اپنے نالاں اور پرائے مہربان

ویٹی کن سٹی

 
تحریر محمد حسین
محمد حسین
(سماجی امور پر ماہر نصابیات، پروفیشنل ٹرینر)
 
 
مشرق وسطی میں ہزاروں جانوں کی قربانیوں نے وہ رنگ نہیں لایا جو ایک بے بس بچے ایلان کردی کی المناک بے بسی کی منظر کشی کرنے والی لاش نے لایا ہے.
 
 
سمندری لہروں سے ساحل پر پہنچنے والے اس بچے کی لاش نے انسانی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور انسانی ہمدردی کے جذبات کو پروان چڑھایا ہے اور ملکوں کی بے لچک پالیسوں کو بدل دینے پر مجبور کیا ہے۔
 
 
مشرق وسطیٰ خاص طور پر شامی جنگ سے متاثرین پناہ گزینیوں کو ایک طرف یورپی ممالک اور اسٹریلیا اپنے ہاں پناہ دے رہے ہیں۔ یہ ریاستیں ان بے کس متاثرین کو شہریت جبکہ وہاں کے لوگ، مذہبی رہنما مہاجر کیمپوں میں نہیں بلکہ اپنے گھروں، عبادت گاہوں میں انہیں جگہ دے رہے ہیں۔
 
 
دوسری طرف مسلمان ریاستیں اپنے ہمسائیوں اور بھائیوں کو نہ صرف اپنے دروازے بند کر کے ان سے منہ پھیر رہی ہیں بلکہ اس خطے میں مزید بے مہار قتل و غارت اور خانہ جنگی کی آگ کو بھڑکا کر مزید خون کی ندیاں بہانے، انسانی المیوں کو جنم دینے اور اپنے اسلامی تشخص کو مزید داغدار بنانے کے مزید گٹھ جوڑ میں مصروف ہیں۔
 
 
امت مسلمہ اتنی گہری نیند اور مردہ ضمیری میں مبتلا ہے کہ اسے کچھ اثر ہی نہیں ہوا۔
 
 
کہاں ہے حرمین شریفین کی خدمت اور دفاع کے دعویدار سعودی عرب؟
 
 
کہاں ہے اسلام کا قلعہ کہلانے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان؟
 
 
کہاں ہے مستضعفین جہاں کی حمایت اور اسلامی وحدت و اخوت کے بلند و بانگ نعرے لگانے والا اسلامی جمہوریہ ایران؟
 
 
کہاں ہے عرب حمیت کی دعویدار عرب لیگ؟
 
 
کہاں ہے امت مسلمہ اور ملت واحدہ کی دفاع کا راگ الاپنے والی او آئی سی؟
 
 
کیا پوری امت مسلمہ میں غیرت وحمیت، انسانیت و اخوت کی اتنی بھی رمق باقی نہیں رہی؟
 
 
کیا امت مسلمہ کے وسائل صرف ایک دوسرے کے خون بہانے اور خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کے لیے ہی استعمال ہوتے رہیں گے؟
 
 
کیا مسلم ممالک اتنے بانجھ ہو چکے ہیں کہ اس سے کوئی خیر کی امید نہ لگائی جا سکے؟
 
 
کیا مسلم ممالک اپنی تعمیر و ترقی، خوشحالی و استحکام اور باہمی اشتراک و اتفاق کی راہ پر گامزن ہونے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں؟
 
 
ایک طرف کعبہ کے امام سمیت عرب کے مذہبی، کاروباری اور ریاستی شیوخ، ایران و عراق کے مجتہدین، پاکستان کے علما، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنما سمیت سب خاموش ہیں۔ مسلم ممالک کے سرکاری و مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ صحافتی اور سول سوسائیٹی بھی بالکل خاموش تماشا بنے ہوئی ہیں۔
 
 
جبکہ دوسری طرف -بی بی سی اردو سروس کے مطابق- پاپائے روم پوپ فرانسس نے یورپ میں رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کے حل کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔
 
 
 
انھوں نے کہا کہ ’ہر گرجا، ہر مذہبی برادری اور یورپ میں ہر کسی پناہ گاہ کو چاہیے کہ وہ ایک خاندان کو رکھے۔‘
 
 
 
انھوں نے کہا کہ انسانیت کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کرے جو ’موت سے بھاگ‘ کر آئے ہیں، جو جنگ اور بھوک کا شکار ہیں اور بہتر زندگی کے لیے نکلے ہیں۔
 
 
 
اس طرح شامی پناہ گزینوں کو درپیش مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے ہمسایہ اور برادر مسلم ممالک کے دروازے بند اور دور یورپ کے مسیحی ممالک کے دوازے کھل گئے۔
 
 
 
سارے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قراری دی جانی والی اسلامی اخوت،
 
 
 
مظلوم کی آہ سے عرش الٰہی کے ہل جانے کی دل سوزی،
 
 
 
بچوں، خواتین،بوڑھوں اور کمزوروں کی حمایت والی ہمدردی،
 
 
 
وراثت میں بھی حصہ دار بنائے جانے والی ہم سائیگی ،
 
 
 
ہر قسم کی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی حمیت،
 
 
 
تمام مخلوقات سے افضل اور محترم بنائی جانے والی انسانیت،
 
 
 
کیا یہ ساری چیزیں صرف کتابوں کی زینت، خطابت کی شعلہ بیانی اور شہرت کا سامان اور اقتدار و اختیار کا ذریعہ بنانے کے کارڈز ہیں؟
 
یا ان کی کوئی عملی حقیقت بھی موجود ہے؟
 
 
 
کیا مسلم مذہبی رہنما صرف تقسیم، تحقیر، تضحیک، تکفیر کے فتاویٰ دینے پر ہی اکتفا کرنے لگے ہیں؟
 
 
 
امت واحدہ، ملت مسلمہ، اسلامی اخوت، عالمگیر بھائی چارگی
 
 
ہائے کتنے بلند و بانگ نعرے اور کتنے پست نعرے باز!!!!!
 
Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے