کیا کریں ، مجبور ہیں

گذشتہ کالم میں لکھا کہ کشمیر اور فلسطین دونوں جگہ مسلمان غاصبانہ قبضے کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں اور دونوں کی نوعیت ایک جیسی ہے۔نص شرعی میں کہیں نہیں لکھا کہ فلسطین کی تحریک تو بہت افضل ہے اور کشمیر کے لہو کی کوئی قیمت نہیں، ایسابھی نہیں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ تو محض زمین کا مسئلہ ہو اور فلسطین کا مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ ہو ۔چند احباب نے قبلہ اول اورتولیت اقصی کے دلائل دے کر اس موقف سے اختلاف کیا اور فلسطین کو مذہبی مسئلہ قرار دینے پر اصرار کیا۔حقیقت اس سے مختلف ہے۔حقیقت کیا ہے؟ آئیے قرآن و سنت ، صحابہ کرام ، فقہاء اور خود فلسطینی موقف کی روشنی میں اس کا جائزہ لے لیتے ہیں۔

قبلہ اول کے حقیقی تصور کو قرآن نے وضاحت سے بیان کر دیا ہے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے:’’ اور ہم نے یہ قبلہ جس کی طرف آپ رخ کرتے رہے صرف اس لیے مقرر کیا تا کہ ہم رسول کی پیروی کرنے والوں اور الٹے پاؤں پلٹ جانے والوں کے مابین امتیاز قائم کر دیں‘‘۔
یعنی جب مسجد اقصی کو قبلہ بنایا تو عربوں کا امتحان لے لیا کہ کون عرب تعصب سے بالاتر ہو کر عرب کے کعبے کو صرف اللہ کے حکم پر چھوڑ کر بیت المقدس کو قبلہ بناتا ہے۔اور جب واپس بیت اللہ کو قبلہ بنا دیا تو بنی اسرائیل کے نسلی تفاخر کا ابطال کر دیا اور ان کا امتحان لے لیا کہ کون اس عصبیت پر اصرار کرتا ہے اور کون اللہ کے حکم پر اس عصبیت کی نفی کر کے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر لیتا ہے۔یاد رہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کی خواہش مبارک بھی یہی تھی اور اس کا ذکر خود قرآن نے فرما دیا:’’ آپ کے چہرے کے بار بار آسمان کی طرف اٹھنے کو ہم دیکھتے رہے ہیں پس ہم آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے۔‘‘

چنانچہ سورہ بقرہ ہی میں اللہ تعالی نے بیت اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ اور بیت المقدس کو یہود کا قبلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’ تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے کر آؤ ممکن نہیں یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں۔اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو۔اس آیت کو کھول کر پڑھیے اس میں خانہ کعبہ کے لیے ’ قبلتک ‘ یعنی تمہارا قبلہ اور بیت المقدس کے لیے ’ قبلتھم‘ یعنی ان کا قبلہ ، یہود کا قبلہ کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔جو لوگ مصر ہیں کہ فلسطین کے مسئلے سے ہماری وابستگی کی وجہ قبلہ اول ہے وہ اس آیت کو اچھی طرح پڑھ لیں۔

اس معاملے کو بعد میں مزید آسان طریقے سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حضرت عمرؓ نے حل کر دیا۔638 ء میں جب آپ نے بیت المقدس فتح کیا تو یہاں تشریف لائے ۔کعب الاحبار سے دریافت کیا کہ کہ صخرہ ، یعنی یہودیوں کا قبلہ کہاں ہے۔کعب نے پیمائش کر کے جگہ بتا دی۔ روایت ہے کہ عیسائیوں نے اس جگہ کو نفرت کے اظہار کے طور پر گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا تھا۔حضرت عمر ؓ نے یہ حالت دیکھی تو صخرہ کو صاف کرنے کا حکم دیا اور اپنے ہاتھوں سے صفائی شروع کر دی۔اس کے بعد نماز کا وقت آ گیا۔ کعب نے مشورہ دیا کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے جہاں صخرا بھی سامنے ہو اور کعبہ بھی تاکہ دونوں کی تعظیم ہو جائے۔البدایہ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے یہ فرما کر اس تجویز کو رد کر دیا کہ اے ابو اسحاق ! تم پر ابھی یہودیت کے اثرات باقی ہیں۔ آپؓ فاتح تھے ۔آپؓ چاہتے تو پورے بیت المقدس میں جہاں دل کرتا نماز ادا کرتے ۔مگر آپؓ نے بیت المقدس کی جنوبی دیوار کے قریب ایک جگہ کو نماز کے لیے مختص کیا۔یہ جگہ شروع میں مسجد عمر کے نام سے موسوم ہوئی اور اب اسی مسجد عمر کو ہم مسجد اقصی کہتے ہیں۔

یوں گویا حضرت عمر ؓ نے اس احاطہ بیت المقدس میں مسلمانوں کا حق اس مسجد تک طے کر دیا ۔ جیسے کلیسائے قمامہ اور کلیسائے قسطنطین پر عیسائی حق اور قبہ الصخرا پر یہودی حق ۔اگر چہ اس سارئے احاطے کو حضرت سلیمان کی نسبت سے مسجد اقصی ہی کہا جاتا تھا مگر حضرت عمر کے اس فیصلے کے بعد مسلمانوں نے اپنے سلسلہ عبادت کو مسجد عمر ( مسجد اقصی) تک محدود رکھا اور اسے بلا شرکت غیرے مسلمانوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ ہمارے ہاں مسجد اقصی سمجھ کر جو گول گنبد کی تصویر شیئر کی جاتی ہے وہ مسجد اقصی نہیں وہ قبہ الصخرا ہے۔ ابن تیمیہ نے اقتضاء الصراط المستقیم میں لکھا :’’ بیت المقدس کا صرف وہ حصہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے جسے سیدنا عمرؓ نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص کیا۔اس کے علاوہ باقی کسی حصے کو دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے‘‘۔ابن تیمیہ ہی سے روایت ہے ابن عمر بھی یہاں تشریف لائے تو صرف مسجد عمر ( مسجد اقصی) تشریف لے گئے اور انہوں نے قبہ کو کوئی تعظیم نہیں دی۔

ابن تیمیہ مزید لکھتے ہیں:’’ دنیا میں کوئی حرم نہیں ہے۔بیت المقدس نہ کوئی اور ۔ سوائے دو حرموں ( مکہ اور مدینہ ) کے۔ان کے علاوہ کسی جگہ کو حرم کہنا جیسا کہ کئی لوگ حرم القدس اور حرم الخلیل کہتے ہیں ، بالکل غلط ہے‘‘ عبد اللہ ابن ہشام انصاری کے مطابق : ’’ میں نے اس شہر ( بیت المقدس) کے رہائشیوں میں سے بڑے بڑے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ ’ حرم القدس‘ کا لفظ بولتے ہیں ۔ وہ اس چیز کو ایسا کہہ کر اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں‘‘۔خود سعودی عرب کی فتوی کمیٹی کے مطابق :’’ہمارے علم میں ایسی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے یہ پتا چلے کہ مسجد اقصی بھی مسجد حرام اور مسجد نبوی کی طرح حرم ہے‘‘۔(( فتوی نمبر5387، فتاوی للجنتہ الدائمہ )۔
قبہ الصخرا ہیکل سلیمانی کی چٹان کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے اور یہی یہود کا قبلہ ہے۔اب آئیے اس سوال کی طرف کہ قبہ الصخراء کی تعظیم کا تصور مسلمانوں میں کیسے آیا۔اس پتھر کی تعظیم کا سلسلہ اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں شروع ہوا۔اس نے اس پتھر پر قبہ تعمیر کرایا اور یہ قبہ الصخرا کہلایا اور ہم پاکستانی مسلمان ابھی تک اسے مسجد اقصی سمجھ کر اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ولید بن عبد الملک نے ایسا کیوں کیا۔ ابن خلکان اس کا جواب یوں دیتے ہیں:’’ جب عبد الملک خلیفہ بنا تو اس نے ابن زبیر ؓ کی وجہ سے اہل شام کو حج کرنے سے روک دیا کیونکہ وہ وہاں جا کر ابن زبیرؓ کی بیعت کر لیتے تھے۔جب لوگوں کو اس سے روکا گیا تو انہوں نے شور کیا۔چنانچہ عبد المک نے بیت المقدس میں صخرہ کے اوپر عمارت بنا دی (اور اسے حرم الشریف قرار دے دیا) اور لوگ عرفہ کے دن یہاں حاضر ہو کر وقوف کی رسم ادا کرنے لگے‘‘۔ابن القیم اپنی کتاب المنار المنیف فی الصحیح و الضعیف میں لکھتے ہیں کہ صخرہ کے متعلق تمام روایات جھوٹی ہیں اور ایسا صرف اس لیے کیا گیا کہ زائرین کی تعداد میں اضافہ ہو سکے۔

معاملہ قبلہ اول کا نہیں ہے۔ یہ معاملہ سیدنا عمرؓ طے فرما چکے۔ معاملہ یہ ہے اسرائیل نے یہاں غاصبانہ قبضہ کیا ، اور مسلمانوں کو ان کے علاقوں سے جبرا بے دخل کیا۔چنانچہ آپ خود فلسطین اور دیگر عرب ممالک کا مطالبہ دیکھ لیں ۔ یہی مقبوضہ جات اس کا بنیادی نکتہ ہیں۔ اب تو وہ بات بھی ختم ہو چکی کہ اعلان بالفور کے بعد آنے والے یہودی فلسطین سے نکل جائیں۔ اب تو سب کا مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل 1967 کی جنگ سے پہلی کی پوزیشن پر لوٹ جائے، جن عربوں کو نکالا گیا انہیں واپسی کا حق دیا جائے ۔مشرقی یروشلم پر بھی فلسطینی اسی اصول کے تحت اپنا حق جتاتے ہیں اور یہی اقوام متحدہ کا موقف بھی ہے۔وہ عرب ممالک جنہوں نے ابھی تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ان کا بھی موقف اب یہ ہے کہ اسرائیل اگر یہ مقبوضہ جات خالی کر دے تو اسے بطور ریاست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

گویا فلسطین کی لڑائی بھی کشمیر کی مزاحمت کی طرح اصل میں قابض اور غاصب قوت کے خلاف ایک جائز مزاحمت ہے۔اور دونوں میں فی نفسہ کوئی فرق نہیں ۔قبلہ اول تو سورہ بقرہ نے ’ قبلتھم ‘ قرار دے دیا۔اب آپ بھی اسی اصول کے تحت لڑ رہے ہیں جس اصول کے تحت کشمیری لڑ رہے ہیں۔چنانچہ اب ہماری کشمیر کی تحریک آزادی کو آپ جس نظر سے دیکھیں گے آپ کی تحریک آزادی فلسطین کو بھی ہم اسی نظر سے دیکھیں گے۔

اصول یہی ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ اصول اختیار کرنا ہم پاکستانیوں کے بس میں شاید نہ ہو۔ ہم عربوں جیسے سخت دل شایدکبھی نہ ہو سکیں۔ ہم اس خطے کے باسی ہیں جہاں سے میر عرب ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آتی تھی۔ہم مجبور ہیں، اسی طرح جیسے ترک مجبور ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے