روس کا مزید 50 برطانوی سفارتکار ملک بدر کرنے کا فیصلہ

ماسکو: روس کے وزارت خارجہ نے برطانیہ پر واضح کیا ہے کہ وہ مزید 50 سے زائد سفارتکار اور سفارتی عملے کو ملک بدر کردے گا۔

رپورٹ کے مطابق ماسکو نے لندن میں روسی مسافر طیارے کی تلاش سے متعلق لندن سے وضاحت بھی طلب کی اور ساتھ دھمکی دی کہ اگر برطانیہ ایسا رویہ اختیار کرے گا تو برطانوی مسافر طیارے بھی زد میں آئیں گے۔

دوسری جانب برطانیہ نے موقف اختیار کیا کہ لندن میں روسی مسافر طیارے کی تلاش روز مرہ سیکیورٹی کا حصہ تھا۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں روس اور برطانیہ کے تعلقات میں اس وقت سخت کشیدگی پیدا ہوئی جب برطانیہ میں جاسوسی کرنے والے سابق روسی اہلکار کو برطانیہ میں زہر دے کر مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔

برطانیہ کی وزیر اعظم نے روس پر پابندیوں سمیت کئی سفارتی عہدیداروں کو ملک بدر کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے جواب میں روس نے بھی برطانوی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا تھا۔

برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے روس کے 100 سے زائد سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا گیا ہے۔

جمہوریہ چیک، پولینڈ، یوکرین، ایسٹونیا، لٹوویا اور لیتھوانیا کی جانب سے روسی سفارت کاروں کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یورپین یونین کے دیگر ممالک کے علاوہ کینیڈا اور امریکا کے ساتھ ہونے والے روابط کا حصہ ہے۔

ہفتہ کے روز ماسکو نے ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے بھی 23 سفارتکاروں کو ملک سے نکلنے کا حکم دیا۔

روس کے وزارت خارجہ نے برطانیہ سفیری کو مراسلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ‘جتنے روسی سفارتکاروں کو بے دخل کیا گیا اتنی ہی تعداد میں روس سے سفارتی عملہ کم کردیا جائے’۔

برطانوی وزرات خارجہ کے ترجمان نے روسی ردعمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سفارتکاروں کی بے دخل سے نا جانے کتنا عملہ متاثر ہوگا تاہم عملے کی تعداد کا ذکر نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب روس کے وزارت ٹرانسپورٹ نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ لندن میں ان کے مسافر بردار طیارے کی تلاشی کن بنیادیوں پر کی گئی۔

روس نے ہیتھرو ائیر پورٹ پر مذکورہ تلاشی کو ‘بے حد افسوسناک’ قرار دیا ہے۔

روسی سفارتخانے کے مطابق برطانوی افسران نے تلاش کے بعد کوئی دستاویزات فراہم نہیں کیے جس میں تلاشی کے اسباب کا ذکر ملتا ہو تاہم لندن کی جانب سے مذکورہ عمل ‘شدت پسندانہ رویہ’ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے