مخلوط نظام تعلیم ہمارے معاشرے کے لیے زہر ہے، مولانافضل الرحمٰن

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے معاشی خوش حالی لانا ہوگی اور ہم انتخابات میں جیت کے چیلنج پر پورا اتریں گے۔

لاہور میں متحدہ مجلس عمل کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری مشرقی تہذیب پرمغربی تہذیب کی یلغارکردی گئی ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ مخلوط نظام تعلیم ہمارے معاشرے کے لیے زہر ہے اوردینی مدارس کوختم کرنے کی سازشیں ناکام بنادیں گے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی آرڈرکے تحت ملک میں تبدیلی جنس کاقانون بنایاگیا، تبدیلی جنس کے قانون کوجوتے کی نوک پررکھتےہیں جس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کو پرامن اسلامی ریاست بنانا ہے جس کے لیے ایم ایم اے عام انتخابات میں سیاسی جماعت کے طورپراترے گی۔

سربراہ ایم ایم اے نے کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ امن وامان کا ہے، مسلم دنیا میں 10 سال سے بارود کی برسات ہورہی ہے، امت مسلمہ کو جنگ کا ایندھن بنایا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدے ہمیں ہمارے دفاع کا حق نہیں دیتے، ملک میں امن وامان کے استحکام کے لیے معاشی خوشحالی لانا ہوگی۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت پر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے اور ہماری سیاست کو آج اقوام متحدہ کنٹرول کررہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آنے والا الیکشن مذہب سے بیزار لوگوں کو نہیں دینا اور ہم 2018کے انتخابات میں جیتنے کے چیلنج پر پورا اتریں گے۔

[pullquote]اگلے انتخابات کو دو لوگوں مشکوک بنایا،سراج الحق[/pullquote]

ایم ایم اے کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں انتخابی عمل پراعتماد بحال کرنا اب عمران خان اور نوازشریف کا کام ہے کیونکہ دونوں کے بیانات سے لوگوں کا انتخابی عمل سے بھروسہ اٹھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات کے لیے خلائی مخلوق کام کررہی ہے اور دوسری جانب عمران خان کہتے ہیں کہ 2013 کاالیکشن اسٹیبلشمنٹ نے کرایا۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ آئندہ الیکشن کو 2 لوگوں نے مشکوک بنایا ہے لیکن ہم پاکستان کو پرامن ریاست بنانا چاہتے ہیں،شہیدوں کے خون کا تقاضا ہے کہ ملک کوخوشحال بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ مینارپاکستان کہہ رہا ہے نیا نہیں اسلامی پاکستان بناؤ، کیا مسلمانوں نے سیکولر پاکستان کے لیے قربانیاں دی تھیں؟

سراج الحق کا کہنا تھا کہ میرے قافلے میں کوئی، لینڈ، ڈرگ، پاناما مافیا نہیں لیکن دینی جماعتوں کے اکٹھے ہونے پر کچھ لوگ پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نظام مصطفیٰ ﷺکے نفاذ کے لیے لڑیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے