سینٹ انتخاب اور اسٹیبلشمنٹ

ووٹ کو عزت دو سے بھٹو زندہ ہے تک ۔۔۔۔۔

کہتے ہیں ایک ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں ،، سیاست کی بساط پر مہروں کے ساتھ کھلاڑی اور زرداری کی چالیں کامیاب رہیں ،،، اپوزیشن اتحاد 57 ووٹ لیکر کامیاب ہو گیا اور ایوان بالا کی کرسی پر صادق سنجرانی کو بٹھا دیا گیا،، یہ سب کیسے ہوا بقول ایک اسائمنٹ ایڈٹر کے لمبی کہانی ہے۔

چند روز قبل جب سیاست کے نام پر سب کچھ جائز کا نعرہ چل رہا تھا تو پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے اپنے ووٹ بلوچستان کی جھولی میں ڈالنے کا حتمی اعلان کیا تو اسی شام وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے مفاہمت کے بادشاہ زرداری سے ملاقات کر کے اپنے ووٹ زرداری صاحب کے حوالے کر دیے ، یوں کھلاڑی اور زرداری کے بیچ میں پل کا کام عبدالقدوس بزنجو نے کیا جو طاہر القادری بھی نہ کر سکے ۔

لیکن اس جیت کو نہ صرف جمہوریت کی موت کہا گیا بلکہ اسکو بلوچستان ایکسپریس براستہ راولپنڈی اسلام آباد بھی کہا گیا ، اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو راستہ طے کرنے والے ہی جانتے ہیں لیکن ایک چیز ضرور دیکھنے کو ملی وہ ہے تھا کھلاڑی زرداری اتحاد ۔ اگر مان لیا جائے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس بار بھی اپنا کام کر دیکھایا ہے تو یہ جمہوریت کا راگ الاپانے والوں کےلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اپنی سیاست میں عمران خان نے پہلی بار سیاست کو سیاسی بنیادوں پر کھیلا ہے ،،سیاست کے اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں ۔

ضیا الحق کے اوپر ظفر الحق کو چیرمین سینٹ کےلئے نامزد کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی ،ضیا الحق کے وزیراطلاعات راجہ ظفرالحق نے 1985 کے انتخابات میں شاہد خاقان عباسی کے والد کے خلاف انتخابی مہم میں مذہبی بنیادوں پر چلائی لیکن الیکشن ہار گئے تھے،، تاریخ جانتی ہے میاں صاحب خود سیاست کے بساط پر کس کے مہرے بن کر ابھرے ۔ رہی پیپلز پارٹی تو ذوالفقار علی بھٹو اپنے خاندان کے ہمراہ اسی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے اور اب اس جماعت کی باگ دوڑ زرادری کے ہاتھ میں جو کہ بلا شبہ ایک بڑے سیاست دان ہیں ، سیاست کی سب ہی چالوں سے آگاہ ہیں لیکن اس بار وہ بھی اقتدار میں آنے کےلئے بوٹ اور سلوٹ کی سیاست کر گئے اور جوانوں کی امنگوں کے ترجمان عمران خان بھی کرپشن کرپشن کے خلاف لڑتے لڑتے زرداری صاحب کے ساتھ جا بیٹھے ۔

لب لباب یہ کہ سینٹ چیرمین انتخاب 2018 میں جمہوریت اسٹیبلشمنٹ کی گود میں اور کھلاڑی زرداری کی گود میں جا بیٹھا۔ ضیاءالحق کا اوپنر ظفرالحق ہار گیا اور نواز شریف کی دھاڑ کو بھٹو زندہ ہے کے نعرے نے دبا دیا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے جب اپنے ووٹ کم دیکھے تو ووٹ کو عزت دینا چھوڑ دی اور اس جیت کو جمہوریت کی ہار قرار دے دیا ۔

بھوٹان میں جب کوئی آزاد امیدوارووٹ خرید کر جیت جاتا ہے تو اسکو ایوان بالا کا نگران بنا دیا جاتا ہے تو کیا آئندہ اس تعریف سے پاکستان میں بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ؟؟ کیا اب مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دے گی ؟ کیا اب بھی عمران خان کرپشن کے خلاف نعرے لگائیں گے ؟ کیا اب بھی پیپلز پارٹی کو جمہوریت کا علمبردار مانا جائے گا ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے