عوامی تحریک کی اے پی سی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری

عوامی تحریک نے جدوجہد کو فیصلہ کن بنانے کی تیاریاں مکمل کر لیں، کارکنوں کو تمام اضلاع میں 15 روز کا راشن جمع رکھنے کی ہدایت کر دی.

لاہور: (دنیا نیوز) سانحہ ماڈل ٹاؤن پر عوامی تحریک کی لاہور میں اے پی سی میں شرکت کے لئے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ طاہرالقادری آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

تحریک انصاف، پیپلزپارٹی سمیت 12 سے زائد جماعتیں شریک ہوں گی۔ تحریک انصاف کا وفد شاہ محمود قریشی، چوہدری سرور، اعجاز چوہدری اوردیگر رہنماوں پر مشتمل ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی کے وفد میں قمر زمان کائرہ، رحمن ملک، سردار لطیف کھوسہ اور میاں منظور وٹو شامل ہوں گے۔

عوامی مسلم لیگ کا وفد شیخ رشید، پاک سرزمین پارٹی کا وفد مصطفیٰ کمال کی قیادت میں شریک ہوگا۔ مولانا سمیع الحق کی جماعت کا وفد بھی شرکت کرے گا۔ مسلم لیگ ق، جماعت اسلامی، سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت المسلمین، علما مشائخ اور بار کے وفد بھی شریک ہوں گے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا آغاز ڈاکٹر طاہرالقادری کے خطاب سے ہوگا۔ اے پی سی میں 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن کے بعد کے لائحہ عمل کا اعلان ہوگا۔

دوسری جانب عوامی تحریک نے جدوجہد کو فیصلہ کن بنانے کی تیاریاں مکمل کر لیں، تمام کارکنوں کو ہدایت دی کہ تمام اضلاع میں 15 روز کا راشن رکھا جائے، جنوری میں طویل دورانیے کا احتجاج ہو سکتا ہے۔ خرم نواز گنڈا پور کا کہنا ہے تمام سیاسی جماعتیں عوامی تحریک کے ساتھ کھڑی ہیں، اے پی سی میں متفقہ قرارداد پاس کی جائے گی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کنٹینر بھی تیار ہو گیا، تزئین و آرائش مکمل کر لی گئی۔ سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید بھی حکومت مخالف فیصلہ کن تحریک کی تجویز اور اپوزیشن کو سڑکوں پر آنے کامشورہ دینگے۔ شیخ رشید کا کہنا ہے حکمران قانونی و اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔

سرابرہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران 31 دسمبر تک اپنے عہدے چھوڑ دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، راناثنااللہ و دیگر قانون کے سامنے خود کو سرنڈر کریں۔ سربراہ عوامی تحریک نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو غیر سنجیدہ لے رکھا ہے لیکن اب شہداء کے انصاف میں غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہون نے کہا جسٹس باقر نجفی کو سلام ہے جس نے آئی جی کے منہ سے سچ اگلوایا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے