عدالت کا پرویز مشرف کا پاسپورٹ اورشناختی کارڈ معطل کرنے کا حکم

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ معطل کرنے کا حکم دے دیا جب کہ سابق صدر نے وطن واپسی کے لیے حکومت سے سیکیورٹی کے لیے درخواست کردی۔

سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہونے لگا ہے ، خصوصی عدالت نے سابق صدر کا پاسپورٹ اورشناختی کارڈ معطل کرنے کا حکم دے دیا اور وزارت داخلہ سمیت تمام اداروں کوفوری عملدرآمد کے لئےعدالتی احکامات کی کاپی بھجوادی گئی ہے۔

دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور عدالت میں پیشی کے لیے انہوں نے حکومت سے سیکیورٹی مانگ لی ہے، اس حوالے سے سابق صدر کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے وزارت داخلہ اور دفاع میں سیکیورٹی کے لیے درخواست بھی دے دی، جس میں کہا گیا کہ پرویز مشرف وطن واپس آ کر عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اس لیے سابق صدر کو واپس آنے اور دبئی واپس جانے کیلئے سکیورٹی فراہم کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں پرویز مشرف کو خطرات ہیں،2014 میں اسلام آباد کچہری اور 2016 میں کوئٹہ کچہری میں دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں، انہیں سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر میرے موکل کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
واضح رہے کہ 8 مارچ کو دوران سماعت پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا تھا کہ ان کے موکل عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں، اگر وطن آنے اور دبئی واپس جانے کے لیے سیکیورٹی فراہم کیا جائے تو سابق صدر عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو سیکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔

[pullquote]غداری کیس: خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حکم[/pullquote]

خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم جاری کردیا۔

اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی 8 مارچ کو سماعت ہوئی تھی تو سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے عدالت میں مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے مؤکل عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انہیں وزارت دفاع کی طرف سے سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

پرویز مشرف کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے کہا تھا کہ جب تک ان کے مؤکل خود کو سرنڈر نہیں کرتے تب تک ان کی سیکیورٹی بحال نہیں ہوسکتی۔

جب کہ استغاثہ کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے اور گرفتاری کے لیے مختلف اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن میں ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی معطل کیا جاسکتا ہے۔

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو حکم دیا تھا کہ وہ 7 روز میں وزارت داخلہ کو سیکیورٹی کے لیے درخواست دیں اور اگر درخواست نہ دی گئی تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

نیوز کے مطابق خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں تحریری حکم جاری کردیا ہے جس میں وفاقی حکومت کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیاہےکہ وزارت داخلہ پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنے کے اقدامات کرے اور سابق صدر کی جائیداد کی ضبطی کے لیے بھی اقدمات کیے جائیں۔

خصوصی عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پاکستان اور عرب امارات کے درمیان ملزمان کی حوالگی کے معاہدے کو بروئے کار لایا جائے اور ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے کارروائی کی جائے۔

خصوصی عدالت نے سابق صدر کی گرفتاری کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے