ہمیں ہم سے کون بچائے گا؟

رنج و ملال، غم و غصہ، دکھ، افسوس، ڈپریشن وغیرہ میں سے کون سا لفظ استعمال کروں کہ اپنا حال بیان کرسکوں۔ شاید سب لفظ مل کر بھی میری کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔ میں برکت مارکیٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے نہر کی طرف رواں دواں تھا کہ نہر کے ساتھ ساتھ گھر کیلئے ہو لوں گا لیکن موڑ سے پہلے ہی نجانے کیوں غیر ارادی طور پر بے اختیار میں کیمپس کے ہاسٹلز کی طرف مڑ گیا تو بیئریئرز اور گارڈز دیکھے۔

پہلا جھٹکا لگا جس سے میں جلد ہی سنبھل گیا کہ یہ سب تو دہشت گردی کے دنوں کی نشانیاں ہیں جو جاتے جاتے جائیں گی جیسے زخم بھر بھی جائے تو اس کا نشان مدتوں قائم رہتا ہے۔کچھ دیر کنفیوژن کے بعد میں ہاسٹل نمبرون (قائداعظم ہال) کے سامنے تھا۔ گم سم گاڑی میں بیٹھا درختوں کو دیکھتا رہا جو میری طرح بوڑھے ہوگئے ہیں۔ کچھ مر بھی چکے تھے۔ نہ شاخیں نہ پتے، خستہ تنوں کی طرح پتھرائے ہوئے درخت جن پر پرندے بھی بیٹھنا گوارا نہیںکرتے۔ 60کی دہائی کے آخر اور 70کی دہائی کے شروع کا ہاسٹل نمبر ون جو تب بہت شاندار اور جاندار تھا، کچھ اجڑا اجڑا پھیکا پھیکا اور بے جان سا لگا تو ہوک سی اٹھی۔

ہمت حوصلہ جمع کر کے گاڑی ڈرائیور کے سپرد کرتے ہوئے ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی بلیک ہول میں دھکیل دیا گیا ہوں۔ پلٹ جانے کی خواہش کے باوجود میں کسی ان دیکھے دبائو کے تحت آگے بڑھا تو میلے پن، گندگی، بے ترتیبی، افسردگی اور عجیب سی بدبو کے باب در باب کھلتے گئے اور اک بھولا بسرا محاورہ یاد آیا….. اجڑے باغاں دے گا لہڑ پٹواری۔

بائیں ہاتھ بے ہنگم طریقے سے پارک کی گئی موٹر سائیکلیں اور دائیں ہاتھ ڈائیننگ ہال میں جھانکا تو دل دہل گیا۔ دروازہ بند تھا، شیشوں میں دیکھنے کی کوشش کی تو اندر شیشوں سے بھی زیادہ غلیظ۔ کبھی یہی ڈائیننگ ہال فوجیوں کا صاف ستھرا چم چم کرتا میس دکھائی دیتا تھا اور اب یہ کسی گھٹیا ڈھابے سے بھی بدتر دکھائی دے رہا تھا۔ فرنیجر دیکھ کر کراہت محسوس ہورہی تھی۔ میں پھر نہ چاہتے ہوئے بوسیدہ ٹوٹے پھوٹے فرش پر آگے بڑھا …..

درودیوار پر پھٹکار برس رہی تھی جیسے کوئی بوڑھی بیمار غریب بیوہ بیوگی اور بے بسی کی انتہائوں پر ہو۔ لان اجڑے ہوئے تھے۔ کسی کھنڈر سے بدتر دروازوں دیواروں والے کمروں کے باہر ٹوٹے پھوٹے غیر پالش شدہ دھول گندگی میں اٹے جوتوں کا بکھرائو ….. یہ ہر دروازے کے باہر کا منظر تھا جیسے اندر حوالاتی ہوں اور باہر ان کے جوتے۔ میں نے زندگی میں اتنا مکروہ منظر نہیں دیکھا۔ جن کمروں کے اندر کوئی نہ تھا ان پر تین تین کنڈیاں اور تالے ’’ترقی‘‘ پر تالیاں بجا رہے تھے۔

مزید ڈرتے ڈرتے کامن روم میں گیا جو کسی بدحال گھر کے سٹور سےبھی بدتر تھا۔ نہ ٹیبل ٹینس، نہ کیرم بورڈز نہ کارڈ ٹیبلز۔ ایک طرف قائداعظم کی بڑی لیکن ٹیڑھی سی تصویر جس پر جالے اور مٹی، دوسری دیوار پر ٹی وی ٹنگا تھا جس پر دھول، گندے ہاتھوں کے نشان اور یہ ٹی وی بھی ترچھا سا تھا۔ بکھری ہوئی مختلف قسم کی بدرنگ یا بے رنگ قسم کی کرسیاں اور دو تین لڑکے جو علیحدہ علیحدہ بیٹھے پورے ماحول کا عین مناسب حصہ محسوس ہورہے تھے۔ دیواروں پر دھبے، کونوں میں جالے، فرش جیسے کسی نے مدتوں سے نہ دھوئے ہوں، پالشنگ تو بہت دور کی بات ہے۔ میں یہ بتانا بھول گیا کہ یہ صبح تقریباً ساڑھےسات بجے کا ٹائم ہوگا جب میں اس اذیت سے گزرا۔ اقبال کے شاہین ابھی سو رہے تھے۔

بمشکل چھ سات سٹوڈنٹس نما دکھائی دیئے جو چشم بددور اپنے پاکیزہ ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ بلکہ اٹوٹ انگ نظر آئے۔میں آخری قطار میں بائیں ہاتھ مڑا تاکہ اپنے کمرہ نمبر 104کی زیارت کرسکوں۔ اکثرکمروں کی طرح یہ بھی بند تھا اور مختلف قسم کے چھتر اور جوتے باہر میرا منہ چڑا رہے تھے۔ دروازوں کے اپنے اپنے بھدے رنگ یا بری حالت۔ یہ ہاسٹل کا عقب سمجھ لیں جس کا دروازہ کبھی شاپنگ ایریا، کیفے ٹیریا، STCTسنٹر میں جانے کیلئے استعمال ہوتا لیکن اب اس پر قفل پڑا تھا، نحوست برس رہی تھی۔

اوپر والی منزل کا رخ کیا تاکہ اعجاز بائی گاڈ اور مقبول ملک مرحومین کے کمروں کو سلام کرسکوں کہ قبروں کا تو علم ہی نہیں، کہاں ہوتی ہیں۔ ایک جگہ ’’زبردستی‘‘ وضو کیلئے بنی دیکھی جہاں ٹوٹیاں لیک کررہی تھیں اور گیلی جگہوں پر جوتوں کی گندگی سے کیچڑ کے سپاٹ تھے جگہ جگہ یعنی وضو کی جگہ بھی صاف نہ تھی۔

میری حالت دیکھ کر جواں سال کالم نگار اور پروفیسر ناصر خان بھی گھبرا سا گیا تھا۔ میں اب تک پریشان اور گھبرایا ہوا یہ سوچ رہا ہوں کہ دہشت گردی سے تو ہمیں فوج نے بچا لیا لیکن ہمیں ہم سے کون بچائے گا؟ ان حکمرانوں سے کون بچائے گا جنہوں نے میرٹ ذبح کر کے جانے کیا کیا کچھ ذبح کردیا۔ زوال کی یہ انتہا؟ خدا کی پناہ!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے