4 سال کی عمر میں فلم اندسٹری میں قدم رکھنے والی معروف اداکارہ سری دیوی انتقال کر گئیں .

انڈیا کی فلم انڈسٹری میں اپنی اداکاری اور معصوم چہرے کی وجہ سے دہائیوں تک راج کرنے والی سری دیوی 55 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئی ہیں .خبر ملتے ہی ان کے گھر کے باہر پرستاروں کا تانتا بندھ گیا .

https://www.youtube.com/watch?v=fnejaZMjdD8

معروف اداکارہ کا اصل نام شری اما ینگر ایاپن تھا اور انہوں نے چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1978 میں بالی وڈ میں ڈیبیو سے قبل تامل، تیلگو، ملیالم اور بنگالی فلموں میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔

انہوں نے 80 اور 90 کی دہائی میں شاندنی، لمحے، جدائی، مسٹر انڈیا، گمراہ، خدا گواہ، لاڈلا سمیت کئی فلموں میں اپنی جاندار کارکردگی سے شائقین کے دل جیت لیے۔

مایہ ناز بالی وڈ اسٹار نے ناصرف اپنے کیریئر کے پہلے حصے میں شاندار اداکاری کی بلکہ کیریئر کے دوسرے حصے میں انگلش ونگلش اور مام جیسی فلموں میں جاندار اداکری سے سب کو حیران کردیا۔

فلمی دنیا کیلئے ان کی بے انتہا خدمات پر 2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں ملک کے چوتھے بڑے شہری اعزاز ‘پدما شری’ سے نوازا تھا۔

2013 میں بھارتی سینما کے 100 سال کی تکمیل پر آئی بی این سی این این نے ووٹنگ کی تھی جس میں عوام نے انہیں 100 سال میں بھارت کی سب سے عظیم اداکارہ قرار دیا تھ۔

رواں سال ان کی بیٹی کرن جوہر کی فلم کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ یہ دیکھنے کیلئے اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گی۔

ہمت والا سے فنی سفر کا آغاز کر نے والی سری دیوی نے صدمہ ، نگینہ ، نیا قدم ، ماسٹر جی ،نذرانی ، گمراہ ، چالباز ، لاڈلہ اور موم میں کام کیا .

پندرہ برس پہلے فلمی دنیا کو الوداع کہہ دیا تھا .

https://www.youtube.com/watch?v=Jr0qRHG1IBI

سری دیوی اپنے شوہر بونی کپور اور بیٹی خوشی کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے موجود تھی جہاں ان کو دل کا دورہ پڑا، ان کو ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں _

https://www.youtube.com/watch?v=ioB0guwQ7UI

سری دیوی ڈیجیٹل سینما کے ظہور سے پہلے وی سی آر کے دور کے آخری بڑی ہیروئن مانی جاتی تھیں _ ان کی عمر 55 برس تھی .

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے