’ہراسانی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، خاموش رہنا حل نہیں’

پاکستان میں وفاقی محتسب برائے ہراسیت بمقامِ کار کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ وہ خواتین جنھیں کام کی جگہوں پر ہراسانی کا سامنا ہے ‘وہ آگے بڑھیں، اور ہراسانی کے خلاف آواز اٹھائیں، انہیں انصاف ملے گا۔’

وہ بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں پاکستانی شو بز کی دو شخصیات درمیان ہراسانی سے متعلق واقعے پرسوال کا جواب دے رہی تھیں جس میں گلوکارہ اور ماڈل میشا شفیع نے گلوکار اور اداکار علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں جس کی انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے تردید کی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان سوشل میڈیا پر حال ہی میں منظرعام پر آنے والے اس واقعے پر کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کر سکتیں کیونکہ ‘یہ معاملہ ابھی عدالت تک نہیں پہنچا ہے۔ اور ان کے دفتر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس پر اس وقت تک رائے نہیں دے سکتیں جب تک کہ تحقیقات مکمل ہو کر فیصلہ سامنے نہ آ جائے’۔

کشمالہ طارق نے کہا کہ ہراسانی کا شکار مرد ہوں یا خواتین، ‘خاموش رہنا حل نہیں ہے’۔

وفاقی محتسب کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچائی جا سکتی ہے تاہم ‘انصاف کے حصول کے لیے درست پلیٹ فارم ملک بھر میں قائم خصوصی عدالتیں ہیں جو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے متعلق شکایات سنتی ہیں’۔

خیال رہے کہ سابق پارلیمینٹرین کشمالہ طارق نے حال ہی میں کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قائم عدالت میں وفاقی محتسب کے طور پر حلف اٹھایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک ماہ میں ہی انہیں مختلف اداروں سے ہراسگی سے متعلق ساٹھ سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن کی سماعت جاری ہے۔

‘زیادہ تر شکایات سرکاری اداروں سے سامنے آئی ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر نوکری چھوٹنے کا خوف نہیں ہوتا۔ تاہم بعض نجی اداروں سے بھی ہراسانی کے مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔’

ان کے مطابق ہراسانی کے زیادہ تر مقدمات خواتین کی جانب سے سامنے آتےہیں تاہم شکایت کنندگان میں مرد بھی شامل ہیں جنہیں اپنی خاتون یا مرد باس یا ساتھی ہراساں کر رہے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف باقاعدہ قانون سازی 2010 میں کی گئی تھی۔
اس وقت کی حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ‘ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2010 ‘ کے تحت وفاق اور صوبائی سطح پر ہائی کورٹس کے مساوی خصوصی عدالتیں قائم کیں جو ‘ہراسیت بمقامِ کار’ سے متعلق شکایات سنتی ہیں۔

اسی ایکٹ میں نہ صرف ہراسانی کی تعریف بیان کی گئی بلکہ مقدمات کی تحقیقات کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا اور سزاؤں کا تعین بھی ہوا۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں ہر نجی و سرکاری ادارے کے لیے ایک ایسی کمیٹی کی تشکیل لازمی قرار دی گئی جو ہراسانی سے متعلق شکایات سن سکے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘ کمیٹی تشکیل نہ دینے والے ادارے کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاتا ہے’۔

بعدازاں اس ایکٹ سے لفظ ‘خواتین’ حذف کر دیا گیا جس کے بعد وفاقی و صوبائی محتسب میں مرد بھی شکایات داخل کرا سکتے ہیں۔
وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے ان خواتین کی کردارکشی کرنے کو نہایت افسوسناک قرار دیا جو ہراسانی کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔

‘بدقسمتی سے خواتین نہایت آسان ہدف اس لیے بنتی ہیں کہ وہ ہراسیت کی شکایت کریں گی اور پھر ان کے کردار، ان کے لباس پر تنقید کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ خواتین بلا خوف سامنے آئیں’۔ ان کے مطابق کردار کشی بذات خود ہراسیت کی ایک قسم ہے۔

کشمالہ طارق کا کہنا ہے کہ اس قانون میں ترامیم کی گنجائش موجود ہے اور اس مقصد کے لیے تجاویز پہلے ہی متعلقہ فورم پر بھیجی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اس قانون میں خواجہ سراؤں کو ہراساں کیے جانے کے مقدمات بھی سنے جا سکیں گے جس کے لیے ترمیم کی جارہی ہے۔ دوسری جانب اداروں میں قائم کمیٹیوں کے ممبران کے فیصلوں اور کاروائیوں پر نظر رکھنے کے لیے بھی تجاویز دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی محتسب برائے ہراسگی کی ویب سائٹ پر بیشتر مقدمات وہ ہیں جو عدالت میں آنے سے پہلے ان کمیٹیوں کے پاس جاتے ہیں تاہم ‘اکثر ان کمیٹیوں کے ممبران ہراسگی کا شکار افراد کی بجائے بااثر افراد کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں’۔

اس سوال پر کہ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد خواتین نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے ہراسگی کے واقعات شیئر کیے، کیا وجہ ہے کہ خواتین قوانین موجود ہونے کے باوجود قانونی چارہ جوئی سے کتراتی ہیں؟

وفاقی محتسب نے جواب میں کہا کہ اس رویے کی’ایک وجہ تو یہ ہے کہ خواتین سمجھتی ہیں کہ عدالتی کارروائی کئی سالوں پر محیط ہوگی، ان کی کردار کشی کی جائے گی، اور وہ وکیلوں کی اخراجات نہیں اٹھا سکیں گی، جبکہ ان کے اردگرد موجود افراد بھی ان کی حمایت میں سامنے نہیں آتے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ محتسب کے پاس ہراساں کیے جانے کا مقدمہ ساٹھ روز میں نمٹایا جاتا ہے، جبکہ فیصلے کے خلاف اپیل صدرِ پاکستان کے پاس کی جاسکتی اور اس صورت میں بھی یہ ایکٹ ہراسگی کا مقدمہ دو ماہ میں نمٹانے کا پابند کرتا ہے۔ جبکہ اس قانون کو اس قدر آسان کر دیا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کو کسی وکیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی’۔

ان کے مطابق ہراسیت کا سامنا کرنے کی صورت میں مرد و خواتین آن لائن بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں جبکہ مقدمات کی سماعت بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

‘ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں، خصوصاً خواتین اپنے حقوق سمجھتے ہوئے اس قدر بااختیار ہوجائیں کہ ہمیں ان قوانین کی ضرورت ہی نہ رہے اور اسی وجہ سے ہم نے ہراسیت سے متعلق ملک بھر میں آگاہی مہم شروع کی ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ ان کے تحفظ اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ملک میں قوانین موجود ہیں’۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے