چیرمین پیمرا کی فراغت کی وجہ ؟

ہمیں ابصار عالم پسند نہیں، اس کا تعلق کسی پیشہ ورانہ معاملے سے نہیں بلکہ زاتی پسند اور نا پسند سے تھا ،کامرس رپورٹر کے طور پر ابصار عالم جب خبر میں وزیر خزانہ سے بات چیت کو شامل کر کے خبر کو بہتر کرتا تو اگلے دن خبر پڑھ کر ہمیں غصہ آتا کہ ہم نے کیوں اس خبر پر وزیر خزانہ سے بات نہیں کی کیونکہ بڑے میڈیا گروپ میں ہونے کی وجہ سے ہر وزیر خزانہ ہمارا بھی دوست ہوتا تھا ،ابصار عالم کے چیرمین پیمرا بننے پر ہمیں شدید حسد محسوس ہوا کہ یہ کیسے جرنسلٹ ہیں جو سرکاری عہدہ لے لیتے ہیں اور پھر صحافی بھی رہتے ہیں ۔
چیرمین پیمرا بننے کے بعد ابصار عالم نے بھارتی ڈراموں اور کارٹونوں پر پابندی عائد کی تو اچھا لگا کیونکہ میرے اپنے بچے بھارتی ڈراموں سے متاثر ہو رہے تھے جنرل مشرف جیسے محب وطن کمانڈو جنرل نے وکلا تحریک کے دوران عوام کو گھروں میں مصروف رکھنے کیلئے بھارتی ڈراموں کی اجازت دے دی تھی یہ اجازت کم و بیش 12 سالوں تک جاری رہی اس وقت تک جب تک مودی کے یار نواز شریف نے ابصار عالم کو چیرمین پیمرا نہیں تعینات کر دیا ،ان بارہ سالوں میں زبان سیکھنے کے عمل کی عمر کے کروڑوں پاکستانی بچے ہندی زبان کا لب و لہجہ اخیتار کر گئے اور ہم جیسے فوج کی سایست میں مداخلت پر تنقید کرنے والے والدین کا کام اپنے بچوں کی زبان ٹھیک کرنا رہ گیا ۔

ہندی زبان میں گ نہیں ر نہیں کا نہیں اور دیگر متعدد اردو لہجے نہیں ہندی میں غ بھی نہیں ہمارے بچے غبارے کو گبارے پڑھتے ہیں ،ہندی میں خ نہیں پاکستانی بچے کھوبصورت کہتے ہیں اور ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ لفظ خوبصورت ہے ،ابصار عالم نے پوری قوم پر احسان کیا اس نے ہندی ڈراموں پر پابندی عائد کر دی نجی چینل چوری چھپے خلاف ورزی کرتے رہے لیکن پھر بھی سیلاب رک گیا ہندی زبان کے کارٹون رک گئے اور پاکستانی بچیاں جو ہندوو شادی بیاہ کی رسومات کو پھیرے لینا ،سندور لگانا ،ڈانس کرنا وغیرہ کو اسلامی تہذیب کو حصہ سمجھنے لگیں وہ سلسلہ بھی رکنے لگا ۔

پاکستان میں بابے کی عدالت میں بیرون ملک سے درامد ہونے والا معین قریشی تو وزیر اعظم بھی بن سکتا ہے جو بعد میں ایک بھارتی بزنس تایئکون کی زاتی ملازمت اختیار کر لیتا ہے یہاں پر شوکت عزیز نامی اڑن طشتری تو وزیر اعظم بن سکتی ہے جس کے بیٹے کی بے وقت اور جوان موت سے قدرت کے انتقام کا پتہ چلتا ہے یہاں ایک پاکستانی صحافی چیرمین پیمرا نہیں بن سکتا اور اس کی تعیناتی خلاف ضابطہ قرار پاتی ہے ،کیا ملک ہے کیا عدالتیں ہیں کیا قانون ہے اور کیا انصاف ہے ،

سپریم کورٹ کا ایک جج ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ موصوف ہیں جنہوں نے جنرل مشرف کو بچانے کی اس طرح کوشش کی کہ اپنے فیصلے میں لکھا مشرف کے ساتھ دیگر شریک ملزمان کو بھی چالان میں شامل کیا جائے اس فیصلہ کو ختم کرنے میں خاصا وقت صرف ہو گیا یہ وہ موصوف ہیں جنہوں نے عمران خان کے فیصلے میں ایک اضافی نوٹ لکھ مارا تھا اور اس میں بھی نواز شریف کو مجرم قرار دے دیا تھا ،چیرمین پیمرا کی پوسٹنگ سیاسی ہے تسلیم لیکن ابصار عالم کا گناہ کیا ہے کیا نجی چیینلز کے اینکرز جھوٹ بول بول کر عوام کو گمراہ نہیں کر رہے کیا اینکرز سے ان کے الزامات کے شواہد طلب کرنا غلط ہے ؟

عدالتوں کو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا جب وزیر اعظم نے چیرمین پیمرا کو ہدایات جاری کیں اگر تمام فیصلوں پر عدالتوں سے حکم امتناعی ہی ملنا ہے تو عدالتوں میں مقدمات کی پیروی بند کر دو تاکہ کم از کم وکلا کو قومی خزانہ سے دئے جانے والے زر کثیر کو ہی بچایا جا سکے ،نئی نسل کو گمراہ کا جا رہا ہے اس نسل نے نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا ہے ایک بدکار ،جواری اور نشی کو میڈیا کے زریعے ہیرو بنا کر اس قوم کے مستقبل کے ساتھ گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،ہم بڑے ہو چکے ہیں ہم حقائق جانتے ہیں لیکن نئی نسل مطالعہ نہیں کرتی وہ سوشل میدیا کی نسل ہے وہ انٹرنیٹ کی دنیا سے وہ نجی چینلز سے اپنی رائے بناتی ہے ان تمام شعبوں پر سوشل میدیا پر نجی چینلز پر اور انٹرنیٹ پر مافیاز قابض ہو چکے ہیں اور نئی نسل کو اپنی مرضی کے سچ سنائے اور دکھائے جا رہے ہیں ،مافیاز کے سائبرز ونگ پاکستان کو تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں اور یہاں پر چیرمین پیمرا کی فراغت ہی ہدف ہے ، اللہ پاکستان پر رحم کرے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے