’ریپ‘ قوانین کا غلط استعمال اور’سیکشن 375‘

اس وقت جہاں ہولی وڈ و بولی وڈ میں اداکاراؤں کو جنسی ہراساں کیے جانے سے متعلق آوازیں اٹھائی جانے لگی ہیں، وہیں اب دنیا بھر میں عام خواتین بھی اپنے ساتھ ہونے والی انصافیوں پر بولتی نظر آتی ہیں۔

تاہم یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر میں ’ریپ‘ قوانین کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے، اسی معاملے پر اب فلم بھی بنائی جائے گی۔

بولی وڈ میں گزشتہ چند سال سے یہ روایات بھی چل نکلی ہے کہ عام سماجی معاملات پر بھی فلمیں بنائی جانے لگی ہیں، اور اکشے کھنہ اور ریچا چڈا کی آنے والی فلم ’سیکشن 375‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

فلم پروڈیوسر ابھیشک پھاٹک نے ’سیکشن 375‘ کے حوالے سے ٹوئیٹ کی کہ ان کی آنے والی فلم میں اکشے کھنہ اور ریچا چڈا ایکشن میں نظر آئیں گے۔

[pullquote]Abhishek Pathak

@AbhishekPathakk
Our next with #AkshayeKhanna & @richachadha_ #Section375 panorama_studios kumarmangatpathak https://www.instagram.com/p/BfSTedBFOrI/

10:26 AM – Feb 17, 2018
4
See Abhishek Pathak’s other Tweets
Twitter Ads info and privacy[/pullquote]

اکشے کھنہ اور ریچا چڈا کی فلم ’سیکشن 375‘ کی ہدایات منیش گپتا دیں گے، جب کہ اسے پینوراما اسٹوڈیوز کے بینر تلے ریلیز کیا جائے گا۔

کمار مانگٹ پھاٹک اور ابھیشک پھاٹک کی اس فلم کی کہانی اگرچہ فکشن پر مبنی ہوگی، تاہم اسے متعدد حقیقی واقعات کو مدنظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے۔

فلم میں اکشے کمار ڈفینس وکیل جب کہ ریچا چڈا پبلک پراسیکیوٹر کے روپ میں ’ریپ‘ قوانین پر عدالتوں میں بحث کرتے نظر آئیں گے۔

اطلاعات ہیں کہ فلم کو شاندار بنانے کے لیے ہدایت کار منیش گپتا نے بھارت کی مختلف عدالتوں میں چلنے والے ’ریپ‘ کیسز کی سماعتوں میں شرکت کی، تاکہ وہ عدالتی کارروائی، وکلاء کے دلائل، متاثرہ افراد سمیت ملزم کے دلائل اور تاثرات کو سمجھ سکیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ’سیکشن 375‘ کو کب تک ریلیز کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ فلم کو رواں برس کے آخر تک ریلیز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کا ’سیکشن 375‘ مرد و خواتین کی جانب سے ’ریپ‘ بالرضا اور باالجبر سے متعلق ہے، اس میں خواتین کو ’ریپ‘ کا نشانہ بنانے اور انہیں جنسی تعلقات کے لیے ہراساں یا بلیک میل کرنے جرائم سے متعلق بھی بتایا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے