سر رہ گزر

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے:سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ، سازش ہے تو ثبوت دیا جائے، اس وقت فوج میں کوئی سرکش عنصر موجود نہیں، مشرف کا ترجمان نہیں انہی سے پوچھیں، بیان غیر ارادی نہیں، چین آف کمانڈ کو نشانہ بنایا گیا،
یہ جوش خطابت تھا کہ مکتب کی کرامت تھی .

سکھائے کس نے سعد کو آداب حریفانہ

ٹھیک ہے آزادی اظہار کا حق ہر پاکستانی کو ہے مگر اپنی ہی اس قبا کو چاک کرنا جو سردی گرمی سے بچاتی ہے، ہرگز گوارا ہے نہ ذمہ دارانہ، اس وقت پاکستان کے گرد شیاطین کا دائرہ ہے، اور اس کے اندر بھی اگر سہولت کار ذہنیت ہو گی تو ملک کو تو کچھ فائدہ نہ ہو گا، دشمن جو ازلی ہے کامیاب ہو جائے گا، پاکستان کے خلاف بھارت نے اپنی مکاری و عیاری سے کئی قوتوں کو آمادہ کر لیا ہے کہ ان کی مدد سے پاکستان کو نیست و نابود کرنے کا اپنا خواب پورا کرے، مگر بھارت مت بھولے کہ اس خواب کی تعبیر اس کیلئے بہت بھیانک ہے، پاکستان کے ہاتھوں میں چوڑیاں ہیں اور نہ ہی کھلونے، عساکر پاکستان کا ہر ہاتھ بازوئے شمشیر زن اور ہر آنکھ بیدار ہے، یہود و ہنود اور نصاریٰ یہ جان رکھیں کہ پاکستان کیلئے جنگ کو سنبھالنا بہت آسان مگر بھارت کیلئے بہت مشکل ہو گا لمبی چھڑی آسانی سے ٹوٹ جاتی ہے، چھوٹی چھڑی کا وار بھی زور دار اور وجود بھی ناقابل شکست ہوتا ہے، جس اسلحے کا میوزیم بھارت نے بنا رکھا ہے وہ سیاحوں کیلئے پُر کشش ہو سکتا ہے، اللہ کے شیروں کیلئے جب تک ہے، اسکریپہے، یہاں مرنے کا خوف نہیں، بھارتی صفوں میں جان بچانے کا شوق ہے، سعد رفیق نے جو کہا اس سے کوئی محب وطن پاکستانی خوش نہیں، آخر حکومت کے یہ کل پرزے کس کی مشین میں فٹ ہیں، کہ پاک فوج کی چین آف کمانڈ کو نشانہ بناتے ہیں، ہوش وحواس کہاں ہیں۔

٭٭٭٭
طوطیا من موتیا توں اوس گلی نہ جا

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے:غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا، مطلب غلط نکالا گیا، ہمیں ایک دوسرے کو معاف کر کے اور سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا ہو گا۔

ہم اپنی پاک افواج کو یقین دلاتے ہیں کہ سعد رفیق کے بیان کو نہیں ان کے محب وطن پاکستانی ہونے کو پیش نظر رکھیں اور وزیر موصوف بھی اپنا والیوم پورا نہ کھولیں اور پاک فوج ایک سیاستدان اور ایک وطن کے سپاہی کے بیان میں فرق کو ملحوظ رکھے، صرف نظر کرے، بھول جائے، ہم ایک دوسرے سے دور نہ ہو جائیں، ہماری قوت کمزور نہ پڑ جائے سعد رفیق دل کے رقیق و شفیق ہیں اور ایسے افراد خطیب ہوتے ہیں یہ خطابت کا جوش تھا جسے غیر ذمہ دارانہ سمجھ لیا گیا، بہرحال ایسا سمجھنے والے مخلص محب وطن ہیں، کیونکہ آرمی سمیت پوری پاکستانی قوم سپاہ پاکستان ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں، یہ وقت انتشار کا نہیں اتحاد کا ہے، متحد ہوں گے تو دشمن سے لڑ کر اسے شکست دیکر پھر آپس میں جھیڑا لگانے کا شوق بھی پورا کر لیں گے، ن لیگ اس وقت ایسی حالت میں ہے کہ وہ اپنے غلط کو بھی غلط کہنے کی پوزیشن میں نہیں، لیکن وہ ایک بڑی قومی محب وطن سیاسی جماعت ہے اور رہے گی، شریف خاندان اس ملک کا خیر خواہ ہے، لیکن سیاست میں بعض ایسے مقام آ جاتے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس گلی میں جانا پڑ جاتا ہے جس کے بارے کہا گیا ہے کہ ’’طوطیا من موتیا توں اوس گلی نہ جا پاک فوج نے بیان پر ردعمل کو غیر ذمہ دارانہ کہا ہے تو یہ غلط نہیں، مگر غلطی بھی تو انسانوں ہی سے ہوتی اور انسان بھی اگر اپنے ہوں تو بھول جانا بہتر۔

٭٭٭٭
لمحہ ٔ اتحاد ہے انتشار نہیں

آج بھارت کی پارلیمنٹ میں کوئی رکن اتنا کہہ دے کہ جو کچھ کلبھوشن پاکستان کرتا رہا اگر ہمارے ہاں کوئی پاکستانی ایجنٹ یہی کچھ کرتا تو ہم بھی وہی سلوک کرتے جو پاکستان نے کلبھوشن کیساتھ کیا، یہ کہنا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ اس کی جان کو آ گئی، اور اب تو وہ چھپ رہا ہے کہ اس کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے، کنٹرول لائن پر بھارتی فوج سے جو کچھ کرایا جا رہا ہے اور جو کچھ مزید بڑے پیمانے پر کرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اگر ہم کرتے تو اب تک بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہوتا مگر یہ خوش قسمتی ہے بھارت کی کہ ہمسایہ اچھا مل گیا، اور بدقسمتی پاکستان کی کہ اس قدر خبیث اور کمینہ ہمسایہ پلے پڑ گیا۔ عالم اسلام کی نمائندہ قوت پاکستان ہے، اور یہی باطل کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے کتنے ہی اپنے خیر خواہ اور ہمارے بد خواہ مل گئے، امریکہ ہاتھ دھو کر مسلمانوں کے پیچھے عرصہ دراز سے پڑا ہوا ہے اور اب تو اس کے مضر اثرات ارض حرم تک بھی پہنچ گئے، مگر یاد رہے کہ
؎کافر ہے تو شمیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

حق ناقابل تسخیر ہوتا ہے باطل اپنی روباہی کو اللہ کے شیروں سے چھپا نہیں سکتا، اسلام، شخصیت پرستی کا دین نہیں خدا پرستی سے عبارت ہے، اور یہی اس کا نظریہ حیات و ممات ہے۔ اسلام اپنے نظریئے کو بچانے پر شخصیات قربان کرتا ہے، اور یہ نظریہ توحید ہے جس کی بنیاد پرپاکستان بنا اور تا ابد کھڑا رہے گا، پاکستان ارض جنت ہے، وہاں یہ قائم رہے گا، بلکہ اس کے شہداء تو وہاں پاکستان بنا بھی چکے ہیں پتھر کے صنم پوجنے والوں کی عقل پر پتھر پڑ چکے ہیں، شاید بت کدہ ہند کو پھر تکبیر کی صدائوں نے آ گھیرا ہے، اس لئے وہ اپنی مدد کے لئے شفالوں، روباہوں کو جمع کر رہا ہے، برصغیر پاک و ہند توحید کا مرکز ہے، اس کی سرزمین ایمان کی حرارت والوں کو پکار رہی ہے ایک ہی وار میں دریائوں اور کشمیر سمیت پورا ہندوستان آزاد ہو گا۔ پاکستانی جہاں کہیں ہیں، متحد ہو جائیں، 39کروڑ بھارتی مسلمان بھی کلمہ پڑھتے ہیں، سعد رفیق ابن شہید ہیں ان پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ہر کلمہ گو پاکستانی ہے۔

٭٭٭٭
مشتری ہوشیار باش!

….Oزرداری لاہور پہنچ گئے، آ ج طاہر القادری سے وفد کے ہمراہ ملاقات ہو گی۔ ہمارا خیال ہے کہ زرداری، عمران سے پہلے طاہر القادری کو ہتھیانا چاہتے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری سے اتنی ہی گزارش کی جسارت ہے کہ مشتری ہوشیار باش۔

….Oبھارت، پاکستان دشمنی میں پاگل ہو گیا ہے، 14ٹیکے تیار رکھنا چاہئیں۔

….Oامریکہ چھپ چھپ کر اسلام، مسلمان دشمنوں کو اپنے یونین جیک تلے یکجا کر رہا ہے، مگر وہ یاد رکھے کہ بش ہو یا ٹرمپ دونوں کی مسلم دشمنی نے مسلم امہ کو اس قدر جگا دیا ہے، کہ وہ اب دشمنوں ہی سے قوت حاصل کرے گا۔

….Oہمیں اپنی افواج کے دوش بدوش چلنا ہو گا، اور اپنے جوش کو ہوش کا لبادہ پہنانا ہو گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے