جیو ملازمین تنخواہ کیس؛ میرشکیل الرحمان نے سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی

اسلام آباد: جیوملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کیس میں میرشکیل الرحمان نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر معافی مانگ لی۔

میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ میں جیو ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیس کی سماعت ہوئی۔ جیو نیٹ ورک کے مالک میر شکیل الرحمان عدالت میں پیش ہوئے اور گزشتہ پیشی پر حاضر نہ ہونے کی معافی مانگی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ ملک کا سب سے بڑا میڈیا ادارہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، آپ کے ادارے کے لوگوں کوتنخواہیں نہیں مل رہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ میرشکیل الرحمان نے مؤقف پیش کیا کہ میں اپنے ساتھیوں سے بہت شرمندہ ہوں اور معافی مانگتا ہوں میرافرض بنتا ہے کہ وقت پرملازمین کا حق ادا کروں، عدالت کی اجازت سے تنخواہ ادا نہ کرنے کی وجہ بتا سکتا ہوں۔ حکومت سے اشتہارات کے پیسے لینا ہیں، کے پی کے حکومت نے ہمارے اشتہارات بند کیے ہوئے ہیں، ادارہ بند بھی رہا ،اب کھل چکا ہے، ادارے کو نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میرشکیل صاحب کاروباری خسارہ ہوجاتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں تنخواہیں بند کردیں، ملازمین اپنے گھر کے اخراجات کیسے چلائیں گے؟ کسی ادارے نے اپنی جائیداد فروخت کرکے تنخواہیں اداکیں؟ میر شکیل نے کہا کہ اندازہ ہے جیوکا بل 25کروڑ روپے ہے، 78 فیصد ادائیگیاں کر چکے ہیں، عدالت ہمیں 3 ماہ کا وقت دے دے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہ 3 ماہ میں ملازمین کیسے گزارہ کریں گے؟ تین ماہ کا وقت دینا ممکن نہیں ۔

میرشکیل الرحمان نے کہا کہ عدالت ہمارے معاملے پر ازخود نوٹس لے لے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ازخود نوٹس لینا بند کر دئیے ہیں، جو ازخود نوٹس لئے ہیں ان کونمٹائیں گے، عدلیہ کسی کے خلاف نہیں ہے، آپ محبت دیتے ہیں تو عدلیہ بھی محبت دیتی ہے، اس معاملے کومجموعی طور پر انسانیت کے حوالے سے لے لیتے ہیں اگرآپ کاپیسہ رکا ہوا ہو تو اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ میر شکیل آپ کا ادارہ کہاں کہاں سے بند ہوا ؟ ہمیں بتائیں، آپ کے پاس لائسنس ہے قوت کے ساتھ چینل کو کسی جگہ بند نہیں کیا جا سکتا، ادھار لیں..! کسی سے پیسہ مانگیں تنخواہیں اداکریں، اگرخیبرپختونخوا حکومت اشتہار نہیں دیتی تو مجبور نہیں کرسکتے۔

عدالت نے جیو نیوز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملہ پر حامد میر کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی کمیٹی میں جیو نیوز کے دو رپورٹر اور دو انتظامیہ کے نمائندے شامل ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے