بھارت کی تنہائی

بھارت مظلوم اور نہتے کشمیریوں کے خلاف جو وحشیانہ کارروائیاں کر رہا ہے‘ شاید اسے اندازہ نہیں کہ ایسی احمقانہ جنگ میں آخر کار کس مصیبت کی طرف‘ تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔ بھارت کی فوج دورِ حاضر کی افواج کے مقابلے میں بہت پسماندہ ہے۔ کشمیری عوام پر جس وحشیانہ انداز میں مظالم ڈھائے جا رہے ہیں‘ ان کا نتیجہ برآمد ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں رہ گیا۔ ”چین اپنے معاشی اور تزویراتی حجم میں اضافہ کر رہا ہے۔

ایشیا اور دنیا کی دیگر ریاستیں اپنا توازن برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ چین کے ہمسایوں اور حریفوں میں کوئی بھی اس کی طرف سے آنے والے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جاپان نے عالمی سطح پر آگے بڑھنے میںہمیشہ ہچکچاہٹ محسوس کی ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک گروہ بندیوں اور داخلی رقابتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ کچھ چین کی قربت اختیار کرنے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ آسٹریلیا بھی اس سوال پر داخلی تذبذب کا شکار ہے کہ کیا وہ چین کے کیمپ میں شامل ہو یا اس کے مخالف کیمپ میں؟ یورپ کافی فاصلے پر واقع ہے۔ جہاں تک روس کا تعلق ہے‘ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چین کا اتحادی ہے۔ اس وقت امریکہ کی توجہ کا رخ بیرونی محاذوںکے بجائے داخلی مسائل حل کرنے پر ہے۔ بھارت خود کو چین کے عالمی پھیلائو کے مضمرات سے نمٹنے کا خواہشمند سمجھتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اس اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ آنے والے عشروں میں بھارت‘چین کے مقابلے میں طاقت کا توازن قائم نہیں کر سکے گا۔ ایک حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے‘ خواہ بھارت اپنے مقصد کے حصول کے لیے کتنا ہی مخلص اور پرعزم کیوں نہ ہو‘ اس کے عملی اقدامات اس کے برعکس ہیں۔

اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔ بھارت کے وفاقی بجٹ میں فوجی اخراجات جی ڈی پی کے 1.6 فیصد سے نیچے گر چکے ہیں۔ یہ 1962ء کے بعد سے کم ترین تناسب ہے۔ یہ سال ہر بھارتی کی یادداشت کا حصہ ہے۔ اُس سال ایک سرحدی تنازع پر ہونے والی جنگ میں بھارتی فوج کو چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ چین میں شاید بہت سے لوگوں کو اس جنگ کا علم بھی نہیں۔ 1962ء کی جنگ میں بھارت نے عشروں تک اپنی فوج پر سرمایہ کاری نہ کرنے کی قیمت چکائی تھی۔ اس کے علاوہ بھارت ”غیر جانبدار اقوام ‘‘ کی صف میں کھڑے ہونے پر نازاں تھا۔ آج 2018 ء کا 1962ء سے موازانہ حیران کن ہے۔

اگرچہ بھارت ماضی کی نسبت‘ امریکہ کے کہیں زیادہ قریب ہے۔ وہ اس کی بھرپور قربت اختیار کرنے اور معاہدے کرنے میں گریز سے کام لے رہا ہے۔ کئی ایک حکومتوں نے فوجی بجٹ کو کم کرنے کی پالیسی اپنائے رکھی۔ اس ضمن میں نریندر مودی کی قوم پرست قیادت کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں۔ اس دوران جیسا کہ 1962ء میں تھا‘ بھارت نے چین کے لیے معتدل لب و لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ یہ چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے‘ اسے اپنی ہمسایہ ریاستوں میں پھیلنے سے روکنے پر کمر بستہ ہے۔ اس نے مالدیپ میں ایسی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک اہم سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا اس منصوبے کو روکنے کے لیے بھارت کے بازوئوں میں دم خم موجود ہے؟ بھارت کے مالی مسائل کو دیکھتے ہوئے اس کی دفاع پر کفایت شعاری سمجھ میں آتی ہے لیکن اصل مسئلہ دستیاب فنڈز کے استعمال کا ہے۔ عسکری ضروریات کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز کا ایک بڑا حصہ انیسویں صدی کی فوج پر صرف ہو جاتا ہے۔ یہ وہ فوج ہے‘ جسے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ قدیم فورسز کی طرح بھارت کی فوج میں بھی نفری زیادہ ہے۔

بھارت کے وائس چیف آف سٹاف نے پارلیمانی کمیٹی کو خبردار کرتے ہوئے کہا بھارتی فوج کے پاس موجودہ اسلحے کے دو تہائی کا شمار ”نوادرات‘‘ میں ہوتا ہے۔ اُن کے مطابق پرانے ہتھیاروںکو جدید ہتھیاروں میں بدلنا تو درکنار‘ فوج کے پاس موجودہ جنگی مشین کو رواں رکھنے کے لئے بھی رقم نہیں۔ یہ دس روزہ جنگ لڑنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جہاں تک فضائیہ کا تعلق ہے تو اسے پورے ایک سکوارڈن کی کمی کا سامنا ہے۔ نیوی کے پاس آبدوزیںضرورت سے کہیں کم ہیں۔ چین کی 70 آبدوزوںکے مقابلے میں‘ بھارت کے پاس صرف 15 ہیں۔ بھارت نے دو نئی آبدوزیں سمندر میں بھیجیں اور ان میں تار پیڈوز بھی موجود نہ تھے۔ اس دوران بھارت نئی ڈویژنز قائم کرتے ہوئے اپنی دس لاکھ فوج کی نفری میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ چند روز ہوئے پنشن میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ فوجی نفری پر اٹھنے والے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی تمام فوجیں ”وسائل کی کمی‘‘ کا شکوہ کرتی رہتی ہیں۔ زیادہ دن نہیں گزرے‘ مودی انتظامیہ نے امریکہ کے ساتھ اہم تزویراتی شراکت داری کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج نے کئی ایک معاہدوں پر دستخط کئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی سیاستدان‘ فوج کو جدید بنانے کے لیے تیار نہیں۔ خاص طور پر اگر اس کا مطلب نفری میں کمی لانا ہو۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کی سیاسی قیمت چکانا پڑے گی۔ نریندر مودی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ فوج کی افرادی قوت کا تعلق زیادہ تر ان علاقوں سے ہوتا ہے‘ جہاں انتخابی معرکہ بہت کانٹے کا اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ‘ سکیورٹی کو درپیش خطرات‘ ایک منظم شکل میں سامنے لانے سے قاصر ہے۔ اگر اس کی کوئی واضح شکل موجود ہو تو پھرہی کوئی منصوبہ سازی کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں وائٹ پیپرز شائع کرکے اس شکل کو واضح کیا جاتا ہے لیکن بھارت میں اس کی کوئی روایت موجود نہیں۔

اس پر مستزاد‘ دفاعی ساز و سامان کی خریداری‘ سیاست، بدعنوانی اور کمیشن کے الزامات سے عبارت ہوتی ہے۔ مودی اور ان کی پیشرو انتظامیہ ایسے الزامات کی بابت بہت حساس رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی ایک خریداریوں میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ تاخیر فوج کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اگر بھارت‘ چین کے مقابلے میں طاقت کا توازن قائم کرنے کی کوشش سے دستبردار ہو جائے اور عالمی طاقت کہلانے کے بجائے‘ ایک دوسرے درجے کی طاقت بن کر رہے تو بہتر ہو گا۔ کم از کم اسے چین کے بارے میں جارحانہ لب و لہجہ اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر ہاتھ میں کمزور سی چھڑی ہو تو بلند آواز میں دھمکیاں دینا معقول حکمتِ عملی نہیں ہوتی‘‘۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے