ٹرمپ پالیسی، پاکستان کے ٹرمپ کارڈز اور افغانستان

امریکہ کی بدمعاشی، ہٹ دھرمی اور حماقتوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اس کی بے وفائیوں اور افغانستان میں اس کی حماقتوں پر ماضی میں ہزاروں صفحات سیاہ کرچکا ہوں اور لاکھوں مزید سیاہ کئے جاسکتے ہیں۔ پاکستان میں امریکہ کو گالی دینا فیشن بن چکا ہے ۔ اس کو گالی دینے میں کوئی رسک نہیں کیونکہ امریکہ باہر تو کیا اپنے ملک کے اندر بھی زبانی کلامی دھمکیاں اور گالیاں دینے والوں کا برا نہیں مناتا ۔ البتہ اگر کوئی حقیقی معنوں میں اس کے مفادات کو زک پہنچائے تو پھر اسے ٹھکانے لگانے میں ہر حد تک جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے میدان سیاست میں ووٹ اور میدان صحافت میں ریٹنگ بڑھانے کے لئے امریکہ پر تبرا بھیجنے اور دھمکانے کی روش عام ہے۔ جو مذہبی لیڈر خلوتوں میں امریکہ سے اقتدار کی بھیک مانگتے ہیں ،وہ میدان میں سب سے زیادہ نعرہ زن ہوتے ہیں ، جو صحافی اپنے بچوں کو مغربی ممالک کی شہریت دلاچکے ہیں ،وہ سب سے زیادہ چیخ و پکار کررہے ہیں اور جن اینکرز کی جیبوں میں امریکہ اور برطانیہ کی شہریت کے کارڈ پڑے ہیں وہ سب سے زیادہ چلارہے ہیں ۔ وہ ریٹائرڈ جرنیل جنہوں نے مذہبی سیاسی لیڈروں کو امریکہ کے خلاف میدان میں اتارا ، ان کے اپنے بچے امریکہ یا آسٹریلیا کے شہری ہیں ۔نمایاں مثال جنرل پرویز مشرف کی ہے ۔ ایک طرف وہ امریکہ کا اتحادی بن گیا۔ دوسری طرف ایم ایم اے بنا کر اسے امریکہ کو دھمکیاں دینے کے کام پر لگایا ۔ پھر امریکہ کے ڈبل گیم کے جواب میں جرات کرکے اتحاد ختم کرنے کی بجائے افغانستان میں ڈبل گیم کا آغاز کیااور پھر ٹی وی پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کے لئے اعلانات کرتا پھررہاہے کہ ہاں ہم نے افغانستان میں ڈبل گیم کی۔ اب وہ خود لندن یا یواے ای میں رہتا ہے ۔ ان کا اکلوتا بیٹا امریکہ میں مقیم ہے اور وہ ٹی وی چینلز پر آکر حافظ سعید کو اپنا ہیرو قرار دے کر امریکہ کو للکا ررہا ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس ملک سے کیسے لڑ سکتے ہیں جہاں ہمارے تمام اشرافیہ کے بچے مقیم ہیں ۔ تبھی تو امریکی ہماری عزت نہیں کرتے اور اس لئے ان کے اٹارنی سے لے کر صدر ٹرمپ تک پاکستان کے بارے میں توہین آمیز بیانات جاری کرتے رہتے ہیں ۔

الحمدللہ پاکستان اب اس حد تک امریکہ کا محتاج نہیں جس طرح ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حماقتوں سے بالواسطہ پاکستان کے محسن ثابت ہورہے ہیں ۔ پاکستانی پالیسی ساز مکمل طور پر چین اور روس کی کیمپ میں جانے کے معاملے میں گومگو کا شکار تھے لیکن اپنے جارحانہ رویے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ان کی طرف دھکیل دیا۔ ماضی میں چین اور بالخصوص روس پاکستان پر زیادہ اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کی طرف سے اشارہ ملتے ہی پاکستان دوبارہ اس کے کیمپ میں جاسکتا ہے لیکن اب جس طریقے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکانے کی کوشش کی اور اس کے جواب میں پاکستان بھی کھل کر آنکھیں دکھانے پر مجبور ہوگیا جس کی وجہ سے بڑی حد تک روس کا بھی اعتماد بحال ہورہا ہے ۔ افغانستان کے معاملے پر چین اور بالخصوص روس پاکستان کے ہمنوا نہیں تھے ۔وہ دونوں وہاں ہندوستان کے اثرورسوخ سے اس قدر پریشان نہیں تھے جس طرح کہ پاکستان تھا لیکن اپنی جنوبی ایشیاپالیسی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جس طرح ہندوستان کو افغانستان میں اپنا پراکسی بنانے کی خواہش ظاہر کی اس کی وجہ سے چین اور روس بھی وہاں ہندوستان کے کردار سے معترض ہوگئے اور شاید یہی وجہ ہے کہ چین نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سخت ترین الفاظ میں مسترد کردی ۔اسی طرح ایک طرف چین پہلی مرتبہ افغانستان کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ نظر آرہا ہے تو دوسری طرف روس نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ افغانستان میں دلچسپی لینی شروع کردی ہے ۔ افغانستان کے ضمن میں پاکستان کا ایک بڑا مخمصہ یہ تھا کہ ایران اس حوالے سے ہندوستان کا اسٹرٹیجک پارٹنر بنا ہوا تھا ۔ اوباما کے دور میں جوں جوں ایران اور امریکہ کے تعلقات بہتر ہورہے تھے توں توں خطے میں ایران اور ہندوستان کی اسٹرٹیجک پارٹنر شپ بڑھ رہی تھی ۔ہندوستان کے تعاون سے چابہار بندرگاہ کی تعمیر اور کلبھوشن یادیو اس کی واضح مثالیں ہیں ۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے جس تیزی کے ساتھ ایران کو دوبارہ حریف اور ہندوستان کا اپنا حلیف بنا دیا ، اس کی وجہ سے ایران اور ہندوستان کی اس قربت میں بھی مشکلات آگئیں اور امریکہ کے مشترکہ خطرے کے تناظر میں اب پاکستان اور ایران قریب آسکتے ہیں۔
یہ تو وہ ٹرمپ کارڈز ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب میں پاکستان کو میسر ہیں لیکن ایک اور پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ برطانیہ،یورپ، شمالی کوریا اور ایران وغیرہ سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ جو احمقانہ بیانات دے رہے ہیں ، وہ پوری طرح امریکی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کے عکاس نہیں ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان سے متعلق بھی شاید امریکی اسٹیبلشمنٹ ان کے عزائم کو پوری طرح عملی جامہ نہ پہنا ئے لیکن جو الزام وہ پاکستان پر لگارہا ہے یہی الزام سابق صدر بش بھی لگاتا رہا اور صدراوباما بھی ۔ پاکستان سے متعلق بنیادی طور پر یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی شکایت ہے جس کو ڈونلڈ ٹرمپ احمقانہ انداز میں الفاظ کا جامہ پہنا رہے ہیں ۔ اس شکایت میں برطانیہ اور یورپ بھی بڑی حدتک امریکہ کے ہمنوا ہیں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جو متاثرہ فریق (افغانستان) ہے وہ امریکہ سے بھی بڑھ کر شدومد کے ساتھ پاکستان پر یہ الزام لگارہا ہے اور ظاہر ہے دنیا کی روایت یہ ہے کہ وہ متاثرہ فریق کی بات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ یوں افغانستان سے متعلق امریکہ کے ردعمل میں آکر ہمیں معاملے کو زیادہ بگاڑ کی طرف نہیں لے جانا چاہئے ۔ امریکہ کچھ بھی کہے یا کرے ہمیں افغانستان کی تمام جائز شکایات کو دور کرنا چاہئے کیونکہ افغانستان میں امن امریکہ کی نہیں، پاکستان کی ضرورت ہے ۔ ہم نے اگر افغانستان کے عوام کو مطمئن کیا تو امریکہ اس معاملے پر ہمیں بلیک میل کرسکے گا اور نہ پاکستان سے متعلق اس کے بیانیے میں کوئی وزن باقی رہے گا۔ پاکستان میں کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت تو امریکہ کی غلام ہے اور اسے جو امریکہ کہے گا وہ پاکستان سے متعلق وہی رویہ اپنائے گی ۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ امریکہ کا تو پاکستان کے ساتھ لواینڈ ہیٹ (Love and Hate) کا تعلق رہا ہے جبکہ ایران کے ساتھ تو اس کی مخاصمت میں د و رائے نہیں ۔ امریکہ نے کیا کوشش نہیں کی ہوگی کہ افغانستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرے لیکن نہ کبھی حامد کرزئی نے ایران کے خلاف ایک لفظ منہ سے نکالا اور نہ ڈاکٹر اشرف غنی نے ۔ افغانستان کی سرزمین ایران کے خلاف تو کیا استعمال ہوتی ، الٹا وہاں امریکہ کی موجودگی میں ایران نے افغانستان کی سرزمین کو گزشتہ سالوں میں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور آج بھی کررہا ہے ۔ یقیناََ ہمیں امریکہ کا وہ مطالبہ تسلیم نہیں کرنا چاہئے جو پاکستان کے مفادات کے منافی ہو لیکن اگر وہ مطالبہ افغانستان میں مزاحمت کے خاتمے میں تعاون سے متعلق ہو تو اس پر بلاوجہ سیخ پا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اس وقت افغانستان میں امن افغانستان کے بعد پاکستان، چین، روس اور ایران کی ضرورت ہے جبکہ وہاں بدامنی سب سے بڑھ کر امریکہ اور ہندوستان کے مفاد میں ہے۔

اس لئے امریکی رویے کے تناظر یا ردعمل میں افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی تشکیل دینا جذباتی حماقت کے سوا کچھ نہیں ۔ امریکہ کچھ بھی کرے ، ہمیں اس کا جواب امریکہ کو دیگر محاذوں پر دینا چاہئے ۔ اس کی ہٹ دھرمی یا سازشوں کا انتقام افغانستان سے لینا اپنے آپ سے انتقام لینے کے مترادف ہوگا۔ امریکہ اور ہندوستان کے عزائم کی ناکامی کے لئے ضروری ہے کہ ہم افغانستان کو اعتماد میں لے کر بہر صورت وہاں استحکام لانے کی کوشش کرے ۔ افغانستان کو مرکز اور بنیاد بنا کر ہمیں چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر مشترکہ بلاک اور حکمت عملی بنانی چاہئے ۔ افغانستان میں امن نہیں ہوگا اور جنگ کسی بھی دو فریقوں کے مابین گرم ہو گی تو یہ بلاک بن سکتا ہے اور نہ وہاں سے امریکہ اور ہندوستان کو بے دخل کرایا جاسکتا ہے ۔ امریکہ کو تبھی بے دخل کیا جاسکے گا جب افغانستان میں امن ہو اور افغان حکومت کےپاکستان کے ساتھ اعتماد کے روابط استوار ہوں ۔ افغانستان کی حماقتیں اور پاکستان کے ساتھ بے وفائیاں اپنی جگہ لیکن امن اور خوشحالی کسے نہیں چاہئے ۔ اتنا تو ہر افغانی سمجھتا ہے کہ امریکہ اور ہندوستان سے زیادہ ان کے لئے چین ، روس ، پاکستان اور ایران اہم ہیں ۔ لیکن جب تک افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام رہے گا ، تب تک افغان امریکہ اور ہندوستان جیسی طاقتوں کے رحم وکرم پر رہیں گے اور اگر ان کی محتاجی ختم ہوگئی تو وہ پڑوسی اور علاقائی ممالک کی طرف آنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے