چمڑے کاجوتااوریوتھ کی روشنائی

ایامِ گزشتہ تمام چینلز پر دو خبروں نے بائیس کروڑ عوام کو کسی نہ کسی طرح اپنی گرفت میں لے رکھا ہے کہ سیالکوٹ میں خواجہ آصف کے چہرے پر کسی نے سیاہی پھینک کر اس کا منہ کالا کرنے کی کوشش کی۔سیاہی پھینکنے والے شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔اس خبر سے غبار بھی اترنے نہیں پایا تھا کہ جامعہ نعیمیہ کے مختصر دورے پر سابق وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف پر کسی نوجوان مولوی نے براہ رست جوتا دے مارا۔اس شخص کو بھی سیکیورٹی کے افراد نے موقع پہ ہی گرفتار کر کے کسی نامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا۔

یہ دونوں واقعات اگرچہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نئے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ دنیا کے پہلے واقعات ہیں جو پاکستان میں رونما ہوئے ہیں۔قبل ازیں پاکستان میں ارباب جہانگیر،پرویز مشرف اور پاکستان سے باہر جارج ڈبلیو بش پر بھی طبع آزمائی کی جا چکی ہے۔بلاشبہ یہ فعل کسی بھی لحاظ سے قابل تحسین نہیں خیال کیا جا سکتا،اور نہ ہی مخالفین کو اس بات کو ہوا دے کرسیاسی فوائد حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہئیے،کہ ایسا کلچر شروع ہونے جا رہا ہے جس میں آج کسی کی تو کل میری باری بھی آ سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا کہ پچھلے دو روز میں عمران خان پر بھی یہی حرکت آزمانے کی کوشش کی گئی۔لہذا ہر لحاظ سے اس فعل کی مذمت ہونی چاہئے۔یقیناًاس فعل کو کسی طور بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا جوتا مارنے اور سیاہی پھینکنے والا محض ایک شخص ہے یا اس کے پیچھے ایک قومی نفسیات پنہاں ہے،اجتماعی غصہ یا عوامی ذہنی انتشار کا ماحول کار فرما ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس وزیر اعظم کو جوتا مارا گیا جس کا کہنا یہ ہے کہ اس نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں وقار کی علامت بنا کر پیش کیا،انفرا سٹرکچر کو بامِ عروج بخش دیا اور ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں،اور جس کا دعویٰ ہی یہی ہے کہ مجھے محض اس لئے نکالا کہ ملکی ترقی مخالفین کو ہضم نہیں ہو پا رہی تھی۔سڑکوں کا جال،سی پیک،میٹرو اور اورنج ٹرین بلا شبہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ملکی ترقی ہو رہی ہے اور ملک کا معیار بین الاقوامی معیار کی سرحدوں کو چھو رہا ہے وغیرہ وغیرہ مگر انفرادی خوشحالی اس سے قدرے یکسر مختلف ہے کہ جس میں لوگوں کے معیار زندگی کو دیکھا جاتا ہے،لوگوں کی رہائش،صحت و تعلیم کا معیار،سپورٹس کی سہولیات اور انفرادی آمدنی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے کہ اسی سے آپ قومی آمدنی اور فی کس آمدنی کا اندازہ لگاتے ہیں۔

آخر میں پس اندازی قوت کو سامنے رکھ کر اس ملک کے افراد کی معاشی حالت سے ملک کی خوشحالی کا اندازہ کر لیا جاتا ہے۔عملا ملک میں شائد ایسا کچھ نظر نہیں آ رہا کہ عوا م معاشی بد حالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے،غریب غریب تر اور امیر ،امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔گیس ،پانی بجلی جیسی بنیادی سہولیات تو ہیں مگر عملا ان کا وجود ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ایسی صورت حال میں عوام کا مزاج ایسا ہونا فطری سی بات ہے کہ کہیں جوتا مار دیا تو کہیں سیاہی پھینک دی۔ایسی صورت حال میں حکومت کو جذباتیت سے نہیں بلکہ عقل اور ہوش کے ناخن لے کر ملک کو چلانا ہوتا ہے۔کہ ملک میں مزید انتشار کی فضا پیدا نہ ہو۔حکمران جماعت کے ہر وزیر اور ذمہ داران کو بہت سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہئے جو اس حکومت کا کبھی خاصہ نہیں رہا ۔

اگر آپ کو یاد ہو تو فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں ایک بار سابق وزیرِ اعظم بھٹو عوام سے خطاب کر رہے تھے کہ کسی نے بھٹو کو جوتا دکھایا تو بھٹو نے کمال سیاسی ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہو ئے کہا تھا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ چمڑے کا ریٹ بڑھ گیا ہے جس سے آپ کو جوتے مہنگے داموں مل رہے ہیں ،میر ی حکومت کوشش کرے گی کہ بہت جلد چمڑے کے ریٹ کو کم کر وا دیا جائے تاکہ آپ کو سستے جوتے مل سکیں۔

ایسے ہی سب جانتے ہیں کہ امریکہ کا سابق صدر ابراہم لنکن ایک موچی کا بیٹا تھا اور اس کے باپ کے بنائے ہوئے جوتے پوری ریاست میں مشہور تھے۔جب ابراہم لنکن حلف اٹھانے پارلیمنٹ جا رہا تھا تو کسی نے از راہ مذاق یہ بات کہ دی ایک موچی کا بیٹا اب ا س ملک کی صدارت کرے گا،حلف کے بعد جب ابراہم نے تقریر کی تو کہا کہ میرا تعلق امیر خاندان سے نہیں ہے میرا باپ جوتے مرمت کرتا تھا ،مگر جو اہم بات تھی وہ یہ تھی کہ میرے باپ کے بنائے ہوئے جوتے بہت مظبوط اور پائیدار اس لئے ہوتے تھے کہ وہ بہت ایمانداری سے اور محنت سے جوتے بنایاکرتا تھا،میرا اعلان ہے کہ میرے والد کے بنائے ہوئے جوتے اگر کسی طرح بھی خراب ہوئے ہوں تو میں آج سب کے سامنے کہتا ہوں کہ وہ مجھے دے جائے میں اس کو مرمت کر کے واپس کر دونگا۔یاد رکھئے گا کہ پیشہ کے ساتھ ساتھ ابراہم لنکن کو اس بات پہ زیادہ فخر تھا کہ اس کا باپ ایمانداری اور محنت سے کام کرتا تھا۔

جوتا مارنا اور سیاہی پھینکنے کا عمل غیر اخلاقی ضرور ہے مگر یاد رکھئے گا کہ یہ سب مجبور،غریب بے بس،لاچار اور فاقہ زدہ عوام کا احتجاج ہے کہ اپنا غصہ نکالنے کے لئے ان کے پاس ایک یہی حربہ رہ جاتا ہے۔تاہم حکومت وقت کو اس مسئلہ کا حل جذباتی بیانات سے نہیں بلکہ فلاحی کام اور بنیادی سہولیات بہم پہنچا کر عوام کے دلوں میں عزت و احترام پیدا کرنا ہوگا۔وگرنہ مزید غصہ دکھانے سے نہ صرف اخلاقیات کی دھجیاں اڑتی دکھائی دیں گی بلکہ عوامی انتشار میں اور بھی اضافہ ہو گا۔فیصلہ حکومت کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ چمڑے کے جوتے ،یوتھ کی سیاہی کے کلچر کو فروغ دینا ہے یا اپنی محنت اور ایمانداری سے اپنا اور ملکی وقار بلند کرنا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے