خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔

میڈیا کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا، وہ 2013 کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے تھے۔

ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ خواجہ آصف این اے 110 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے اہل نہیں تھے، عدالت کو منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کے لیے عدالتی اختیار استعمال کرنا اچھا نہیں لگتا، سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر حل کرنے چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں آنے سے سائلین کا وقت ضائع ہوتا ہے، پارلیمنٹ فیڈریشن کے اتحاد کی علامت ہے اور عزت و تکریم کی حقدار ہے، عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد اراکین کے کردار پر منحصر ہے، درخواست گزار کی سیاسی جماعت عدالت آنے کی بجائے پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھاتی تو مناسب تھا۔

عدالت نے رجسٹرار ہائیکورٹ کو حکم دیا کہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کی جائے۔ تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے اقامہ چھپانے پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا جو آج سنایا گیا۔

درخواست گزار عثمان ڈار نے موقف اپنایا کہ وزیر خارجہ دبئی میں ایک نجی کمپنی کے ملازم ہیں جہاں سے وہ ماہانہ تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں، لیکن انہوں نے بینک اکاؤنٹ اور تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کی، اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے، لہذا انھیں غلط بیانی پر نااہل کیا جائے۔

عثمان ڈار نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی کمپنی میں ملازمت کرنے والا شخص کیسے وزیرخارجہ کے اہم منصب پر فائز رہ سکتا ہے۔ ادھر خواجہ آصف کا موقف تھا کہ وہ پہلے دبئی میں ایک بینک میں ملازمت کرتے تھے، لیکن وہ کل وقتی نہیں بلکہ مشیر کے طور پر ملازمت کرتے تھے۔

[pullquote]نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا : خواجہ آصف[/pullquote]

اسلام آباد: خواجہ آصف نے اپنی نااہلی سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ اپنی نااہلی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں اقامہ کو جواز بنانا کوئی کمال نہیں، کمال تو یہ ہوتا کہ میں نے اقامہ چھپایا ہوتا اور وہ عدالت میں پیش کرتے، حقیقت یہ ہے کہ 1991 سے میرا اقامہ اور بیرون ملک بینک اکاؤنٹس ظاہر ہیں، ان کا ذکر میرے انتخابی گوشواروں میں بھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے