پیپلز پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے لشکری رئیسانی بلوچستان نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما لشکری رئیسانی کی بی این پی میں شمولیت

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق سینیٹرلشکری رئیسانی نے دیگر کارکنوں سمیت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں کرد، سابق صوبائی وزیر محمد اسماعیل گجر اور دیگر بھی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے بی این پی میں شامل ہوگئے۔

کوئٹہ کے سریاب روڑ میں پارٹی پرچم لہرانے اور سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ سردار اخترمینگل کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان ایک بارود کی صورت میں تبدیل ہوگیا ہے’ اور صوبے میں بدامنی کے باعث تمام علاقوں میں اور مختلف مکتبہ فکر کے کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اخترمینگل کا کہنا تھا کہ مذہبی جنونیت اور فرقہ پرستی ایک نئی وبا جبکہ بلوچستان کا معاشرہ ترقی پسند اور تحمل کا حامل ہے۔

بی این پی کے سربراہ نے کوئٹہ میں گزشتہ ہفتے ایک چرچ میں ہونے والے حملے اور ہزاری برادری کے افراد کے قتل کی پرزور مذمت کی۔

بلوچستان کی صورت حال پر انھوں نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت گوادر کے عوام کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں مسلسل ناکام ہے اور وہاں کے لوگ تاحال پینے کے پانی کے لیے احتجاج کررہے ہیں اور آپ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بات کرتے ہیں۔

بی این پی میں شامل ہونے والے لشکری رئیسانی نے اس موقع پر کہا کہ’حکمرانوں کی جانب سے بلوچستان کو ہمیشہ نظر انداز اور محروم رکھا گیا’۔

انھوں نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

خیال رہے کہ لشکری رئیسانی بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما نواب محمد اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی ہیں اور 2013 کے انتخابات سے قبل پی پی پی سے علیحدگی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے تاہم وہ فعال کردار ادا نہ کرسکے تھے۔

پی پی پی بلوچستان کے سابق صدر لشکری رئیسانی پی پی پی کے دور حکومت میں سینیٹر بھی رہے جبکہ صوبائی وزیر کی حیثیت سے بلوچستان کی کابینہ میں بھی شامل رہ چکے ہیں۔

انھوں نے 2010 میں بلوچستان میں پارٹی عہدیداروں کے درمیان اختلافات کے سبب پی پی پی کی صوبائی صدارت سے استعفی دے دیا تھا اور2012 میں پی پی پی کے ساتھ 9 سالہ رفاقت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

پی پی پی چھوڑنے کے لگ بھگ ایک سال بعد لشکری رئیسانی نے پی پی پی کی حریف جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) میں 22 دیگر سیاست دانوں سمیت شمولیت کی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے