اشفاق ساجد کی وفات ۔۔۔فیس بکی دوست

آج اشفاق ساجد منوں مٹی تلے چلے گئے۔۔اللہ انکی مغفرت فرمائے اور قبروحشر کی منازل آسان کرے۔۔9فروری کو متعدد دوستوں کی فیس بک وال پر جلی حروف میں پیغام پڑھا کہ ہمارے ہنس مکھ اور عزیز دوست،سینئر صحافی اشفاق ساجدکو بلڈ کینسر تشخیص ہوگیاہے اور وہ سی ایم ایچ لاہور میں داخل ہیں۔پھر 13فروری کو یعنی تین روز بعد پیغام آیا کہ بون ٹرانسپلانٹ کیلئے انکو سی ایم ایچ لاہور سے سی ایم ایچ راولپنڈی لایا جارہا ہے۔پھر14فروری کو انکی وفات کی دکھ بھری خبرآگئی۔یعنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر یہ کہانی چھ روز کی ہے موت برحق ہے اشفاق بھائی کی اتنی ہی لکھی تھی یہ ہمارا ایمان ہے مگر اس ہفتے بھر کےدوران اگر ہم غور کریں تو بہت ساری ایسی چیزیں ہوئی ہونگی جن کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔مجھے مرحوم اشفاق ساجدکے عملی صحافت اور فیس بک پر دوستوں کےخلوص پر کوئی شک نہیں اور دوسرامسلمان ہونے کے ناطے نصیب پر بھی یقین ہے کہ جو وقت اور مقام مقرر ہے اس میں زرا برابربھی ردوبدل نہیں ہوسکتا۔اشفاق ساجد اپنے علاقے کامونکی میں تھے اور انکا معالج ٹائیفائیڈکا علاج کررہاتھاکہ طبعیت بہتر نہ ہونے پرگھروالے لاہور لے گئے جہاں ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہوا کہ بلڈ کینسر ہے۔مرحوم اشفاق ساجد صاحب سےجان پہچان تو شروع سے تھی تاہم زیادہ تعلق نمود مسلم کے توسط سے آرآئی یو جے کے الیکشن 2013 میں ہوا جب پی ایف یو جے ایک اورمتحدتھی۔
مجھے جب فیس بک سے خبر ملی تو سچ پوچھیں مجھ میں تو حوصلہ ہی نہی تھا کہ ان کو فون کروں ۔۔اور اگر کروں بھی تو کیا بات کروں؟؟ دل ہی دل میں دعا کی کہ اللہ اپنافضل و کرم کرئے۔مگر اپنے اور انکے 300مشترکہ دوستوں میں سے جن ساتھیوں نے ان کی بیماری کے اعلان والے پیغام میں ”بلڈکینسر”لکھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسے جاکران سب کی وال سے اس میسج کو ڈیلیٹ کردوں۔۔افسوس کہ ہم اپنے دوست کا حوصلہ بڑھانے کی بجائے اس کو گراتے رہے۔۔۔! انڈرائیڈ اور سوشل میڈیا آج ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے ہم جہاں بھی ہوں جس حال میں بھی ہوں جونہی موقع پاتے ہیں اپنی فیس بک،ٹوئیٹر،وٹس ایپ اورباقی سماجی رابطے کی سائیٹس دیکھتے ہیں ۔۔سوچیں اشفاق ساجد مرحوم نےان چھ دنوں میں کتنی بار دیکھا ہوگا۔۔۔کتنے دوستوں کی وال پڑھی ہونگی۔۔۔۔جیسے میں نے پہلے کہا کہ دوستوں کی نیت پر شک نہیں مگر کینسر جیسے موذی مرض کا سوچ کر وہ مرنے سے پہلے وہ کتنی بار مرے ہونگے شائد آپ اندازہ نہیں لگاسکتے۔۔۔! میری والدہ مرحومہ کو 73 سال کی عمرمیں کینسر کا عارضہ لاحق ہو ا وہ دوسال تک زیر علاج رہیں بیس سے زیادہ بار ہسپتالوں میں ہفتوں داخل رہیں مگر ہم پورے خاندان نے انکے سامنے اس مرض کا کھبی ذکرتک نہیں کیا تھا بلکہ انہیں کہتےتھے کہ امی جان آپکومعمولی سی بیماری ہے انشااللہ رب کرم کرئے گا وہ حوصلہ کے ساتھ ہمت پکڑتیں اور انکا مکمل علاج ہوا ۔میری فیس بک کا پیج گواہ ہے کہ میں نے والدہ کے لئےمتعدد بار بلڈ ڈونیشن اور وائٹ سیل بارے درخواستیں کیں ہزاروں دوستوں نے اچھے اچھے کمنٹس بھیجے افسردہ ری ایکٹ کیا، مگر حقیقی طور پر وہ لوگ مدد کو پہنچے جو واقعی دوست تھے۔ان میں سے اکثر نے فیس بک پر کچھ نہیں لکھا پڑھا۔۔موت برحق ہے ۔۔وقت مقرر ہے ۔۔ایک نہ ایک دن سب کو جانا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ کینسر کا علاج ناممکن تھا آج ایسا نہیں ہے بہت سارے لوگ اس مرض کے ساتھ لمبا عرصہ جیتے ہیں مگر اس کیلئے مریض کی قوت ارادی اورحوصلہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ میرے سمیت ہم سب اپنے بھائی اشفاق ساجد کو وہ کچھ نہیں دے پائے جو دے سکتے تھے۔حاصل گفتگو یہ ہے کہ خدارہ اشفاق ساجد بھائی تو دنیا سے رخصت ہوگئے کسی بھی دوست ،عزیز،رشتہ دار پر ایسا وقت آسکتاہے اپنی وال پر کچھ پوسٹ کرنا ہواس سے پہلے کئی بار اس کے اثرات کا جائزہ لیں کہ آپکی پوسٹ کسی کو حوصلہ دے گی یا اسکا حوصلہ پست کرے گی۔اللہ رب العزت مرحوم شفاق ساجدکی مغفرت فرمائےان کے اہلخانہ کو صبرجمیل عطا فرمائے۔آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے