی بار 1970 میں جمعیت علما پاکستان کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔1972میں مولانا نورانی جمعیت علما پاکستان کے سربراہ بنے اور قیادت سنبھالی اور تادم مرگ وہ سربراہ رہے، آپ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور دو مرتبہ سینٹر منتخب ہوئے ،مولانا 1973 کے دستورکی تدوین کے موقع پر دستوری کمیٹی کے رکن بنائے گئے اوراس حیثیت سے ملک کے اس متفقہ دستورکی تشکیل میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس دستور کو اسلامی بنانے کے لئے مولانا نے دو سو ترامیم پیش کیں۔ انہی دنوں مولانا شاہ احمد نورانی پاکستان کے سیاسی افق پر آفتاب بن کر ابھرے اوران کی سیاسی فہم و بصیرت کا ملک میں ہرسیاسی مکتب فکر کی طرف سے اعتراف کیا گیا کیونکہ مولانا کی سیاسی سوچ اورفکرکا محور نظریہ پاکستان اور حضرت قائدا عظم کے سیاسی تصورات و فرمودات تھے۔ انہوں نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ وہ نظریہ پاکستان کی روشنی میں حضرت قائد اعظم کے فرمودات کے مطابق ملک میں اسلامی جمہوری نظام کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں۔دیگرمذہبی رہنمائوں کے ساتھ ساتھ حضرت نورانی کی مساعی سے 1973 کے آئین میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کی کوشش کامیاب ہوئی۔ مولانا شاہ احمد نورانی جمہوری اقدار کی سربلندی کے لئے ذوالفقار علی بھٹوکی بلامقابلہ وزیر اعظم بننے کی خواہش کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے حزب اختلاف کے فیصلے کے مطابق بھٹو کے مقابلے میں وزارت اعظمی کا الیکشن لڑا۔ اگرچہ انہیں صرف 32 ووٹ ملے مگر ان کی جرات و بہادری کی ملک بھر میں داد دی گئی کہ انہوں نے اس وقت بھٹو کا مقابلہ کیا۔ جب کوئی دوسرا اس کے لئے تیار نہ تھا۔ پھر 30 جون 1974 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کی قرارداد پیش کرنے کاشرف بھی مولانا ہی کو حاصل ہوا۔ 1972 میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ یہ دعوت اسلامی بھی انہی کی بنائی ہوئی تحریک ہے

علامہ شاہ احمدنورانی مرحوم کے سیکرٹری اورہمارے بھائی ودوست حسنات احمدقادری جن کاانتقال گزشتہ ماہ ہواہے وہ بتایاکرتے تھے کہ علامہ شاہ احمدنورانی اپنی ذاتی زندگی میں حددرجہ احتیاط کرتے تھے ممبرقومی اسمبلی تھے انہیں دل کی تکلیف ہوئی تومیں نے کہاکہ سرکاری ڈسپنسری سے دوائی لے آئوں توحضرت نے سختی سے منع کرتے ہوئے مجھے جیب سے پیسے نکال کردیتے ہوئے کہاکہ جائوباہرسے دوائی لے آئو۔ایک دفعہ ضیا الحق نے دعوت دی۔ ملاقات ہوئی بعد میں صدر مملکت نے کھانے کا کہا تو قائد اہلسنت نے فرمایا کہ جنرل صاحب آپ نے ملاقات کی دعوت دی تھی کھانے کی دعوت نہیں دی تھی۔ ہم آپ کا کھانا نہیں کھاسکتے۔ ان کا پسندیدہ شعرتھا۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

علامہ شاہ احمد نورانی پاکستان کے واحد قومی سیاست دان تھے جنہوں نے نصف صدی سیاست کے میدان میں رہنے کے باوجود اپنے اجلے اور شفاف دامن کو آلودہ نہ ہونے دیا ہمیشہ صاف ستھری اور بے داغ سیاست کے علمبردار رہے کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی یہی وجہ سے کہ آج ان کے شدید ترین مخالف بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیتے ہیں تجربہ کار سیاست دان مذہبی رہنما اور عظیم مبلغ اسلام تھے۔ ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ خوش لباسی خوش گفتاری اور اصول پسندی ان کی شخصیت کا خاصا اور پہچان تھی، نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا نورانی متحرک،فعال اور ملک و قوم کا درد رکھنے والی ایک ایسی شخصیت تھے جنھوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کے اولین مقصد لاالہ الااللہ کے نعرے کو عملی صورت دینے میں وقف کردی،انہوں نے اِس نعرے کو اپنی سیاست کے نکتہ ارتکاز کے طور پر اپنایا اور اسے دیگر سیاسی جماعتوں سے اتحاد کے وقت ہم خیالی کی بنیاد بنایا،مولانا نے ہر سیاسی اتحاد کی بنیاد بحالی جمہوریت اور نفاذ نظام مصطفی کی جدوجہد پر رکھی،آپ نے اپنی ذہانت اور تدبر سے پاکستان میں اتحاد ملت کے نعرے کو عملی شکل دی،آپ کے تحرک پر بنائے گئے تمام اتحادوں کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اتحاد ملت کے علمبردار تھے بلکہ اِن اتحادوں کی وجہ تخلیق اور روح رواں بھی تھے،ہماری اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے جس اتحاد کو خیر آباد کہا وہ اتحاد آپ اپنی موت مرگیا،حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں فرقہ واریت کے سدباب کیلئے مولانا شاہ احمد نورانی کا کردار ناقابل فراموش تھااور ان کی ذات و شخصیت قومی یکجہتی کی روح اور عملی تصویر تھیآپ نے مختلف مکاتب فکر کے علما کو یکجا کیا۔ مذہبی جماعتوں کے اندر موجود ہزار ہا اختلاف کے باوجود ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر متحد رکھا آپ ہی کا کارنامہ تھا۔مگرآج کچھ لوگ فرقہ واریت اورتشدکی تحریکوں کے ذریعے ختم نبوت کے مقدس نام کواستعمال کرکے عوام کوگمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ایسے لوگوں کاامام نورانی کی تعلیمات سے کوئی سروکارنہیں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ تحریک پاکستان ہو یا تحریک ختم نبوت تحریک نظام مصطفی ۖہو یا تحریک جمہوریت یا آئینی و پارلیمانی بالا دستی کی تحریک علامہ شاہ احمد نورانی کو صف اول میں پایا۔ آپ نے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ کئی بار اصولوں کی خاطر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا اپنے دیرینہ رفیقوں کی قربانی دی مگر پیچھے ہٹنا گوارہ نہ کیا ۔ آپ ہی کی قیادت میں متحدہ مجلس عمل نے 2002 کے عام انتخابات میں صوبہ خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں حیران کن کامیابی حاصل کی علامہ شاہ محمد نورانی ایک سچے عاشق رسول ۖ اور صحیح العقیدہ مسلمان تھے آخری سانس تک جنرل پرویز مشرف کے ایل ایف او کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے آپ کے انتقال کے بعد متحد مجلس عمل کے رہنمائوں نے 17ویں ترمیم کو منظور کرائی، آج ان کی سادگی قناعت خوش مزاجی خوش گفتاری اور اصول پرستی یاد رہ جانے والی باتیں بن گئی ہیں۔

علامہ شاہ احمدنورانی کے صاحبزادے علامہ شاہ اویس نورانی اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے اتحادامت ،مسلکی ہم آہنگی،اعتدال پسندی کی سیاست کوپروان چڑھارہے ہیں وہ اپنے والدحقیقی جانشین ہیں ،اتحاد ملت کے علمبردار ایک دور اندیش مدبر و رہنماء ان کی ذات و شخصیت قومی یکجہتی کی روح اور عملی تصویر ہے مجلس عمل کی دوبارہ بحالی میں بھی انہوں نے اہم کرداراداکیاہے انہی کی کوششوں سے امام نورانی کی زندگی کی آخری نشانی متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا تیرہ دسمبرکوکراچی میںباضابطہ اعلان کیاجائے گا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے