کیاسپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلیت کا فیصلہ قرآن وسنت کے مطابق درست تھا ؟

میری تعلیم اور تربیت خالص دینی اور علمی گھرانے کی ہے۔ آٹھ سالہ درس نظامی کے بعد دوسال افتاء کیا جسے تخصص فی الفقہ کہتے ہیں بالفاظ دیگر قانون شرعی کی تربیت حاصل کی اور گزشتہ ۱۰ سال سے قانون شرعی کے طالب علم کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہا ہوہوں۔ تعارف کروانا ضروری اس لئے ہوا کہ پاکستان کے آئین کی شق 62،63 اور اس پر کئے گئے فیصلہ نے بحیثیت قانون کے طالب علم کے مجھے الجھا سادیاہے ، اسی الجھن کو کئی قانون دان،ماہرین کے سامنے رکھا بھی لیکن کوئی تسلی بخش جواب مل سکا، وجہ معلوم نہیں کیا تھی!

لہذا، اب اپنے اس سوال کو پبلک کررہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ کوئی ماہر قانون شاید مجھ طالب علم کی رہنمائی کرسکے۔

میرا سیاست سے کوئی خاص تعلق نہیں البتہ گزشتہ دو سال میں سیاست کے نام پر اتنا شور مچا کے مجبورا سیاست کو سیاسی نظر سے دیکھنا شروع کیا البتہ نظر کا دائرہ محدود رکھا تاکہ میں اپنی زندگی کے بنیادی مقاصد سے دور نہ ہو جاؤں . اب آتے ہیں آئین کی اس شق کی جانب جس کی وجہ سے ملکی سیاست کو ہلاکر رہ گئی ہے۔

پاکستان کے آئین کے انگریزی نسخہ کے آرٹیکل باسٹھ ڈی ، ای اور ایف میں، اردو نسخہ کے (د) ، (ہ) اور (و)میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ممبرکے نا اہل ہونے کے لئے بنیادی شرائط مذکور ہیں:

(د)۔ وہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو اور عام طور پر احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو

(ہ)۔وہ اسلامی تعلیمات کا خاطرخواہ علم نہ رکھتا ہواور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابندنیز کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو

(و)۔ وہ سمجھدار ، پارسانہ ہو، اور فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو

اسی باسٹھ کی ذیلی شق (۲) میں ایک وضاحت بھی لکھی گئی ہے کہ پیراجات (د) اور (ہ) میں صراحت کردہ نااہلیوں کا کسی ایسے شخص پر اطلاق نہیں ہوگا جو غیرمسلم ہو، لیکن ایسا شخص اچھی شہریت کا حامل ہوگا۔

مذکورہ بالا عبارات پڑھنے کے بعد چند باتیں سمجھ آ ئیں:

۱۔ آئین کی روح سے مجلس شوریٰ اصل ہے جو خالص اسلامی تصور ہے اسی بنیاد پر (پارلیمنٹ) کو بین القوسین لکھاجاتا ہے

۲۔ پیرا (د) اور (ہ) میں مذکورہ شرائط خالص اسلامی ہیں جو غیر مسلم سے مطلوب نہیں

۳۔ پیرا (و) کی بھی خالص اسلامی شرائط ہیں جیسے فاسق نہ ہو، صادق نہ ہو یا امین نہ ہو

[pullquote]پہلا سوال:[/pullquote]

فاسق خالص اسلامی تصور ہے اور فاسق اس ’مسلمان‘ شخص کو کہا جاتا ہے جو گناہ کبیرہ علی الاعلان کرتا ہو(شق ۲ اسی کی تشریح ہے)۔. پر فسق کفر سے کم درجہ رکھتا ہے، توسوال یہ پیدا ہوا کہ اس شق کو غیر مسلم کی وضاحت والے آرٹیکل میں کیوں نہیں لکھا گیا؟ ، کافر کے لئے گناہ کا اسلامی تصور وہ ہے ہی نہیں تو اس پر فسق کی شرط کیوں لازم کی گئی؟ اور اگر فاسق ہونا کافر کے لئے شرط قرار دے دیا جائے تو اسکا کافر ہونا فسق کو شامل ہے کہ وہ علی الاعلان سرے سے خدا ورسول ص کے اسلامی تصور کا ہی منکر ہے اور اپنی شناخت تک غیر مسلم (منکر) کرواتا ہے تو اس لحاظ سے تو کوئی بھی اقلیت کا نمائندہ مجلس شوریٰ کا ممبر ہی نہیں بن سکتا؟

[pullquote]دوسرا سوال:[/pullquote]

صادق و امین ہونا اسکی دو حیثیتیں ہیں،،، خالص شرعی حیثیت اور حکم ،،، اعلی انسانی اقدار پرمطلوب صفات جو دنیا کے ہر معاشرے کےقانون کا حصہ ہے۔

مجلس شوریٰ متقاضی ہے کہ صادق و امین ہونے کی شرط شرعی حکم کو بجالانے کی خاطر ہو اور بظاہر ایسا ہی ہے اسی وجہ سے عدالتی بحث کے دوران جتنی بھی تحریریں لکھی گئیں یا ٹاک شوز کئے گئے سب میں یہ ہی رونا رویا گیا کہ یہ شق ضیاء الحق مرحوم نے سیاست دانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے آئین میں ڈلوائی تھی اور یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات ہیں ہم گناہ گار کہاں اس پر پورا اترسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

حالانکہ یہ دعوی بے بنیاد ہے،اس وقت موضوع کچھ اور ہے ورنہ اسکا بھی جواب لکھاجاسکتا ہے ، مختصرا یہ سمجھ لیں کہ صادق و امین ہونے کا حکم قرآن کریم نے خود دیا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ [التوبة: 119].
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
أخرج ابن ماجة عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ۔
عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں کون افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صاف دل والا اور سچے زبان والا۔
لہذا یہ شق صدر ضیاء مرحوم کی جاری کردہ نہیں بلکہ اللہ رسول صلی علیہ وسلم کی نافذ کردہ ہے۔

[pullquote]
اصل نقطہ:[/pullquote]

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان ملک کے اسلامی آئین کی ایک اسلامی شق کو پرکھنے کا معیار کیا ہونا چاہئے؟
اصول یہ کہتا ہے کہ ہمارے آئین میں جو بھی اسلامی شقیں ہیں انکی تعریف و تشریح کا حق صرف اور صرف مسلمان کوہوگا اوروہ قرآن وسنت کے تعین کردہ تشریحات ہی ہوسکتی ہیں ۔ عقل بھی یہ ہی تقاضہ کرتی ہے ،،، جیسے مثال کے طور پر فاسق کی مثال پیش کی گئی کیونکہ فسق خالص اسلامی اصطلاح ہے لہذا فاسق کی تعریف بھی اسلامی تعلیمات سے ہی تلاش کی جائیں گی ، اسی طرح اسلام کی نظر میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے یا امانت دار کسے کہتے ہیں یا بے ایمان کسی کہتے ہیں یہ تعین بھی اسلام ہی کریگا ۔جس طرح دیگر قوانین کی تشریح انہیں کے دائرے میں رہ کر کی جاتی ہے۔

[pullquote]خلاصہ یہ کہ ہر قانون کا اپنا ماخذ اور دائرہ کار ہے۔ قانون شرعی کی تعریف قانونِ انسانی قطعا نہیں کرسکتا بلکہ یہ دعویٰ غلط نہ ہوگا کہ دنیا کے کسی بھی مذہب کی تشریح اسکا غیر نہیں کرسکتا ،[/pullquote]

یہ ہر مذہب کا خالص حق ہے کہ وہ اپنے تصورات کی تعریف وتشریح خود کرے اور وہ ہی قابل عمل ہو۔ بلکہ قانون شرعی کی تشریح اگر شریعت کے باہر سے کی جائے تو قرآن کریم میں ایسی کئی آیات موجود ہیں جس میں سخت تنبیہ کی گئی ہے اور اس عمل کو کفر تک سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اب ہوا یہ کہ ہمارے سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف صاحب کے خلاف انکی نا اہلی کا فیصلہ سنادیا اور بنیاد آئین کی شق62،63 پیرا ایف یا (و) رکھی گئی کہ وہ صادق و امین نہیں رہے لہذا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے رکنیت مجلس شوریٰ سے نااہل قرار پائے ۔لیکن صادق و امین کی تعریف وتشریح کا جو ماخذ لیا گیا وہ شریعت اسلامی سے نہیں تھا بلکہ ماخذ بلیک لا ڈیکشنری رکھا گیاجس کے مصنف ہینری کیمبل بلیک ہیں جو ۱۸۹۱ عیسوی میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔ جسکی وجہ سے شدید شرعی،قانونی، اخلاقی اعتراض ، ابہام پیدا ہوگیا کہ کیا اللہ رسولﷺ کے احکامات کی تشریح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسٹر ہینری کیمبل بلیک کریں گے؟

عدالت نے ایک شرعی اہلیت کی شرط کو شریعت سے کیوں نہیں پرکھا ؟، اور کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت کو یہ حق ہےکہ وہ اللہ رسول کے احکامات کی تشریح کسی بلیک لا ڈیکشنری سے کرے؟ اور کیا عقلا بھی یہ بات قابل تسلیم ہے؟

حالانکہ آئین کی شق 203 ڈی یا 203 (د) 1بھی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ قوانین یا قانون کا کوئی حکم کا تعین ویسے ہی کیا جائیگا جو قرآن وسنت میں متعین ہے:

اس کیس میں جو صورت پیدا ہوگئی تھی کہ باپ بیٹے کی کمپنی میں ملازم تھا اور اس نے اس ملازمت کے پیسے وصول کرنے تھے جو وصول نہیں کئے یہاں تک کہ کمپنی بند ہوگئی ۔ اور باپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ میں نے وصول ہی نہیں کرنا تھے بلکہ وہ ایک قانونی ضرورت کی وجہ سے ملازمت بھی کاغذی تھی تاکہ والد کو ویزہ جاری ہوسکے لہذا اس مال کا باپ اپنے آپ کو مالک نہیں سمجھتا تھا لہذا ملکی قوانین کے تحت اپنے گوشواروں میں اس رقم کو باپ نے ذکر ہی نہیں کیا لہذا باپ نہیں سمجھتا کہ میں نے کسی قسم کا بھی جھوٹ بولا ہو۔

اس بیان کے بعد اب صادق و امین اسلامی اصطلاحات کے جاری ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جانا تھا کہ مذکورہ بالا صورت میں شرعا کیا حکم بنتا ہے۔ اصولا مشاورت کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل سے مدد حاصل کرنا چاہئے تھی کہ شرعی ماہرین پر مشتمل ادارہ مذکورہ بالا صورت کو فقہ حنفی کی روشنی میں پرکھتے اور دیکھتے کہ باپ کا بیٹے سے معاہدے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اسکا وہ پیسہ وصول نہ کرنا کیا اسکے بیان کی تصدیق کرتا ہے؟ وہ پیسہ ایک کمپنی کے نام سے منسلک تھا تو اس کمپنی کے بند ہونے کے بعد کیا یہ باپ اس پیسہ کا اپنے بیٹے سے مطالبہ کرسکتا تھا ؟ متروکہ رقم کیا اس باپ کی ملکیت شمارہوگی اور کیا اس پر زکوۃ بنتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

 

یہ طریقہ کار آئین کی شق227 میں قوانین کے بنائے جانے کے عمل میں مذکور ہے جو لازما اسکے نفاظ میں بھی قابل عمل ہونا چاہئے:

 

آئین میں بار بار اس بات کی وضاحت ملتی ہے کہ اسلامی احکامات سے متعلق قوانین یا فیصلے اسلام کے اصولوں اور فلسفے کی رعایت رکھتے ہوئے لکھے جائیں گے اور انکا تعین، ماخذ قرآن وسنت متعین کریں گے نا کہ بلیک لاو ڈیکشنری۔۔۔

[pullquote]آخری بات:[/pullquote]کسی مسلمان کا عدالت سے جھوٹا یا بے ایمان ثابت ہونا انتھائی حساس معاملہ ہے جسکا دنیا وآخرت سے تعلق جڑا ہوا ہے لہذا کسی مسلمان کی دنیا وآخرت کا فیصلہ کرتے وقت بنیاد قرآن وسنت ہونے چاہئیں یا کسی غیر مسلم کی بلیک لا ڈیکشینری؟ جس کے نزدیک نہ قرآن سچی کتاب نہ رسول ﷺ آخری نبی؟

اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود فیصلہ کس طرح کرلیا گیا اور ابھی تک اسے چیلنج کیوں نہیں کیا گیا ،،، یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں اسی وجہ سے یہ فکر تمام اہل علم کے سامنے رکھ رہا ہوں کیونکہ اس فیصلہ سے نواز شریف کی نااہلیت اتنا میٹر نہیں کرتی جتنا خدا کے حکم کے ساتھ مزاق ہوتا نظر آرہا ہے ،،،جسکا وبال یقینی ہے اور پاکستان کے آئین کی روح سے بھی یہ ایک غیر آئینی فعل نظر آتا ہے۔

[pullquote]
ایڈیٹر نوٹ :اس عنوان پر اگر آپ بھی اپنے رائے دینا چاہیں تو ہمارے صفحات حاضر ہیں . آپ ہمیں ibcurdu@yahoo.com پر ای میل کر سکتے ہیں [/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے