فارنزک کی تربیت کے زریعے پولیس کی جرائم کی تفتیش کے حوالے سے استعداد کار میں اضافہ ہو گا

فارنزک سائنس کے ذریعے جائے وقوعہ سے ثبوت اکٹھا کرنے اور اس کی تفتیش کے موضوع پر خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے سکول آف انٹیلیجنس پشاور میں سٹیزن جسٹس اینڈ پیس پروگرام (CJPP) کی جانب سے تین روزہ تربیت کا اہتمام کیا گیا ۔

تربیت کے دوران ماہرین نے لیکچرز اور عملی مشقوں کے ذریعے شرکا کو جدید طریقے سے شوائد اکٹھا کرنے اور ان کو مناسب اندار میں پیک کرنے کے حوالے سے تربیت دی ۔ یہ تربیت پولیس کو جائے وقوعہ اور تفتیش کے دوران شوائد کو سائنسی خطوط پر محفوظ کرنے میں مددگار ثابت ہو گی تا کہ جرائم سے جڑے ان شوائد کے ذریعے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے ۔

تقسیم اسناد کی تقریب کے موقع پر مہمان خصوصی رب نواز خان ڈائریکٹر فورنزک سائنس لیب پشاور نے CJPP کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ، اس تربیت کے نتیجے میں شرکا اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ سائنسی انداز میں جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس ، خون ، بالوں اور تفتیش میں کام آنے والی دیگر اشیا کے نمونے حاصل کر کے محفوظ کر سکیں

تربیت حاصل کرنے والی خاتون پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر مغیث منیر نے بتایا کہ پہلے ہم بہت سے اہم شوائد جیسا کی چیونگم ، کار کا پینٹ یا خون سے بھرے کپڑےکو خشک کرنا کو غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیتے تھے ۔ اور یہ سارے شوائد نہ صرف تفتیش بلکہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھی بہت ضروری ہیں ۔

اس تربیت کے دوران ہمیں ان چیزوں کی اہمیت اور پھر ان کو منا سب طرح محفوظ کرنے ، جائے وقوعہ کی صحیح زاویوں سے تصویریں لینے ، اور بالوں اور خون کے نمونے حاصل کرنے کے بارے میں بتایا گیا ۔ جو آئندہ کی تفتیش میں ہمارے لئے مفید ہو گا

یورپی یونین کی امداد سے چلنے والے سٹیزن جسٹس اینڈ پیس پروگرام کے ٹیم لیڈ عاطف مسعود نے کہا یہ تربیت جرائم کی تفتیش میں پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ نئی قائم کی گئی فارنزک سائنس لیبارٹری کے کام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گی ۔

اس تربیت میں 52 پولیس آفیسرز نے تربیت حاصل کی ۔ ان شرکا صوبے کے تمام اضلاع سے ماسسٹنٹ سب انسپکٹر اور سب انسپکٹر رینک سے تعلق رکھنے والے افسران نے شرکت کی ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے