مجھے بھی نوازشریف سے اختلاف تھا

سہیل وڑائچ نے کالم نگاری کا ایک نیا اسلوب قائم کیا ہے جو پل صراط پر چلنے کے برابر ہے، چنانچہ اس پر روز روز چلنے کا رسک نہیں لیا جاسکتا، چنانچہ انہوں نے تازہ کالم روزمرہ کے کالموں کے مطابق تو نہیں لکھا کہ ایک تخلیق کار چوری سے جاسکتا ہے، ہیرا پھیری سے نہیں، سو کالم کی آخری لائنوں میں وہ خوبصورت ہیرا پھیری سے باز نہیں آئے۔ بہرحال انہوں نے ’’مجھے نوازشریف سے اختلاف ہے‘‘ کے عنوان سے بہت سے سوالات اٹھائے اور ان تمام سوالوں کا لب لباب یہ تھا کہ آج اگر آپ نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اتنا سخت رویہ اپنایا ہے تو ماضی میں فلاں فلاں مواقع پر اسٹینڈ کیوں نہیں لیا، جس میں ایک پرویز رشید کی وزارت سے بے دخلی کا معاملہ بھی تھا۔ اب اگر آپ سچ پوچھیں تو خود مجھے بھی یہ سب کچھ اچھا تو خیر کیا لگنا تھا، بہت عجیب بھی لگ رہا تھا، کیونکہ میاں صاحب ایک قدم پیچھے ہٹتے تھے تو اسٹیبلشمنٹ دو قدم مزید آگے بڑھا دیتی تھی۔ مجھے میاں صاحب کی یہ پالیسی عجیب یوں لگ رہی تھی کہ میں ان کے مزاج سے واقف ہوں، انہیں عزت نفس سے زیادہ شاید کوئی چیز عزیز نہیں۔ اگر کوئی عہدہ انسان کی عزت میں اضافہ کرنے کی بجائے اس میں کمی کا باعث بنتا ہے تو اسے لات مار کر الگ ہو جانا چاہئے۔ میں خود بھی اسی اصول کا قائل ہوں، مگر مجھے علم تھا کہ میاں صاحب مختلف امور پر کمپرومائز کیوں کررہے ہیں اور مجھے یہ بھی علم نہیں یقین تھا کہ یہ سلسلہ مزید کتنے دن اور چلے گا۔

میاں صاحب ماضی میں تین بار اصولوں کی بنیاد پر اور اداروں کو ان کی حدود و قیود میں رکھنے کے اصول کی وزارت عظمیٰ کو ٹھوکر مار چکے ہیں۔ وہ یہ کام اس وقت بھی کرسکتے تھے جب انہیں دل پر پتھر رکھ کر اپنے عزیز ترین ساتھیوں کی جدائی برداشت کرنا پڑ رہی تھی مگر ان کے سامنے ایک بہت ارفع و اعلیٰ مقصد تھا‘ وہ گزشتہ قریباً چار برسوں میں ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر چکے تھے اور پاکستان کو ایک عظیم قوت بنانے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں مشغول تھے، سو انہوں نے اس عظیم مقصد کی خاطر وہ سب کچھ دل پر پتھر رکھ کر برداشت کرلیا جو ان کے مزاج کا حصہ ہی نہیں ہے، ان کا خیال تھا کہ وہ اس طرح کشتی کو منجھدار سے نکال کر کنارے تک لےجانے میں کامیاب ہو جائیں گے، مگر ان کی اس قومی مصالحت کے رویے کو ان کی کمزوری سمجھا گیا، میںنے ان دنوں ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا کہ ’’نوازشریف کو دیوار سے نہ لگائیں‘‘ کہ میں جانتا تھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا اور پھر اس کے بعد وہی ہوا جو ’’نوازشریف لائک‘‘ تھا، نوازشریف ان تمام قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگیا، جو اسے دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کررہی تھیں، اس نے اتمام حجت کے لئے قانونی جنگ بھی جاری رکھی اوراپنا بیانیہ بھی پورے شدومد کے ساتھ پیش کرنا شروع کردیا۔ نوازشریف قوم کو الیکشنوں تک لے جانا چاہتے تھے اور وہ اس میں کامیاب نظر آرہے ہیں کہ جانتے ہیں قوم ان تمام ترقیاتی کاموں کا صلہ ان کی پارٹی کو ضرور دے گی اور یوں ان کی جماعت ایک بار پھر اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے وہ تمام سوراخ بند کرنے کی کوشش کرے گی، جہاں سے حشرات الارض ہر بار نکلتے ہیں اور قومی ترقی کو ڈس کر اسے ادھ موا کر دیتے ہیں۔

اس وقت جو ظلم نوازشریف اور ان کے پورے خاندان کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے، تاریخ میں اس کی صرف ایک دو مثالیں ملتی ہیں، نوازشریف اس بار ایک اور طرح کے روپ میں سامنے آرہے ہیں،انہیں قطعاً کوئی پرواہ نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں ان کی ’’گستاخیوں‘‘ کی کیا سزا دیتی ہے یہ ایک بہادر آدمی ہے یہ وہی آدمی ہے جس کے پاس دو جنرل پستول لیکر گئے تھے اور ایک کاغذ پر دستخط کرنے کے عوض ان کے اقتدار کے ضامن بن رہے تھے مگر نواز شریف نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا تھا ’’اون مائی ڈیڈ باڈی ‘‘ پھر اس کے بعد سارا خاندان قید کر لیا گیا تھا قیدتنہائی نواز شریف کا مقدر بن گئی، سانپ اور بچھو ان کی کوٹھڑی میں چھوڑے گئے تھے، اڈیالہ جیل تھی اور پھر ایک طویل جلاوطنی کی بھیانک سزا تھی۔ ان کے ساتھی پرویز رشید ، رانا ثناء اللہ ، صدیق الفاروق ، خواجہ سعد رفیق، شاہد اللہ خان اور بیسیوں دوسروں کی چمڑیاں اکھاڑی گئی تھیں مگر یہ سب ثابت قدم رہے تھے اگر اسٹیبلشمنٹ نے عقل سے عاری ہونے کا ثبوت دیا تو یہی صورتحال دہرائی جاسکتی ہے مگر یاد رکھیں نواز شریف بڑی سے بڑی سزا بھگتنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں کہ بقول شاعر؎

جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میداں مگر جھکی تو نہیں

لیکن اگر ایسا ہوا تو ملک ایک بار پھر کئی عشرے پیچھے چلا جائے گا باقی رہا یہ سوال کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم کیوں نامزد کیا جا رہا ہے وہ تو نواز شریف کے برعکس پالیسی اپنائے ہوئے ہیں تو سیاست دو جمع دو چار نہیں، پانچ بھی ہوسکتی ہے، تاش کے سارے پتے جس کے پاس ہوتے ہیں ان کا استعمال وہی جانتا ہوتا ہے ان کے دوست تو صرف بہترین مشورے دینے والے ہوتے ہیں تو برادر عزیز سہیل وڑائچ جو اختلافات آپ نے ظاہر کئے ہیں کبھی مجھے بھی میاں صاحب سے یہی اختلافات تھے مگر اب نہیں ہیں آپ ایک سچے اور بہت خوبصورت قلمکار ہیں آپ سے اختلاف اچھا تو نہیں لگتا مگر کیا کروں مجھے حقائق یہی لگتے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے