تالیاں

صوفی شاعر بلھے شاہ کے شہر قصور میں زیادتی کےبعد قتل کی جانے والی سات سالہ معصوم زینب کے قاتل کی گرفتاری کاپوری قوم کو انتظارتھا لیکن اس گرفتاری کا جس انداز سے اعلان کیا گیا اس انداز پر بدھ کی صبح قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے شدید تنقید کی۔ شاہ صاحب کا خیال تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے دکھی والد کو اپنے ساتھ بٹھا کر ان کی بیٹی کے قاتل کی گرفتاری کااعلان کیا اور پھر تالیاں بجوانا شروع کردیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ شہباز شریف نے تالیاں بجاکر قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے لہٰذا انہیںقوم سے معافی مانگنی چاہئے۔

شاہ صاحب کی دھواں دھار تقریر سننے کے بعد اس ناچیز نے معلوم کرنا شروع کیا کہ منگل کی شب وزیراعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس میں تالیاں کس نے بجانی شروع کی تھیں؟ وزیراعلیٰ کے اسٹاف نے میرے سوال کے جواب میں لاعلمی ظاہر کی۔ حکومت ِ پنجاب کے ترجمان ملک محمد احمد خان سے رابطہ ہوا تو انہو ںنے کہا کہ جب زینب کےقاتل کی گرفتاری کااعلان ہوا تو وہاں موجود جےآئی ٹی کے ارکان اورپولیس افسران نے فرط ِ مسرت سے تالیاں بجادیں جس پر وزیراعلیٰ بھی تالیاں بجانے والوںمیں شامل ہوگئے۔ اب ایک نیا سوا ل پیدا ہوا اور وہ یہ کہ جے آئی ٹی کے ارکان سمیت تمام پولیس افسران کو پہلے سے پتا تھا کہ زینب کا قاتل عمران علی گرفتار ہوچکا ہے ،ان کے لئے یہ کوئی نئی خبر نہیں تھی، تو انہیں کس بات کی مسرت ہوئی؟

کہیں وہ تالیاں بجا کر وزیراعلیٰ کی خوشامد تو نہیں کررہے تھے؟ پنجاب پولیس کے ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا تو موصوف نے ندامت بھرے لہجے میں ایک نئی کہانی سنادی۔ انہوں نے بتایا کہ زینب کے قاتل کو جے آئی ٹی نے گرفتار نہیں کیا بلکہ جے آئی ٹی نے اسے گرفتار کرکےچھوڑ دیا تھا کیونکہ ملزم باریش تھا اور نعتیں پڑھتا تھا۔ اس نے مکاری کامظاہرہ کرتے ہوئے مرگی کے دورے کی اداکاری کی، جس پر اسے چھوڑ دیا گیا۔ اس دوران اسپیشل برانچ قصور کے ایک سب انسپکٹر نے عمران علی کی نگرانی جاری رکھی۔ اس سب انسپکٹر کو پتا چلا کہ عمران علی کچھ دیگر بچیوں کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرچکا ہے۔

اس سب انسپکٹر نے 22جنوری 2018کو اپنی تحریری رپورٹ میں کہا کہ عمران علی کا ڈی این اے کرانا ضروری ہے۔ اسی دن عمران علی کو حراست میں لیاگیا اور جے آئی ٹی کے حوالے کردیا گیا۔ ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تو رزلٹ مثبت آگیا اوریوں اسپیشل برانچ قصور کے ایک سب انسپکٹر کی محنت رنگ لے آئی۔ جس دن ڈی این اے کا رزلٹ آیا اسی رات وزیر اعلیٰ پنجاب نے پریس کانفرنس میں عمران علی کی گرفتاری کا اعلان کردیا لیکن گرفتاری کا کریڈیٹ جے آئی ٹی کو دینا ناانصافی ہے۔ عمران علی کو گرفتارکرنےوالے سب انسپکٹر کی رپورٹ پنجاب پولیس کے ریکارڈ کا حصہ ہے لیکن افسوس کہ اس کا ذکر کرنے کے بجائے پولیس افسران نے اپنے لئے خود ہی تالیاں بجادیں۔

یہ کہانی سن کر میں نے پولیس افسر سے پوچھا کہ کیا تالیاں بجانے کا آغاز پولیس افسران نے کیا تھا؟ جواب ملا کہ نہیں تالیاں بجانے کا آغاز وزیراعلیٰ کے سامنے بیٹھے ہوئے صحافیوں نے کیا تھا۔ یہ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں نے فون بند کردیا۔ اگلے چند لمحوں میں دو ایسے صحافیوں سے میری بات ہوچکی تھی جو وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ ان صحافیوں نے اندر کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس کے دوران تالیاں بجانے کا آغاز تین صحافیوں نے کیا تھا، پھران تالیوں میں کچھ پولیس افسران شامل ہوئے اور آخر میں شہبازشریف بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انہوں نے زینب کے دکھی والد کی اپنے پہلو میں موجودگی کو بھول کر تالیاںبجانا شروع کردیں۔

کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ 23جنوری کی شب وزیراعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس میں تالیاں بجانے والوں کے بارے میں بھی ایک جے آئی ٹی قائم کی جائے اور جس نے سب سے پہلے تالی بجالی اسے کہا جائے کہ وہ قوم سے معافی مانگے؟ تالیاں بجانے سے زیادہ اہم معاملہ یہ ہے کہ زینب کے قاتل کو کس نے گرفتار کیا؟ جے آئی ٹی نے یا اسپیشل برانچ پنجاب کے سب انسپکٹر نے؟ حکومت ِ پنجاب نے زینب کےقاتل کی گرفتاری پر ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کررکھاتھا؟ یہ انعام کس کوملے گا؟

زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ عمران علی کے خلاف مقدمہ عام سول عدالت میں چلایا جائے یا فوجی عدالت میں چلایا جائے؟ اس بحث میں شامل لوگوں کی اکثریت کا مطالبہ ہے کہ زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے لیکن کچھ لبرل خواتین و حضرات پھانسی کی سزا کے خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ معاشرے سے جرائم کوختم کرنے کے لئے پھانسیوں کی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ زینب کے قاتل کو پھانسی کی سزا دینے کے حامیوں کاکہنا ہے کہ جب سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو پھانسی کی سزا کے مخالفین خاموش کیوں بیٹھے رہے؟ زینب کے قاتل کوپھانسی کی سزا نہ دینے کا مطالبہ اس قسم کے شیطان صفت افراد کی حوصلہ افزائی کے مترادف تو نہیں؟ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ زینب کے قاتل کو پھانسی کی سزا نہ دینے کی بات کرنے والوں میں پیپلزپارٹی کے کچھ رہنما بھی شامل ہیں۔

انہیں اپنی رائے کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ شہباز شریف کی تالیاں انہیں بہت بری لگتی ہیں لیکن جعلی پولیس مقابلوں کے لئے بدنام پولیس افسر رائو انوار کی سرپرستی کے الزام پر ان لبرل اور جمہوریت پسند دوستوں کو ذرا شرم نہیں آتی۔ کون نہیں جانتا کہ رائو انوار آج سے نہیں سال ہا سال سے جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے اور 2008کے بعد سے وہ کراچی میں ایس ایس پی بن کر بیٹھا ہوا تھا تو اس کی وجہ صرف اور صرف پیپلزپارٹی کی سرپرستی نہیں بلکہ کچھ طاقتور اداروں کی تھپکی بھی تھی۔ 2015میں رائو انوار نے آئی جی سندھ سے پوچھے بغیر ایک پریس کانفرنس کی اور متحدہ قومی موومنٹ پر ملک دشمنی کے الزامات لگائے۔

آئی جی سندھ کو ایم کیو ایم پر لگائے جانے والے الزامات پر کوئی اعتراض نہیں تھا انہیں یہ اعتراض ہوا کہ سندھ پولیس کے ایک ایس ایس پی نے اپنے آئی جی سے پوچھے بغیر پریس کانفرنس کیوں کی؟ رائو انوار کو معطل کردیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے آئی جی کے فیصلے کی حمایت کی لیکن پھر یہ ہوا کہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے جذبہ حب الوطنی کے نام پر رائو انوار کی سفارش کی اور انہیں بحال کردیا گیا۔ کیا سید خورشید احمد شاہ ان سب کے لئے تالیاں بجانا پسند کریں گے جوماضی میں رائو انوار کی سرپرستی کرتے رہے اور ان کے جعلی پولیس مقابلوں پر انہیں داد دیتے رہے؟

جب سے رائو انوار پر نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کرنے کا الزام لگا ہے۔ تحریک ِ انصاف رائو انوار کی مذمت میں بہت آگے آگے ہے۔ یہ وہی تحریک ِ انصاف ہے جس نے 2015میں رائو انوار کی معطلی کے بعد ان کے حق میں مظاہرے کئے تھے۔ تحریک ِ انصاف اتنے یوٹرن نہ لے کہ بچہ بچہ اس کے لئے تالیاں بجانے اور آوازیں لگانے پر مجبور ہوجائے۔ چند دن پہلے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ہماری طویل آف دی ریکارڈ ملاقات ہوئی جس میں انہیں یقین تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نواز شریف نہیں کہیں گے وہ قومی اسمبلی نہیں توڑیں گے۔ مطلب یہ کہ وہ پاکستان میں صرف اس شخص کو معتبر سمجھتے ہیں جسے سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا۔ عباسی صاحب کی گفتگوسے تاثر ملا کہ نیب ان کے خلاف بھی مقدمے بنا رہی ہےلیکن وہ نوازشریف کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ دوبارہ جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔ کیا آپ ان کے لئے کچھ تالیاں بجانا پسند کریں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے