نئے فریق‘ نیا محاذ

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے مقامی آبادی کی نسل کشی کی نئی مہم شروع کی ہے۔ خطے میں پھیلتی اور زور پکڑتی ”خانہ جنگی‘‘ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے‘ مقامی مجاہدین، پاکستان اور بھارت‘ ابھی تک کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ تینوں فریق یعنی پاکستان‘ کشمیری اور بھارت مسلسل تصادم کے عہد سے نکلنا چاہتے ہیں۔ مسلسل ٹکرائو اور علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے باہمی زور آزمائی‘ ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ فی الحال تینوں فریق اس طویل تصادم اور محاذ آرائی سے کوئی نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے۔ علاقے اور خطے کی صورت حال کشمکش کے ایک نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔ چند سال پہلے تک کشمیر کا مسئلہ پاکستان‘ بھارت اور مقامی آزادی پسند لوگوں کے درمیان تھا۔ مقامی نوعیت کی چھوٹی چھوٹی جھڑپیں اور عالمی اداروں کے سامنے اپنا اپنا مقدمہ پیش کرنے کے سارے ممکنہ ذرائع استعمال کر کے‘ ہم ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے۔ تنازع کشمیر کی نوعیت اس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے کہ تینوں فریق‘ اس لاحاصل محاذ آرائی سے کچھ حاصل نہیں کر پائے اور لاکھوں انسانی جانیں اس تنازع کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔

تینوں فریقوں نے اس طویل جنگ سے کوئی قابل ذکر نتیجہ حاصل نہیں کیا۔ متعدد جنگوں کے بعد کوئی ایک فریق بھی‘ بنیادی تنازعات سے اپنے لئے کوئی استفادہ نہیں کر پایا۔ برصغیر کی آزادی کے بعد‘ جس طرح تقسیم ہند کے مسائل‘ بات چیت کے ذریعے حل کئے گئے‘ کشمیر کا تنازع اس انداز میں حل نہیں کیا جا سکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تنازع کو طول دے کر بھارتی دراندازی‘ روایتی انداز میںکوئی فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ بھارت نے تنازع کے ابتدائی مراحل میں بزور قوت‘ اپنے دعوئوں کے مطابق‘ ریاست کے کچھ علاقوں پر قبضہ ضرورکیا‘ چھوٹے چھوٹے جنگی تصادم بھی ہوئے لیکن براہ راست پاکستان اور بھارت کی افواج‘ پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد‘ دوبارہ آمنے سامنے نہیں آئیں۔ کارگل کا معرکہ ہوا تو پاکستان اس بلند و بالا پہاڑ پر فیصلہ کن تصادم میں خاص فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

پاکستان اور بھارت دونوں نے‘ کارگل کے محاذ پر جتنے نقصانات اٹھائے‘ ان سے حاصل ہونے والے نتائج کسی کے حق میں نہیں جا سکے۔ بھارت‘ کارگل پر احمقانہ حملہ کر کے اپنے ملک کو ایک مستقل روگ لگا بیٹھا ہے جبکہ پاکستان نے قدرتی راستوں سے فائدہ اٹھاتے وقت اپنی بے آ ب و گیاہ پوزیشن سے مناسب فائدہ اٹھایا۔ مقبوضہ علاقوں سے تقابلی فوائد‘ پاکستان ہی حاصل کر پایا۔ کارگل کی چوٹی پر بھارت کو‘ زیر قبضہ برف کے دشوار گزار راستے عبور کر کے‘ اپنی پوزیشن برقرار رکھنا بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ کارگل سے ابھی تک بھارت کچھ حاصل نہیں کر پایا جبکہ پاکستان اپنی سٹریٹجک پوزیشن سے مسلسل فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عقل و فہم سے کام لیا جائے تو بھارت لاحاصل اور دشوار گزار مقام پر محض قبضہ برقراررکھنے کے لئے‘ اپنی فوج کو ہر موسم میں ضروری اشیا فراہم کرنے کا پابند ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کارگل پر اپنی چوکی کا قبضہ برقرار رکھنے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرتا۔

وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو‘ لاحاصل اخراجات کا بوجھ اٹھائے رکھنا اور انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع‘ کسی بھی وقت ایک فریق کو‘ زیادہ خسارے کی پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ آج کی صورت حال وہ نہیں‘کہ کارگل کے ایک حصے پر قبضہ کر نے والا فریق زیادہ فائدے اٹھا سکے۔ اس وقت تک پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات رسمی تھے۔ اب وہ سٹریٹجک ہو چکے ہیں۔ پاکستان اور چین کے باہمی مفادات میں مداخلت کر کے‘ بھارت اپنے ناجائز قبضے میں توسیع نہیں کر پائے گا۔ اس کے برعکس اب چین اور پاکستان کے باہمی مفادات ماضی کی نسبت زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔

عالمی توازن طاقت میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ چین اور پاکستان دونوں کے مفادات مشترک ہو چکے ہیں۔ ان مفادات کو تحفظ دینے کے لئے چین باقاعدہ محاذ آرائی میں فریق بننے پر بھی تیار ہو گا جبکہ اقصائے چین میں مزید ٹانگ پھنسائے رکھنا‘ نئے دور میں‘ چین جیسی ابھرتی اور پھیلتی ہوئی طاقت سے کشیدگی پیدا کرنا ‘ بھارت سمیت کسی بیرونی طاقت کے لئے نفع بخش نہیں ہو گا۔ کشمیر کا مسئلہ اب صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ اس مسئلے میں روس اور امریکہ کا مداخلت کرنا‘ ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو گا۔ عالمی طاقتوں کی نئی کشمکش ایک نئے میدان میں ہو گی۔ اس میدان میں پاکستان کے مہرے زیادہ مضبوط ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے