کیاایران میں بھی عرب بہارآنے کوہے ؟

2011 کے اوائل میں جب مشرق وسطی کے ملکوں (تیونس، مصر، یمن ، لیبیا )میں حکمرانوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں اور یکے بعد دیگرے کامیاب بھی ہو گئیں ، تو اسے عرب بہارقرار دیا گیاتاثریہ دیاگیاکہ عرب دنیا کو موروثی بادشاہتوں اور فوجی آمریتوں کے تسلط سے آزادی مل رہی ہے اور اس پرجمہوریت کی بہار چھا رہی ہے ۔ایران سمیت مختلف ممالک کی طرف سے اس وقت عرب بہارکاخیرمقدم کیاگیا مگر
ہم سادہ ہی ایسے تھے ، کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی ، سمجھے کہ بہار آئی
عرب بہار سے متاثرہ ممالک تاحال عدم استحکام کاشکارہیں دنیاکے مضبوط ترین ممالک کوکمزوردیگرممالک کامحتاج بنادیاگیا کئی ممالک میں تاحال خانہ جنگی کاشکارہیں ، سیاسی حقوق، باعزت و باوقار زندگی،معاشی مواقع، اورجمہوریت کے حصول کے لئے جو جدوجہد شروع کی گئی ،حالات و واقعات کی دھند میں کہیں گم ہو گئے ہیں اور آج مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ میں صرف خون خرابہ اور خانہ جنگی نظر آتی ہے، جو عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

ایران نے اس عرب بہارکابھرپورفائدہ اٹھایا عراق میں امریکہ کی مددسے اپنی حکومت قائم کی،شام میں جب عرب بہارکے جھونکے آئے توایران بشارالاسدکے ساتھ کھڑاہوگیا ،شام میں ایرانی مداخلت کے نتیجے میں سر پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے سب سے پہلا انکشاف انٹیلی جنس معلومات کے اِفشا ہونے سے سامنے آیا جن کو ایرانی اپوزیشن تنظیم "مجاہدین خلق” نے 2016 کے اواخر میں نشر کیا تھا۔گزشتہ سال کے اختتام پر شام میں ایرانی اور ایران کی حمایت یافتہ فورسز کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں تقریبا 15 ہزار کا تعلق پاسداران انقلاب یا ایرانی فوج سے ہے جب کہ بقیہ تعداد پاکستان ،افغانستان اوردیگرممالک سے بھرتی کیے جانے والے رضا کاروں کی ہے۔ایرانی اپوزیشن کی جانب سے ظاہرکردہ معلومات کے مطابق شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور عراقی اور افغان ملیشیائوں کے مارے جانے والے ارکان کی تعداد 3 ہزار ہو چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے زیادہ تر ارکان حلب میں ہلاک ہوئے۔ شامی بحران کے آغاز سے اب تک ایران نواز مسلح جماعتوں کے ارکان کی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار کے قریب ہے۔جہاں تک شام میں ایرانی اخراجات کا تعلق ہے تو اقوام متحدہ کے غالب گمان کے مطابق یہ رقم سالانہ 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔یاد رہے کہ تہران حکومت ملک میں غیر ملکی ملیشیائوں کے تمام جنگجوں کی تنخواہیں ادا کرنے کی ذمے دار ہے، ان گروپوں کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔

عرب دنیا کا موقف ہے کہ ایران کا جارح ایجنڈہ ان کے لئے خطرنا ک ہے۔ ایران براہ راست شام کے اندر لڑائی میں مصروف ہے۔ عراق میں اس کے جارحانہ عزائم کی عملی شکل نمایاں ہے۔ اسی طرح لبنان میں اس کی ” پراکسی ” جنگ جاری ہے۔ غزہ ، یمن اور بحرین میں اس کی جارحیت کے مظاہر ہیں۔ مزید یہ کہ سوڈان میں بھی اس کی موجودگی ہے۔ اگرچہ صدر عمر البشیر کا دعوی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں ایران سے متعلق تمام دفاتر کو بند کر دیا ہے۔ بحرین میں بھی ایسا ہی ہے ، تاہم زیادہ جگہوں پر ایران اپنے اتحادیوں کو مدد دے رہا ہے۔جس پر عرب دنیاکو سخت اختلاف ہے۔ اور وہ اسے اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔

ایران کے پڑوسی ممالک ایرانی مداخلت سے بیزار آچکے ہیں کیونکہ ایران پڑوسی ممالک کے امن و استحکام اور خودمختاری کو خطرات لاحق کررہا ہے۔ خونریز انقلاب برآمد کرنے کی کوششوں سے پڑوسی ممالک زچ ہوگئے ہیں۔ ایران کے پڑوسی ممالک ایران،عراق،سعودی عرب، شام ،پاکستان ،افغانستان اور یمن وغیرہ ممالک میں دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی امن و استحکام کو متزلزل کرنے والی کوششوںاور وطن کو فرزندان وطن کے ہاتھوں تعمیر و ترقی کی شاہراہ پرچلنے سے روکنے والی ایرانی ترکیبوں سے عاجز آچکے ہیں،

ایران نے جہاں ایک طرف مغرب سے مفاہمت کی پالیسی شروع کی ہے ۔وہاں اس کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات روز بروز کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کہنا کسی طرح بھی غلط نہ ہو گا کہ اس کی سرگرمیاں اب پورے علاقے میں پھیل چکی ہیں۔ ان سرگرمیوں کا دائرہ سعودی عرب، عراق، یمن، خلیج بحرین اور لبنان تک وسعت پا چکا ہے۔ اس پورے علاقے میں ایران سیاست میں ملوث ، ابلاغی شعبے میں متحرک ، تیل کے حوالے سے سرگرم اور ہتھیاروں کے علاوہ مذہبی بنیادوں پر بھی فعال ہے۔ جس نے پورے خطے میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس منظر نامے میں یہ ایک وسعت کا حامل تصادم ہے یا عرب بہارسے خطے میں شروع ہونے والے خلل کے بعد کی ایک شکل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وقوع پذیر ہونے والے ان واقعات کی صرف یہی ایک وجہ ایران ہے؟ ایران کی ان پالیسیوں میں یہ چیز ظاہر وباہر ہے کہ وہ اپنے انقلاب کو علاقے میں برآمد کرنا چاہتا ہے۔ یہ کوشش ایران نے پاکستان میں کی تھی۔ جس کے بعد پاکستان میں ایک بڑی فرقہ وارانہ لڑائی شروع ہو گئی۔ اور کئی سال پاکستان اس دلدل میں پھنسا رہا۔ ایران نے پاکستان میں مخصوص گروپوں کی مدد شروع کی ۔ جس سے پاکستان کے اندر مسائل پیدا ہوئے۔جبکہ حالیہ سالوں میں کلبھوشن اورعزیربلوچ نے جوانکشافات کیے ہیں وہ بھی ایران کے حوالے سے خوفناک ہیں ۔

ایران کی طرف سے اپنے آس پاس جنگوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کی معیشت پربرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیاں مزیدسخت کرنے اورجوہری معاہدہ ختم کرنے کے اعلان نے جلتی پرتیل کاکام کیاہے، ایران جیسے ملک جس کی معیشت کا بنیادی انحصار تیل کی فروخت پر ہے اور جس ملک پر پچھلے 40 سال سے بدترین اقتصادی پابندیاں عائد ہیں، کا ان اثرات سے محفوظ رہنا لگ بھگ ناممکن ہے،ایسے حالات میں بے روزگاری ،مہنگائی اورغربت سے تنگ آئے عوام کاسڑکوں پرآناکوئی اچھنبے کی بات نہیں ،گزشتہ کئی دنوں سے ایران میں مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے اوراب یہ مظاہرے خون ریزہوگئے ہیں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دودرجن سے زائدافرادجاں بحق ہوچکے ہیں ۔

ایران کی حکومت کے خلاف بیداری کی تحریک دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جارہی ہے۔ مظاہروں کی لہر نئے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ ایرانی کردستان کے شہری بھی مظاہروں میں شامل ہوگئے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مظاہرین ایران کی خارجہ پالیسی کو مسترد کررہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ داخلی انتظامیہ کے ان طور طریقوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں جنکی وجہ سے معاشی بحران دھماکہ خیز صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اشیائے صرف کے نرخ جنونی شکل میں بڑھ گئے ہیں اور بے روزگاری کی شرح نقطہ عروج کو چھونے لگی ہے۔ایرانی حکام نے سوشل میڈیا پر بندش عائد کرکے صحافیوں کے منہ بند کردیئے۔

ایرانی عوام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ایران کے لنگڑے لولے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خواہشمند نظرآرہی ہے۔ ایرانی نظام حکومت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اسلحہ کے بل پر آباد دنیا کے ممالک کو خطرات لاحق کررہا ہے۔ اس حوالے سے ایران کی نوبل امن انعام یافتہ وکیل شیریں عبادی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بد امنی ایک بڑی تحریک کا نقطہ آغاز ہے اور یہ تحریک 2009 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے بھی زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے 2015 میں امریکا اور یورپ کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد بھی آبادی کو کچھ فائدہ نہیں ہوا حالانکہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ پابندیوں کے خاتمے سے ایرانیوں کے حالات میں بہتری آئے گی۔ایسے حالات میں ایران کواپنی پالیسیوں پرنظرثانی کرناہوگی ہمارے خیال میں مستحکم ایران سب کے مفادمیں ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے