تو آج کون سا صحافی ملنے آ رہا ہے ؟؟؟

سجاد اظہر

 
 
اظہاریہ : سجاد اظہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ہم نے دیکھا ہے کہ گاﺅں میں جس عورت کے ہاں شادی کے بعد بچہ نہیں ہوتا اس کی بوڑھی عورتیں اس نوجوان عورت کو پیروں فقیروں کے پاس لے کر جانا شروع کر دیتی ہیں ۔جس کا کاروبار نہیں چلتا وہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کے خلاف کسی نے تعویز کر دیئے ہیں ۔جس کا دماغ چل جاتا ہے اس کے عزیز و اقارب واویلا شروع کر دیتے ہیں کہ اس پر جادو ہو گیا ہے ۔اور جس کی حکومت نہ چلے وہ کہنے لگتا ہے کہ سازش ہو رہی ہے ۔
 
 
نواز شریف کو اچانک بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ کوئی ان کی حکومت کے در پے ہے !میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اڑھائی سال ٹامک ٹوئیاں مارنے اور اڑھائی درجن بیرونی دورے کرنے کے بعد ابھی تک آپ یہ نہیں سمجھ سکے کہ آپ کو کرنا کیا ہے ؟دو بار اقتدار گنوانے کے بعد بھی آپ سول ملٹری ریلیشنز کو سمجھ نہیںسکے اور آپ نے مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ کھڑا کر دیا ۔آپ صنعتکار ہیں لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کے آنے سے ہماری وہ صنعتیں جو ملائشیا اور بنگلہ دیش شفٹ ہو گئی تھیں وہ واپس آ جائیں گی مگر یہاں تو جو باقی بچی ہیں وہ بھی بند ہو رہی ہیں ۔ کاروباری طبقہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہا کیونکہ آپ کی ہر حکومت میں کاروبار ترقی کرتے تھے مگر اس بار تو کاروباری طبقہ ہڑتالیں پہ ہڑتالیں کر رہا ہے ۔
 
 
عوام آپ کی سیدھی اور سچی بات کہنے کو پسند کرتی تھی مگر اس بار تو آپ اور عوام کوسوں دور ہیں نہ ہی انھیں معلوم ہے کہ ان کا وزیر اعظم کیا کر رہا ہے اور نہ ہی آپ عوام کو کوئی گھاس ڈال رہے ہیں ۔ آپ کے اقدامات سے نوجوان نسل سمجھتی تھی کہ ملک آگے جا رہا ہے مگر اب تو وہ سمجھتے ہیں کہ ملک آگے جائے نہ جائے آپ کے عزیز رشتہ دار ضرور آگے جارہے ہیں ۔
 
 
پاک چین اقتصادی راہداری کو جان بوجھ کر التوا دیا جا رہا ہے اس کے گرد اکنامک زونز کی ابھی تک بات بھی نہیں ہوئی اور بات ہو بھی کیسے کہ صنعتوں کو چلانے کے لئے نہ گیس ہے نہ بجلی۔ نندی پور اور سولر پارک منصوبوں کی دھاک بیٹھ چکی۔ایل این جی کا منصوبہ ناکام ہو گیا بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا کہ ان منصوبوں نے آپ کی ٹیم کی اہلیت کا پول کھول کے رکھ دیا ہے ۔ جو نمک خوار صبح شام آپ کی قصیدہ گوئی کرتے تھے انھیں آپ نے مشاورت سے سرفراز کر دیا تو اب یہ قصیدہ گوئی صرف آپ کے دسترخوان تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ قوم ان کے ارشادات ِ عالیہ سے بالکل محروم ہے ۔معلوم نہیں ان کی مشاورت کا کیا حال ہے ۔
 
 
 
پہلے آپ بیوروکریسی کی ایسی تیسی کرتے تھے اس بار وہ آپ کی ایسی تیسی کر رہی ہے ۔
 
 
پہلے آپ کے اراکین اسمبلی آپ پر جان نچھاور کرتے تھے اب جان چھڑاتے پھرتے ہیں ۔بلکہ اکثر تو خود ریٹائر ہو کر اپنے بچوں اور بھتیجوں کو تحریک انصاف کا ٹکٹ دلانے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں ۔
 
 
پہلے آپ مظلوم کی داد رسی کے لئے اس کے دروازے تک چلے جاتے تھے مگر اس بار آپ کی نظر مظلوم کی بجائے اقتدار کی چوکھٹ پر ہی اٹک کر رہ گئی ہے ۔
 
 
پہلے آپ ویژن لے کر چلتے تھے اب پورے چالیس ٹیلی ویژن لے کر چل رہے ہیں ۔
 
 
پہلے آپ ملک و قوم کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی بات کرتے تھے اور اب اپنے خاندان اور مصاحبین کو کھڑا کر رہے ہیں ۔
 
 
پہلے آپ ملک کو ایشئن ٹائیگر بنانے کا نعرہ لگاتے تھے اب نوجوانوں کو لیب ٹاپ دے کر انھیں اپنا ٹائیگر بنانے پر لگے ہوئے ہیں ۔
 
 
پہلے آپ کا آئیڈیل قائد اعظم تھا اب زرداری ہے ۔اس لئے آپ کا اقتدار پوری قوم پر بھاری ہے ۔آپ کو اس لئے ہر طرف سازش نظر آتی ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہو چکا ہے کہ آپ ناکام ہو چکے ہیں ۔
 
 
اب آپ کو بھی پیروں فقیروں کے ڈیروں پر جا کر تعویز دھاگے کرنے چاہئیں اگر یہ بھی نہ چل سکے اور آپ جدہ کی بجائے لندن پہنچ گئے تو اجویر روڈ کے اپارٹمنٹ میں بیٹھ کر دل کی بھڑاس نکالا کریں گے اور ہر صبح پرویز رشید اور عرفان صدیقی سے یہ پوچھا کریں گے کہ آج کون سا صحافی ملنے آ رہا ہے ؟؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے