زینب کا قصور۔۔۔؟؟

ہاتھ شل ہیں۔ آنکھیں نم ہیں۔ دل اور دماغ غم و غصے سے بے قابو ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا لکھوں۔جو دل اور دماغ میں ہے اسے کاغذ پر اُتاروں تو کاغذ جل کر راکھ ہو جائے۔ زینب کا چہرہ آنکھوں سے ہٹتا نہیں۔ اس کے والدین کے دل پھٹ رہے ہوں گے۔ خانہ خدا میں اولاد کی صحت سلامتی اور ترقی کی دعائیں مانگی ہوں گی۔ زینب کے لیئے وہاں سے کپڑے اور کھلونے بھی خریدے ہوں گے۔ اولاد اللہ ہی کا مال ہوتی ہے۔ اس کی مرضی جب عطا کرے اس کی مرضی جب واپس لے لے، دکھ تو اس ظلم پر ہے جو اس معصوم کے ساتھ ہوا۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔

اور اس دکھ سے بھی سوا دکھ ہے اپنے اداروں ، قانون کے محافظوں اور حکمرانوں کے روئیے کا، ان کی بے حسی کا اور اس واقعے کو بھی ایک معمول کے واقعے کی طرح دیکھنے کا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ہمارے سیاستدانوں کو، سیاسی قائدین کو اس واقعے پر دکھ ہوا ہوگا؟ ہر گز نہیں۔ چینل اور اخبارات پر ان کے جو مذمتی بیانات چلے ہیں شائد ہی انہیں پتا ہو۔ ان کے میڈیا والوں کے فرائض میں شامل ہے کسی بھی افسوسناک واقعے پر ان کی طرف سے فوری مذمت جاری کرنا۔ اور اس مذمت میں کیا ہوتا ہے۔شدید افسوس، واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ۔ بس کام ہو گیا۔

”وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں بچے اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کرلی”۔ لیکن پھر اِس کے بعد کیا ہوا؟ کتنے مجرم پکڑے گئے؟ کتنوں کو سزا ملی؟ ایک کو بھی نہیں۔ سزا ہی تو نہیں ملتی ہمارے ہاں۔ سزا کا تصور ہی نہیں رہا۔ جرم کرنے والے کا اطمینان قابل دید ہوتا ہے۔ وہ پر اعتماد ہوتا ہے کہ پکڑا نہیں جائے گا اور اگر پکڑا گیا تو ایک سو ایک طریقے ہیں یہاں سزا سے بچ جانے کے۔ ہمارے قاتل اور چور وکٹری کا نشان بناتے ہیں ۔ دو سال ہوئے ، ستمبر 2015 کے دوران قصور میں بچوں سے زیادتی کا اسکینڈل منظرعام پر آیا تھا۔ 280 سے زائد بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنے تھے۔ اس وقت ہی قانون درست انداز میں حرکت میں آیا ہوتا تو شائد سال رواں میں زینب سمیت دس بچے درندگی کا شکار نہ ہوتے۔ لیکن کس سے شکایت کریں؟ کس کا گریبان پکڑیں؟ اُن حکمرانوں کا جن کی ساری قوتیں ایک شخص کو بچانے اور پارسا ثابت کرنے پر صرف ہو رہی ہیں۔ جن کی ترجیح نہ صحت ہے نہ تعلیم ہے نہ عوام ہیں نہ بچے، جن کی ترجیح صرف اور صرف ریت، سیمنٹ، بجری، سریا، سڑکیں اور پُل ہیں۔ یا قانون کے اُن محافظوں کے پاس جا کر روئیں جن کی پوری فورس چند مخصوص لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی آمد و رفت کو بلا تعطل جاری رکھنے میں مصروف ہے؟ یا پھر اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی بے حسی، کم ظرفی اور جہالت کا خود کو پُرسہ دیں۔ شاید ان واقعات کے ہونے، مجرموں کے نہ پکڑے جانے اور پکڑے جانے کی صورت میں سزا سے بچ جانے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہمارے جسم زندہ ہونے کے باوجود کسی مُردار سے بد تر ہیں۔ ہمارے دماغ کسی مجذوب اور ذہنی معذور سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ہم منافقت کے درجے سے بھی کہیں آگے جا کھڑے ہیں کیوں کہ ہم چپ چاپ اپنی گردنیں کٹوانے اور اپنے کھال اتروانے کے عادی ہو گئے ہیں۔

ہمارے سنجیدہ پیچیدہ اور گھمبیر مسائل عمران خان کی شادی ہیں۔ ہمارے لیئے سیاسی جلسوں میں نعرے لگانا فرض اولین ہے۔ ہمیں شاہ زیب خان کے قاتلوں کو بغیر سزا کاٹے رہائی پانے سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ ہمیں اسحق ڈار کی دبئی میں 10 ارب روپے سے بھی زائد کی پراپرٹی نظر نہیں آتی۔ ہمیں حسن نواز کا 16 سال کی عمر میں ارب پتی ہونا نہیں کھلتا ۔ ہمیں شریف خاندان کے مسلسل جھوٹ سنائی نہیں دیتے۔ ہمیں زرداری کی کرپشن، ایان علی کا سزا پائے بغیر ملک سے چلے جانا ،ڈاکٹر احسن کے تین سو ارب نظر نہیں آتے۔ ہم شرجیل میمن کو سونے کا تاج پہناتے ہیں اور ایان علی سے یونیورسٹی میں لیکچر دلواتے ہیں۔ جو لوگ نسل در نسل ہمیں اور اس ملک کو نوچ رہے ہیں ہم انہیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر بار بار اسمبلی کے دروازے تک چھوڑ کر آتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمیں اپنے اولاد سے کوئی محبت نہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہمارا ملک ترقی یافتہ کیوں نہیں۔ ہمارے بچوں کا حال اور مستقبل کیسے سنور سکتا ہے۔

ہم ایک بے حسی کا شکار قوم بن گئے ہیں۔ میچ جیتنے پر ہم بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ مجروں میں پیسے لٹاتے ہیں۔ دوسروں کی تو دور کی بات ہم اپنی تکلیف محسوس نہیں کرپاتے۔ معاشرے کی تعمیر کا ہمارے ہاں کوئی تصور باقی نہیں۔ اور جب تک پم اپنے آپ کو نہیں سدھاریں گے۔ ہم اور ہمارے بچے درندگی کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اپنے ہی محفظ ہم پر گولی چلاتے رہیں گے۔ اور اپنے ہی حکمران ہمیں نوچ نوچ کر کھاتے رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے