ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس، ایک قانونی مطالعہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ جو ظلم ہوا ہے، اسے اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا، جب تک اس سارے معاملے کا قانونی طور پر جائزہ نہ لے لیا جائے۔ اس کیس کا قانونی مطالعہ آدمی کو ششدر کر دیتا ہے کہ انصاف کے نام پر اتنا بڑا ظلم بھی ہو سکتا ہے.

بھول جائیے کہ عافیہ صدیقی سے ہمارا کوئی رشتہ ہے، بھول جائیے کہ وہ ہماری مسلمان بہن ہیں، بھول جائیے کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہے۔ بس اتنا ذہن میں رکھیے کہ وہ ایک انسان ہے جس کا یہ آفاقی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے۔ اس کے بعد عافیہ صدیقی کے کیس کا مطالعہ کیجیے، اتنا ظلم اور ناانصافی دیکھ کر آپ کا دل لہو رو دے گا۔عافیہ صدیقی کے معاملے میں خاموش رہنے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:
اول: آدمی اس کیس کی جزئیات سے واقف ہی نہ ہو اور وہ یہی سمجھتا رہے کہ عافیہ ایک دہشت گرد تھیں جنہیں امریکہ نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔
دوم:وہ اس کیس سے متعلق جملہ تفصیل سے تو واقف ہو لیکن بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گونگا شیطان بن جائے۔ لاعلمی اور بددیانتی نہ ہو تو کسی آدمی کے لیے اس ظلم پر خاموش رہنا ممکن ہی نہیں۔

کالم کی تنگنائے میں ہم چند سوالات تک محدود رہتے ہیں۔ عافیہ کی گرفتاری کی جو کہانی سرکاری طور پر بیان کی جاتی ہے، اس کے تنقیدی جائزے سے کیا چیزیں سامنے آتی ہیں؟یہ گرفتاری تھی یا پانچ سال قبل کیے گئے اغوا کو فراہم کی جانے والی ایک ’ کور سٹوری ‘ تھی؟ کیا امریکی عدالت کو اس معاملے میں حق سماعت حاصل تھا بھی یا نہیں؟ افغان پولیس کا مؤقف کیا رہا؟ عافیہ مطلوب کس جرم میں تھیں اور سزا کس جرم میں دی گئی؟ کیا ان پر عائد فرد جرم ہی ان کی بےگناہی کا ثبوت نہیں ہے؟ کیا ان پر دہشت گردی کا کوئی ایک الزام بھی ثابت ہو سکا؟ جس جرم میں انھیں سزا ہوئی، اس میں دستیاب شواہد کس حد تک قابل اعتبار تھے؟ کیا کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے؟۔ سوالات کا ایک دفتر کھلا ہے تاہم ان چند پہلوؤں پر فی الوقت ہم بات کریں گے۔

گرفتاری
گرفتاری کی جو کہانی بیان کی جاتی ہے، اسی سے آغاز کر لیتے ہیں۔ 3 فروری 2010ء کو امریکی اٹارنی آفس سے ایک پریس ریلیز جاری ہوئی، اس میں بتایا گیا کہ عافیہ صدیقی کو 17جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بہت سے نوٹس برآمد ہوئے جن میں ڈرٹی بم بنانے کے طریقے اور بہت سے امریکی مقامات کے نقشے شامل تھے۔ بوسٹن گلوب نے19جنوری 2010ء کو گرفتاری کی تفصیل بیان کی جس کے مطابق: غزنی میں ایک دکاندار نے عجیب منظر دیکھا کہ ایک خاتون جس نے برقع پہنا ہوا تھا، وہ ایک نقشہ نکال کر بیٹھی تھی۔ دکاندار کو شک پڑا کہ اس علاقے میں تو عورتیں ان پڑھ ہیں، یہ کون عورت ہے جو نقشے لے کر بیٹھی ہے، شک اس وقت بڑھا جب دکاندار نے دیکھا کہ عورت مقامی زبان بھی نہیں بول سکتی، اور اس کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں ہے، صرف ایک بچہ ہے۔ یوں اس نے پولیس کو بتا دیا۔ یوں عافیہ پکڑی گئیں اور ان کے قبضے سے دو پونڈ مہلک زہر برآمد ہوا۔ اس کے علاوہ ہاتھ سے لکھے ہوئے سینکڑوں نوٹس بھی نکلے جن میں بم اور مہلک وائرس بنانے کے فارمولے درج تھے، اور ایسی مشینوں کو بنانے کے فارمولے بھی ان سے نکلے جو امریکی ڈرون گرا سکتے تھے۔ یہی انکشافات امریکی عدالت میں دوران سماعت بھی کیے گئے۔ عدالت میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ خود کش حملہ کرنے آئی تھیں۔ مسجد کے باہر ایک آدمی کو شک ہوا اور پکڑی گئیں۔

اب یہاں چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
1۔دکاندار کو کیسے شک ہوا کہ یہ عورت مشکوک انداز سے گھوم رہی ہے؟ اگر عافیہ دہشت گرد تھیں اور خود کش حملے کے لیے خاص مقام تلاش کر رہی تھیں تو کیا وہ اس طرح ڈھونڈتیں کہ ایک دکاندار بھی مشکوک ہو جاتا؟ ایک اعلی تعلیم یافتہ عورت کو کیا اتنا بھی علم نہیں تھا کہ ریکی کیسے کی جاتی ہے؟

2۔ دکاندار کو یہ کیسے علم ہوا کہ وہ مقامی زبان نہیں جانتیں؟ اگر عافیہ دہشت گرد تھیں، اور ایک مشن پر تھیں تو کیا وہ اتنی ہی سادہ تھیں کہ ایک دکاندار کے ساتھ گفت و شنید شروع کر دیتیں اور خود کو مشکوک بنا لیتیں کہ مقامی زبان ہی نہیں آتی؟

3۔ وہ دہشت گرد تھیں اور القاعدہ کی ساتھی تھیں تو کیا اتنی ہی احمق تھیں کہ سینکڑوں نوٹس ساتھ لیے پھرتیں، جن میں بم اور وائرس بنانے کے فارمولے درج ہوتے۔ کیا امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے والی عورت کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ایسی چیزوں کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے؟

4۔ دو پونڈ زہر ساتھ لے کر پھرنا بھی ایک ایسا الزام ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔

5۔ وہ خود کش حملہ کرنے آئی تھیں تو اپنے بیٹے کو ساتھ کیوں لائی تھیں؟ماں ماں ہوتی ہے، وہ خود کش حملہ کرنے بھی جائے تو اپنے ساتھ بیٹے کی قربانی کیوں دے گی؟

6۔ وہ القاعدہ کی ساتھی ہوتیں تو کیا القاعدہ والے اتنے بے وقوف تھے کہ انہیں علم ہی نہ ہوتا کہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ خاتون سے کیا کام لیا جا سکتا ہے۔ وہ اتنی اہم عورت کو خود کش حملے پر روانہ کرتے یا اس کو دو پونڈ زہر کسی جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام لیتے؟
عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی کہانی میں ڈھیروں تضادات ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ ان پر ایک دکاندار کو شک گزرا اور وہ گرفتار ہوئیں تو کبھی کہا کہ مسجد سے نکلتے ایک نمازی کو شک گزرا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ کسی نے کہا کہ وہ مقامی زبان نہیں بول رہی تھیں اس لیے مشکوک ہو گئیں تو کبھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ ایک نقشہ پھیلائے بیٹھی تھیں، اس لیے ان پر شک گزرا۔

Petra Bortosiewic
نے 26 نومبر2010 کو ہارپر میگزین میں اس گرفتاری کے حوالے سے اپنے مضمون
The Intelligence Factory: How America makes its enemies disappear
میں لکھا کہ:
’’حتی کہ اس گرفتاری کی تفصیلات میں بھی اختلاف ہے جو غزنی کی جامع مسجد کے باہر بھرے مجمع کے سامنے کی گئی۔ یہ تو کہا گیا کہ وہ مشکوک انداز سے پھر رہی تھی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ مشکوک انداز سے کیوں پھر رہی تھی۔ جب بعد ازاں میں نے ایک مقامی رپورٹر کی خدمات لے کر عینی شاہدین کا دوبارہ انٹرویو کیا تو عبدالغنی نامی پولیس افسر نے، جس نے عافیہ کو گرفتار کیا تھا، مجھے بتایا کہ اس کے پاس ایک صندوق تھا جو کیمیکلز سے بھرا ہوا تھا۔ فرہاد نامی ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ نہیں اس کے پاس سے پولیس کو صندوق نہیں ملا تھا بلکہ صرف کچھ کاغذات ملے تھے۔ حکمت اللہ نامی ایک شخص نے کہا کہ عافیہ جب گرفتار کی گئی تو وہ قریب آنے والے ہر شخص پر حملہ کر رہی تھیں۔ (یہ بات سرکاری کمپلینٹ میں نہیں لکھی گئی)۔ میر واعظ نامی ایک نمازی نے بتایا کہ عافیہ کو پولیس ہتھکڑی لگا کر لے گئی جبکہ ایک فارمیسی کے مالک مسعود نبی زادہ نے کہا کہ ہتھکڑی تو وہاں دستیاب ہی نہیں تھی، انہیں سکارف سے باندھ کر لے جایا گیا‘‘۔

گرفتاری کے واقعات میں موجود یہ تضادات جوں جوں نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں، یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ عافیہ کی گرفتاری کی اس کہانی میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا۔ عافیہ تو 2003 سے غائب تھیں۔ تو کیا 2003ء سے 2008ء تک وہ افغانستان میں آپریٹ کرتی رہیں اور ایک روز گرفتار ہو گئیں؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا کافی مشکل ہے.
ڈکلن والش نے دی گارجین میں The mystery of Dr. Aafia Siddiqui کے عنوان سے 24 جنوری 2009ء کوشائع ہونے والے اپنے مضمون میں ایک ای میل کا ذکر کیا ہے جو عافیہ صدیقی نے امریکہ میں اپنے سابق پروفیسر کو کی تھی۔ یہ میل عافیہ نے یکم مارچ 2003ء کو اس وقت کی تھی جب وہ آغا خان یونیورسٹی کراچی میں جاب کر رہی تھیں۔ اس میل میں انہوں نے پروفیسر کو لکھا کہ ان جیسے تعلیمی پس منظر کی حامل خاتون کے لیے یہاں مواقع بہت کم ہیں اور وہ امریکہ میں آ کر کام کرنا چاہتی ہیں۔ اس ای میل کا ذکر پیٹرا (Petra Bortosiewicz) نے بھی اپنے مضمون میں کیا تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو خاتون یکم مارچ کو اس خواہش کا اظہار کرتی ہے کہ آغا خان یونیورسٹی کراچی میں اس جیسی اعلی تعلیم یافتہ خاتون کے لیے کام کے مواقع کم ہیں، اور وہ امریکہ آنا چاہتی ہے، وہ خاتون اس ای میل کے چند روز بعد بچوں سمیت افغانستان کیوں چلی جائے گی؟

واقعاتی شہادتیں اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ عافیہ نے یہ سارا عرصہ افغانستان میں القاعدہ وغیرہ کے لیے کام کرتے ہوئے گزارا ہوگا اور انہیں اسی طرح گرفتار کیا گیا ہوگا جس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

عافیہ صدیقی تیس مارچ 2013ء کو لاپتہ ہوئیں۔ یہ کیسے مان لیا جائے کہ اس روز سے مبینہ گرفتاری تک کا عرصہ وہ آزاد تھیں اور افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کر رہی تھیں۔امریکہ کا دعوی یہی ہے لیکن کچھ اور شواہد بھی موجود ہیں جو امریکی دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

بی بی سی ڈاٹ کام میں 6 اگست2008ء کو Mystery of Siddiqui’s diappearance کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں اشارہ دیا گیا کہ عافیہ صدیقی کو شاید 30اگست 2008ء کو کراچی ائیرپورٹ جاتے ہوئے اٹھایا گیا۔ اگلے روز کے مقامی اخبارات میں خبر بھی شائع ہوئی کہ ایک عورت کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔بی بی سی کے مطابق اس واقعے کے دو روز بعد ایک موٹر سائیکل سوار شخص عافیہ صدیقی کے گھر آیا ۔اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور اسے اتارے بغیر اس نے عافیہ صدیقی کی والدہ سے کہا کہ بیٹی کی بحفاظت واپسی چاہتی ہو تو خاموش رہو۔بی بی سی کی اسی رپورٹ میں وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے کہا کہ بہت جلد عافیہ کو رہا کر دیا جائے گا اور وہ واپس آ جائیں گی۔
http://news.bbc.co.uk/2/hi/americas/7544008.stm

یو ایس ٹوڈے نے تو 22اپریل 2003 ہی کو بہت وضاحت کے ساتھ لکھ دیا کہ عافیہ صدیقی کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔یو ایس ٹوڈے کے اصل الفاظ پڑھ لیجیے :
Two federal law enforcement officials, speaking on condition of anonymity, initially said 31-year- old Afia Siddiqui recently was taken into custody by Pakistani authorities

مکمل تحریر کے لیے حوالہ یہ ہے۔
http://usatoday30.usatoday.com/news/world/2003-04-22-alqaeda-woman-arrest_x.htm

یہاں یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ امریکہ کے مطابق عافیہ صدیقی کو 2008 میں گرفتار کیا گیا جب کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے جون 2007میں عافیہ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ لاپتہ ہیں اور امکان ہیں کہ امریکی حراست میں ہیں۔

یہی وہ شواہد ہیں جن کی بنیاد پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیر مین آئی اے رحمان نے کہا عافیہ کی گرفتاری کے بارے میں امریکہ کا موقف اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ یہ بیان 6 اگست 2008کو دی گارجین میں شائع ہوا۔
(https://www.theguardian.com/world/2008/aug/06/pakistan.afghanistan)

حقائق بتاتے ہیں کہ عافیہ کو 2008میں گرفتار نہیں کیا گیا وہ اس سے پہلے ہی امریکی قید میں تھیں۔جب ایون ریڈلے پاکستان آئیں اور ان کے اعزاز میں عمران خان نے عشائیہ دیا تو وہاں انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ بگرام میں قید خاتون عافیہ ہیں۔اور وہ انہیں گرے لیڈی کے نام سے پکارتی تھیں۔ان پر بے تحاشا ظلم ہوتا تھا۔اور ان کی چیخیں اور آہیں بلند ہوتی رہتی تھیں۔ریڈلے نے جب راز فاش کر دیا تو امکان یہی ہے کہ امریکہ نے عجلت میں ایک عدد گرفتاری کا ڈرامہ رچا لیا۔

گارجین ہی میں بگرام سے 2005 میں بھاگ آنے والے قیدی ابویحیی اللیبی کا بیان شائع ہوا کہ جب وہ بگرام ائر بیس پر قید تھا تو اس نے وہاں ایک پاکستانی عورت کو قید میں دیکھاجسے کبھی کبھی ٹائلٹ لے جایا تھا۔اس کا نام کسی کو معلوم نہ تھا۔اسے قیدی نمبر 650 کہا جاتا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ کیا ہوا؟ کبھی رہا ہو کے آئیں تو وہ خود بتائیں یا کبھی قانون میں اتنا دم خم ہو کہ وہ مشرف سے پوچھ سکے تو کچھ سامنے آ سکے تا ہم یہ بات ماننا ممکن ہی نہیں کہ گرفتاری کے حوالے سے جو کہانی امریکہ بیان کرتا ہے وہ درست ہو۔یہ مکمل جھوٹ ہے۔آئی اے رحمان درست کہتے ہیں اکیسویں صدی کا سب سے برا جھوٹ۔

اب آتے ہیں عافیہ پر عائد فرد جرم کی طرف۔ اس سوال کی طرف کہ کیا عافیہ صدیقی دہشت گرد تھیں؟ انہیں کس جرم میں سزا دی گئی؟ یہ اس لحاظ سے دنیا کا انوکھا مقدمہ ہے کہ اس میں سنائی گئی سزا ہی عافیہ کی بے گناہی کا ثبوت ہے

اب آئیے اس اہم ترین سوال کی جانب کہ عافیہ صدیقی کا جرم کیا تھا؟ انہیں کس جرم میں سزا دی گئی؟

فرد جرم اور سزا سے پہلے معاملے کو سمجھنے کے لیے پس منظر سمجھنا بہت ضروری ہے۔امریکہ نے نزدیک عافیہ صدیقی کی حیثیت کیا تھی اس کو دیکھنا بہت ضروری ہے۔

1۔ایف بی آئی نے 2003میں عافیہ صدیقی کو سیکنگ انفارمیشن وار آن ٹیرر لسٹ میں ڈالا تھا۔(بحوالہ Order of US District Court Southern District of New York, 08CR. 826(RMB))

2۔صرف ایک سال بعد ایف بی آئی نے عافیہ صدیقی کو دہشت گرد قرار دے دیا۔ نہ صرف دہشت گرد قرار دے دیا بلکہ سات خطرناک ترین دہشت گردوں کی جاری کردہ فہرست میں عافیہ صدیقی کا نام شامل کر دیا گیا۔ ( بحوالہ : Scroggins, Deborah (March 1, 2005), ” The Most Wanted Woman in the World”- "FBI Seeking Information Poster”, The FBI(reprinted by NEFA Foundation)

3۔جب عافیہ کی مبینہ گرفتاری عمل میں لائی گئی تو امریکہ کے نزدیک یہ گزشتہ پانچ سالوں کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔سی آی اے کے سابق ڈائرکٹر John Kirakauنے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم نے 2003 سے اب تک اتنا اہم آدمی نہیں پکڑا۔یہ سب سے اہم گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ‘‘

4۔ امریکی اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ یہ القاعدہ کی مطلوب ترین شخصیت کی گرفتاری عمل میں لائی گی ہے۔( بحوالہ : ‘ The Intelligence Factory133..” By Petra Bartosiewicz. Harper Magazine, 26 Nov. 2010 )

5۔عافیہ صدیقی کو امریکی سرکاری حلقے لیڈی القاعدہ اور دہشت گردوں کا ماں کہتے رہے۔ ( بحوالہ :- Rodriguez Alex, "IS She a Victim of the US or is She ‘Terror Mom, "The Los Angeles Times, February 3, 2010.)

6۔عافیہ صدیقی پر ایک ا نتہائی سنگین الزام یہ عائد کیا گیا کہ اس نے دو امریکی صدور جمی کارٹر اور جارجک ڈبلیو بش سینیر کو قتل کرنا چاہا تھا اور اسی وجہ سے امریکی اسسٹنٹ اٹارنی کرسٹوفر لائڈ نے عافیہ کو ہائی سیکیورٹی رسک قرار دیا۔( بحوالہ:Melissa Grace; Stepanie Gaskell, "Lady al-Qaeda’s threat real, pol syas; Layers want to see evidence” New York daily News. August 14, 2008. (

یہ تھا فرد جرم سے پہلے امریکہ کا عافیہ کے بارے میں موقف۔

اب عافیہ کی گرفتاری کا ایک ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور ان کا ٹرائل شروع ہوتا ہے۔
فرد جرم عائد ہوتی ہے۔
یہ فرد جرم قانون و تعزیز کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں فرد جرم میں عافیہ پر کیا الزام عائد کیا گیا اور کس جرم میں سزا دی گئی؟ فرد جرم یہ تھی کہ جب انہیں گرفتار کر کے غزنی پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تو وہاں چھ رکنی امریکی ٹیم ان سے تفتیش کرنے گئی جہاں انہوں نے امریکی ٹیم پر انہی کی گن سے فائر کیے ۔اور یوں انہوں نے امریکی شہری کو قتل کرنے کی کوشش کی اور امریکی فوجی اہلکاروں پر حملہ کیا۔

گرفتاری کی طرح اس الزام کی بنیاد بھی جھوٹ پر کھڑی ہے اور اس پر ہم تفصیل سے آگے جا کر بات کریں گے۔فی الوقت ایک اور سوال پوچھنا ہے ۔ور سوال یہ ہے کہ امریکہ نے عافیہ کو اس جرم میں سزا کیوں سنائی جو گرفتاری کے بعد ہوا؟جس جرم میں عافیہ مطلوب تھی اس جرم کا فرد جرم میں ذکر کیوں نہیں ہے۔ وہ مطلوب دہشت گرد تھی،سات بڑے دہشت گردوں میں ان کا نام شامل کیا گیا تھا،وہ لیڈی القاعدہ تھیں،وہ دہشت گردی کی ماں تھیں،ان جیسا بڑا دہشت گرد آپ نے پانچ سالوں میں نہیں پکڑا، وہ آپ کے دو صدور پر حملہ کی خواہش رکھتی تھیں تو یہ سب کچھ فرد جرم میں شامل کر کے ان کا ٹرائل کر کے انہیں سزا کیوں نہیں دی گئی؟جس جرم میں آپ انہیں گرفتار کرتے ہیں اس میں سزا کیوں نہیں دیتے۔جو الزام آپ ان پر عائد کرتے رہے اور ان کی زندگی جہنم بنا دی فرد جرم میں وہ الزام شامل کیوں نہیں کیے؟

اگر عافیہ کو جرم گرفتاری کے بعد سرزد ہوتا ہے تو جناب یہ تو بتائیے کہ ان پر یہ سارے الزامات کیوں لگائے ؟کیا ثبوت تھے ؟انہیں گھوسٹ پرزنز کے طور پر کیوں رکھا گیا؟ان پر سارا ظلم و جبر کس جواز کے تحت ہوا؟جن الزامات کے تحت عافیہ کو لیڈی القاعدہ اور ٹیرر مام کہا گیا جب مقدمہ چلانے کا وقت آیا تو کسی ایک الزام کو بھی شامل نہیں کیا گیا؟کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں کہ سارے الزامات جھوٹے تھے؟

یاد رہے کہ جب عافیہ غائب ہوئیں تو یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکہ طاقت اور انتقام کی نفسیات میں جی رہا تھا۔جھوٹا سچا الزام لگا نہیں کسی پر اور امریکہ اپنے قہر سمیت اس پر ٹوٹ پڑا۔ڈرون حملوں میں کیا ہوا ؟جن دنوں میں اپنی کتاب Drone Attacks: International law brns in Hellfire پر کام کر رہا تھا یہ خوفناک حقیقت علم میں آئی کہ امریکہ نے مقامی لوگوں کو مائیکرو چپس دے رکھی ہیں جن کے گھروں یا حجروں کے پاس یہ ایجنٹ ان چپوں کو پھینک دیتے ہیں ڈرون وہاں حملہ کر دیتا ہے۔امریکی صحافی جین مائیر نے 26 اکتوبر 2009 کو دی نیو یارکر میں predators war کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ میں تفصیل سے لکھا کہ کس طرح قبائلی ایجنٹوں نے دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین کے گھروں میں چپیں دالنا شروع کر دیں اور امریکہ ڈرون حملہ کر کے انہیں اڑاتا گیا۔گیرتھ پورٹر نے تو باقاعدہ ایسے ایجنٹوں کا انٹرویو شائع کر دیا جو تسلیم کر رہے تھے کہ انہیوں نے انتقام لینے کیے اور پیسوں کے لالچ میں ادھر ادھر چپیں پھینکنا شروع کر دیں اور امریکہ ڈرون حملے کرتا رہا۔

کسی جرم کا دفاع مقصود نہیں ۔عافیہ نے بھی کوئی جرم کیا ہو تو سزا دیں لیکن انساف کے نام پر اگر ظلم ہو رہا ہو تو اسے ظلم ہی کہا جائے گا۔

امکان یہی ہے کہ ناقص اطلاعات کی بنیاد پر عافیہ کو اٹھا کر گھوسٹ پرزنر بنا دیا گیا۔بات نکلی تو اول گرفتاری کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر ایک جھوٹی کہانی کی بنیاد پر سزا سنا دی گئی۔

جس جرم میں عافیہ صدیقی کو سزا سنائی گئی اب ذرا اس کا احوال بھی سن لیجیے۔یہ ڈرامہ عافیہ کی گرفتاری کے ڈرامے سے بھی زیادہ مضحکہ خیز ہے۔
اب ہم آتے ہیں اس واقعے کی طرف جس کی بنیاد پر عافیہ صدیقی کو سزا سنائی گئی۔

امریکی اٹارنی کے دفتر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق 18جولائی 2008ء ایف بی آئی، امریکی فوجی افسران اور دیگر پر مشتمل سات رکنی ٹیم تفتیش کے لیے غزنی پولیس سٹیشن گئی جہاں عافیہ کو رکھا گیا تھا۔ ایک وارنٹ آفیسر نے اپنی بندوق دائیں طرف فرش پر رکھ دی، جس طرف کمرے میں پردہ لٹکا ہوا تھا۔ وہاں اچانک عافیہ صدیقی پردے کے پیچھے سے نمودار ہوئیں اوراس افسرکی M/4 رائفل اٹھا لی، پلک جھپکنے میں اس کا سیفٹی لاک ان لاک کیا اور اسے آرمی کیپٹن کے سر پر تان لیا اور دو فائر کر دیے۔ دونوں دفعہ عافیہ کا نشانہ خطا ہوگیا، اسی اثناء میں وارنٹ آفیسر نے اپنا پستول نکال کر عافیہ پر دو گولیاں چلائیں جو ان کے پیٹ میں لگیں اور وہ گر گئیں۔
Press Release, Public Information Office (212) 637- 2600, February 3, 2010

جو سوالات گذشتہ کالم میں اٹھائے گئے، انہیں ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور اس واقعے کا جائزہ لے لیتے ہیں کہ اس میں کتنی صداقت تھی۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک خاتون ایک لمحے میں پردے کے پیچھے سے کمرے میں داخل ہو جہاں سات اہلکار بیٹھے ہوں، وہ ان کی بندوق بھی اٹھا لے، اور ایک پروفیشنل فوجی کو اس کی خبر نہ ہو، پھر وہ ایک لمحے میں بندوق کا سیفٹی کیچ ان لاک بھی کر لے اور کیپٹن کے سر پر تان لے۔ کیا وہ اتنی ماہر عسکری شخصیت تھیں؟ اس واقعے سے غالبا یہی تاثر دینا مقصود تھا کہ وہ ایک تربیت یافتہ دہشت گرد تھیں۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ ایک ماہر تربیت یافتہ دہشت گرد اگر یہ سارے کام کر لے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے دو فائر خطا جائیں۔ وہ بھی اس صورت میں جبکہ ٹارگٹ اس کے سامنے کمرے میں موجود ہو؟

پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب غزنی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں کو یہ علم تھا کہ قیدی اتنی اہم ہے کہ اس سے تفتیش کرنے امریکی ٹیم آئی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ عافیہ کے ساتھ کوئی پولیس اہلکار نہ ہو؟ یاد رہے کہ ایسا بھی نہیں تھا کہ امریکی ٹیم اچانک آ گئی تھی بلکہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ آنے سے پہلے غزنی کے گورنر سے اجازت لی گئی تھی کہ ہم صرف چند سوالات پوچھ کر واپس آ جائیں گے۔ جس قیدی سے ملنے کے لیے بات چیت گورنر کی سطح کے عہدیدار سے ہو رہی ہو، کیا اس قیدی کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا ہوگا کہ وہ اچانک سامنے آئے اور بندوق اٹھا کر تان لے؟ یہ حقائق کی دنیا کا واقعہ ہے یا ہالی وڈ کی کسی فلم کی کہانی ہے جو سنائی جا رہی ہے؟

اب ذرا دیکھیے کہ گارجین میں سوزان گولڈن برگ کا مؤقف کیا ہے؟ گارجین میں 6 اگست 2008ء کو شائع ہونے والے آرٹیکل Mystery of ‘ghost of Bagram’ – victim of torture or captured in a shootout؟ میں سوزان نے انکشاف کیا کہ ایسا نہیں تھا کہ عافیہ نے بندوق تانی بلکہ امریکیوں نے ویسے ہی اس پر گولی چلا دی اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں لگا یہ خود کش حملہ کرنے آ رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک قیدی جو غزنی پولیس کی تحویل میں ہو، اس پر یہ شک کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود کش حملہ کرنا چاہتا ہے؟ گرفتاری کے وقت بھی اسی شک کا اظہار کیا گیا کہ وہ خود کش حملہ کرنے آ رہی تھیں اور اب پولیس سٹیشن میں بھی یہی عذر اختیار کر کے ان کے پیٹ میں دو گولیاں اتار دی گئیں۔ یعنی پولیس نے ان کی تلاشی بھی نہیں لی ہوگی اور وہ ابھی تک خود کش جیکٹ پہنے بیٹھی تھیں کہ پھر اسی شک پر انہیں گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ رچرڈ ریویز یاد آتے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ ہم امریکی اپنے مفاد میں جھوٹی اور واہیات باتیں علی الاعلان کہتے ہیں۔

رائٹرز کو افغان پولیس نے جو مؤقف دیا، اسے بھی گارجین نے نقل کیا، اس کے مطابق: امریکی فوجیوں نے پولیس سٹیشن میں آ کر مطالبہ کیا کہ عافیہ کو ان کے حوالے کر دیا جائے۔ پولیس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر پولیس اہلکاروں کو گن پوائنٹ پر غیر مسلح کر دیا گیا اور عافیہ پر گولی چلا دی گئی اور کہا گیا کہ یہ خود کش حملہ کرنے لگی تھی.

Petra Bartosiewicz نے تو خود غزنی کے گورنر کا مؤقف شائع کر دیا۔ ہارپر میگزین میں 26 نومبر 2010ء کو شائع ہونے والے اپنے مضمون The Intelligence Factory میں وہ لکھتی ہیں کہ گورنر نے بتایا کہ ان سے مطالبہ کیا گیا کہ عافیہ ان کے حوالے کر دی جائے، انہوں نے انکار کر دیا۔گورنر کا کہنا تھا کہ جب تک کابل میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتا تب تک عافیہ افغان پولیس کی تحویل میں رہے گی۔ اس پر گورنر کو بتایا گیا کہ امریکی فوجی صرف چند سوالات پوچھنا چاہتے ہیں تو اس کی اجازت دے دی گئی لیکن امریکیوں نے پولیس سٹیشن پہنچ کر پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا اور عافیہ پر گولی چلا دی کہ یہ خود کش حملہ کرنے لگی تھی اور عافیہ کو ساتھ لے گئے۔ چنانچہ Petra Bartosiewicz نے لکھا کہ ساری کہانی سننے کے بعد اور کیس کی تفصیلات جاننے کے بعد میں سادہ سی بات کہوں گی کہ عافیہ بے گناہ تھی۔

یعنی امریکیوں نے پہلے عافیہ کو گھوسٹ پرزنر کے طور پر بگرام میں قید رکھا، پھر جعلی گرفتاری کا ڈرامہ کیا، پھر افغان پولیس کو تفتیش بھی نہ کرنے دی اور پولیس کو گن پوائنٹ پر یر غمال بنا کر عافیہ کو زخمی کر کے ساتھ لے گئے۔ خوف تھا کہ پولیس نے تحقیقات کیں تو سچ سامنے نہ آ جائے۔ ان حالات میں امریکی عدالت کا حق سماعت بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
اب آئیے دیکھیے کہ عدالت میں کیا ہوا؟

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ اس کیس میں امریکی انتظامیہ اور گواہوں کے بیانات میں تضادات رہے۔ جب 9 گواہوں پر جرح ہوئی تو اس بات میں بھی تضاد رہا کہ وقوعے کے وقت کمرے میں کتنے لوگ تھے، کتنے لوگ کھڑے تھے اور کتنے لوگ بیٹھے تھے، حد تو یہ ہوئی کہ اس بات میں بھی متضاد مؤقف سامنے آیا کہ کتنی گولیاں چلیں۔ نیویارک ٹائمز ہی میں جے ہوگز نے لکھا کہ عافیہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مقدمے کا سامنا کرتیں یا کوئی مؤقف اختیار کر سکتیں۔

عدالت میں فائر آرمز ایکسپرٹ کو بلایا گیا۔اس کا نام کارلو روسٹی تھا۔ اس نے کہا کہ جس M/4 گن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عافیہ نے اس سے فائر کیا، اس نے اس گن کا معائنہ کیا ہے اور یہ بات ہی مشکوک ہے کہ اس گن سے کوئی فائر ہوا ہو۔ ( بحوالہ : C.J. Hughes, Pakistani Scientist Convicted of Attempted Murder” New York Times, February 3, 2010.)
نیو یارک ٹائمز ہی نے لکھا کہ عدالت میں دکھایا گیا کہ دیوار میں یہ سوراخ ہیں جو عافیہ کی چلائی گولی سے وجود میں آئے تو جواب میں ایک ویڈیو پیش کی گئی جو وقوعہ سے پہلے اس پولیس سٹیشن میں کسی موقع پر تیار کی گئی تھی اور اس میں بھی دیوار میں وہ سوراخ نظر آ رہے تھے۔ یوں ثابت کیا گیا کہ وہ سوراخ عافیہ کی کسی گولی سے نہیں بنے بلکہ وقوعہ سے پہلے ہی وہاں موجود تھے۔

نیو یارک ٹائمز کی اسی رپورٹ میں ایک اور انکشاف بھی کیا گیا کہ خود ایف بی آئی نے تسلیم کیا اور عدالت کے سامنے تسلیم کیا کہ گن پر عافیہ صدیقی کے فنگر پرنٹس بھی موجود نہیں ہیں۔امریکی اسسٹنٹ اٹارنی جنیا ڈیبز نے کہا کہ وقوعہ کے ثبوت کیسے دیے جائیں کہ وقوعہ تو وار زون میں ہوا ۔لیکن وہ یہ بھول گئے کہ وقوعہ ایک پولیس سٹیشن میں ہوا اور وہاں جنگ نہیں لڑی جا رہی تھی۔

نفرت تعصب اور انتقام کی بات الگ ہے، انصاف کے پیمانے پر پرکھیں تو یہ بات عیاں ہے کہ عافیہ صدیقی کے ساتھ انصاف نہیں، ظلم ہوا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے