جمہوریت کیوں خطرے میں ہے

چلتی پھرتی جمہوریت کو ایسی بیماری آن چمٹی ہے ۔۔ اندر ہی اندر سے حکمران جماعت کو جمہوریت ڈی ریل ہونے کا غم کھانے لگا ہے۔۔ پیپلز پارٹی والوں کو بھی برے برے سپنے رات بھر سونے نہیں دیتے ہیں۔۔ مولانا فضل الرحمان بھی مطمئن نہیں ہیں۔۔ محمود خان اچکزئی تو خیر کبھی مطمئن ہوئے ہی نہیں ہیں۔۔ اپوزیشن میں تھے تب بھی جمہوریت پر پاسبان بنے کھڑے رہتے تھے۔۔۔ پوراکنبہ اور رشتہ دار بھی اقتدارمیں داخل کرا لئے ہیں مگر اب بھی اطمینان نہیں ہے۔۔
پی ٹی آئی کوجمہوریت بہت مضبو ط دکھائی دیتی ہے۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ انھیں لگتا ہے اگلی باری ان کی ہے۔۔ بے خبرے نہیں ہیں وہ بھی ۔۔بس ایویں ہی انجان بننے کی کوشش کررہے ہیں۔۔
پہلے افواہیں گردش کررہی تھیں۔۔ ۔ کافی عرصہ سے پشین گوئیاں بھی جاری تھیں۔۔ نواز شریف صاحب جب سے انقلابی ہوئے ہیں وہ تو سوتے جاگتے کہہ رہے ہیں۔۔ انھیں کوئی پریشان کررہا ہے۔۔۔ ہمیں یقین سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق صاحب کی بات پر آیا ہے ۔۔۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔۔۔ ایاز صادق سیاسی مخول یا فضول سیاسی بیانات دینے والوں میں سے نہیں ہیں۔۔ کچھ دیکھا ہوگا تو بولے ہیں
۔۔
شور شرابہ ویسے ہی نہیں ہو رہا۔۔۔ سب خیریت نہیں ہے۔۔۔
میری رائے میں اس ساری صورتحال کی ذمہ دار مسلم لیگ ن خود ہے۔۔۔سیاسی شعور رکھنے والے اس بات سے آگاہ ہیں۔۔ نواز شریف کا نظریہ جس کا پرچار اب وہ خود کرنے لگے ہیں ۔۔۔ یہ نظریہ پانامہ کیس میں پھنسنے کے بعد بیدار ہواہے۔۔ اقتدار کی مسند پر ان کے پہلے ساڑھے تین سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں تو ان کے اندر آپ کو یہ نظریہ کم ہی نظر آئے گا۔۔۔
ہمیشہ مصلحت کا شکار نظر آئے۔۔۔ جن کا نام وہ اب بھی نہیں لیتے ۔۔۔ اچھی بیوی کی طرح ۔۔۔اجی سنتو ہو۔۔ ببلو کے ابا ۔۔ ۔وہ نا ۔۔ بہت غصے والے ہیں۔۔۔
ان کے بارے میں ہم نے ان کے منہ سے کبھی ایسی تلخ باتیں نہیں سنیں۔۔۔ ہمیں تو ہمیشہ بتایا گیا کہ ہم ایک صفحے پر ہیں۔۔ ۔ جب احتساب کا ہاتھ شریف فیملی پر پڑا تب ہمیں بتایاگیا ۔۔ وہ سیم پیج کہیں گم ہو گیاہے۔۔
سچ یہ ہے نوازشریف ہمیشہ جمہوریت کے ساتھ مخلص نہیں رہے ۔۔۔ ان کی تمام تگ و دو اپنے اقتدار کیلئے رہی ہے۔۔
محمد خان جونیجو کو وزارت اعظمیٰ جن حالات میں چھوڑنی پڑی وہ ماضی کا قصہ سہی لیکن تاریخ کے طالب علم کو یاد ہے نوازشریف ان کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے تھے۔۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو مرتبہ جب حکومت ختم ہوئی تو نوازشریف نے جمہوریت کے تسلسل کیلئے آواز بلند کرنے کی بجائے ان الزامات کو سچ سمجھا اور ان کی حمایت کی جن کے تحت محترمہ کو ہٹایاگیا۔۔۔
یوسف رضا گیلانی کو نوازشریف کی طرح کے حالات کا سامنا تھا تو نواز شریف انھیں کلیئر ہونے تک گھر بیٹھنے کا مشورہ بھی دیتے تھے اور خود عدالت بھی جا پہنچے۔۔
یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سے متعلق عدالتی فیصلوں پرخود عمل درآمد کرانے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے۔۔۔ تب خود اپوزیشن میں تھے۔۔۔مشرف سے معاہدہ اور جدہ روانگی تو خیر ذرا اور طرح سے لے لیتے ہیں اس کے محرکات پر تبصرہ نہیں کرتے۔۔
وفاق، پنجاب، بلوچستان ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومتیں ہونے کے باوجود بھی اگر جمہوریت ان کو عدم استحکام کا شکار لگتی ہے۔۔۔ سازشوں کی بو آرہی ہے تو اس میں بھی خود ان کا ہاتھ نمایاں نظر آتا ہے۔۔۔
پی ٹی آئی دھرنا میں حکومت کا ساتھ دے کر بدنامی اپنے سر لینے والی پیپلز پارٹی کے ساتھ بعد میں حکمرانوں کاسلوک اور رویہ ایک طرف ان کی جمہوری سوچ کے منافی ہے تو پی ٹی آئی کے ساتھ بھی کبھی ورکنگ ری لیشن بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔۔۔
نواز شریف نے ہمیشہ بھاری اکثریت کے زعم میں جمہوری قدروں کو پامال کیا۔۔۔پانامہ کیس میں جب شریف فیملی کانام آیا۔۔ معاملات عدالتوں تک پہنچے تواپنے مقدمات کی عام شہریوں کی طرح پیروی کرنے کی بجائے عدالتوں پر دباو ڈالنے کی پالیسی اپنائی گئی۔۔۔ مریم نواز نے طلا ل چوہدری، دانیال عزیز، مریم اورنگزیب ، عابد شیر علی اور ڈاکٹر آصف کرمانی کو جوابی وار کرنے کا ٹاسک سونپا۔۔۔
جوابی وار ایسے کہ دانیال عزیز صاحب کا اتنا غصہ شاید پورے سیاسی کیئریر میں کسی نے نہ دیکھا ہو گا جو شریف فیملی کے دفاع میں دیکھا گیا۔۔ مقصد صرف ایک ہی تھا کہ خواہ وہ عدالت ہو۔۔۔ جے آئی ٹی ہو۔۔ یا عمران خان ۔ سب پر ا جوابی وار کئے جائیں۔۔۔
یہ پالیسی اس لحاظ سے اس وقت ناکام ہوئی جب مسلم لیگ ن کے تجربہ کار رہنما اور پارٹی میں ایک عرصہ سے پالیسی سازی کرنے والے چوہدری نثار علی خان اس طرز سیاست سے نالاں ہوگئے۔۔۔ ۔ مریم نواز کو عملی سیاست سے الگ رہنے کے مشورے بھی دیئے۔۔۔ انھیں شاید اندازہ نہیں تھا کہ نوازشریف مستقبل کی پیش بندی کررہے تھے۔۔۔۔ نوازشریف کو نظر آگیا تھا کہ وہ سیاست سے الگ ہونے والے ہیں۔۔
تب تک نوازشریف کے اندر کا نظریہ ظہور پذیر نہیں ہواتھا۔۔ ۔۔ وہ صرف پارٹی کو شہباز شریف یا حمزہ کے پاس چھوڑنے کی بجائے مریم نواز کو حکمرانی کیلئے تیارکررہے تھے۔۔۔ مریم نوازکی میڈیا کے زریعے سامنے آنے والی سوچ اس بات کی غمازی کررہی تھی کہ مریم نواز جارحانہ طرز سیاست پسند کرتی ہیں۔۔۔
اس طرز سیاست کا پہلا نقصان خود ان کی پارٹی کو ہوا۔۔۔ چوہدری نثار علی نواز شریف کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد شاہد خاقان عباسی کی ٹیم کا حصہ نہیں بنے۔۔۔
وزیر داخلہ اور خارجہ کے بیانات سے اختلاف کرتے نظر آئے کبھی پارٹی پالیسی سے اختلاف رائے سامنے آیا۔۔۔ بار بار اپنی جماعت کو محاذ آرائی سے اجتناب کا مشورہ دینے والے چوہدری نثار علی کو پارٹی مشاورت سے بھی الگ کردیاگیا۔۔۔
جمہوری اقدارکے منافی پہلا قدم خود شاہد خاقان عباسی نے بھی اٹھایا۔۔۔۔ وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد بولے میرا وزیراعظم نوازشریف ہے۔۔۔۔خود ان کا پارٹی میں یہ پیغام پہنچا کہ شاہد خاقان عباسی اصلی وزیراعظم نہیں ہیں۔۔۔
نوازشریف جب تک پارٹی صدارت کیلئے نااہل رہے تب بھی ۔۔۔ جب قانون سازی کرکے انھیں اہل بنا دیاگیا پھر بھی پالیسی نوازشریف کے پاس رہی۔۔۔ ۔ اہم حکومتی فیصلے بھی ان کے پاس ہی رہے۔۔۔ شاہد خاقان عباسی کو وہ فری ہینڈ نہیں ملا جو مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کو ملنا چایئے۔۔۔۔ اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ سے الگ کرنے تک کا اختیار نہ ملا۔۔۔۔
اگر مسلم لیگ ن کی حکومت برقرار ہے۔۔۔۔ کوئی مائنس نوازشریف کا فارمولہ دے بھی رہاہے تو اس کا بہتر راستہ محاذ آرائی کی بجائے کارکردگی دکھا کر اس فارمولے کو ناکام بنانا تھا۔۔۔۔ افسوس نوازشریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن نے عملاًہتھیار ڈال دیئے۔۔ آپ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا ٹارگٹ پورا کرتے۔۔۔ معیشت کی بہتری کے عمل کو اسی طرح جاری وساری رکھتے۔۔۔اپنے جاری منصوبوں پر اسی طرح توجہ دیتے۔۔۔ ۔۔ اپنے آخری چند ماہ میں آپ اپنی کارکر دگی سے سب کو ناک آوٹ کرنے کی پوزیشن پر تھے ۔۔ بلکہ اب بھی ہیں۔۔
لیکن نوازشریف کی طرح وفاقی وزرا نے بھی پست پشت نہ نظر آنے والی قوتیں ڈھونڈنی شروع کردیں ۔۔۔ماڈل ٹاون سانحہ نے آپ کو اتنا خوفزدہ کیا کہ آپ فیض آباد میں دیوار سے لگے نظر آئے۔۔۔
آپ کو جمہوریت مضبوط کرنی ہے تو 2018کے الیکشن میں مظلوم بن کر جانے کی بجائے کارکردگی پر جیتنے کا سوچیں۔۔ ۔ سیاسی جماعتوں پر شک کرنے کی بجائے ۔۔ ۔۔ اے پی سی کاانعقاد کریں اور میثاق جمہوریت طرز کی کوئی مفاہمت کریں۔۔۔ سیاسی جماعتیں کم سے کم اس بات پر اکٹھی ہو جائیں کہ عوام جس کو بھی ووٹ دیں۔۔۔۔۔ جیتنے والی جماعت کے خلاف غیر جمہوری اقدام کی حمایت کوئی نہیں کرے گا۔۔۔۔ جمہوریت کے تسلسل کیلئے اقتدار میں آنے والی جماعت کو پانچ سال پورے کرنے میں رخنے اندازی نہیں ہوگی۔۔۔ کرپشن میں جوبھی شخصیت ملوث ہو ۔۔ خواہ پارٹی کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ کرپشن کرنے والے سیاستدان کی پارٹی تب تک حمایت نہیں کرے گی جب تک وہ خود کو بے گناہ ثابت نہیں کرسکتا۔۔۔ اگر ایسا چلیں گے تو آپ کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی عوام خود آپ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے