ریبیز سے بچائو ممکن ہے

dogs

جویریہ صدیق
. . . . .

ریبیز بیماری کتے اور دیگر دودھ پلانے والے جانوروں کے کاٹنے کی وجہ سے انسانوں کو لاحق ہوتی ہے،ہر سال تقریباً 59 ہزار لوگ ریبیز کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ریبیز کے ننانوے فیصد کیسز کتے کے کاٹنے کے وجہ سے ہوتے ہیں باقی ایک فیصد دیگرجانوروں جیسےبلی ،بندر، گائے ،گھوڑے، چمگادڑ، لومڑی،بھیڑیے، نیولے اور اسکنگ کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ ریبیز متاثرہ جانور کے تھوک سے،ناخن اور کاٹنے سے یہ پھیلتا ہے ، اس بیماری کا شکار زیادہ تر بچے ہوتے ہیں، بچے اپنی حفاظت سے آگاہ نہیں ہوتے جانوروں کو خوب تنگ کرتے ہیں اس لئے حملے کا شکار ہوجاتے ہیں، یوں بچے کو اپنے پالتو جانوروں یا باہر گلی کوچوں میں رہنے والے کتوں کے وجہ ریبیز وائرس منتقل ہوجاتا ہے۔

ریبیز سے بچائو ممکن ہے اگر اس سے بچائو کی ویکسین لگوائی جائے لیکن بہت سے لوگوں میں اس کے حوالے سے آگاہی نہیں۔

28 ستمبر کو دنیا بھر میں ریبیز ڈے منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں اس بیماری کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے،یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، گلوبل الائنس فار ریبیز کنٹرول کے مطابق اگر پالتو جانوروں کو اینٹی ریبیز ویکسین لگوائی جائے اور خود ان کو رکھنے والے افراد بھی اپنی ویکسین کروالیں تو اس بیماری سے بچنے کے امکان سو فیصد ہیں۔

rabies

ریبیز بیماری کی علامت کچھ یوں ہے سر میں درد،بخار،الٹیاں،نگلنے میں تکلیف،نیند کا نا آنا،جسم میں اینٹھیں اٹھنا،بہت زیادہ تھوک کا منہ سے نکلنا ، پانی سے ڈر لگنا،پاگل پن ،ہوش کھو بیٹھنا اور فالج شامل ہے،اس ہی لئے اگر کتا بلی چمگادڑ لومڑی وغیرہ میں سے کوئی بھی جانور کاٹ لے تو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں دیر نا کریں،جنگلی جانور تو کم ہی انسانوں میں ریبیز کا سبب بنتے ہیں لیکن گھر میں پالے گئے کتے کی وجہ سے ربیبز سب سے زیادہ پھیلتا ہے، اگر گھر میں رکھے ہوئے جانوروں کی ویکسین باقاعدگئ سے لگوائی جائے تو ان میں اس بیماری کے ہونے کے چانس تقریبا ختم ہوجاتے ہیں۔

ریبیز ایک ایسی بیماری ہے جس کے لئے کوئی مخصوص علاج نہیں، بہت کم لوگ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد بچ پاتے ہیں، اس لئے احتیاط ہی اس بیماری سے بچنے کا واحد حل ہے، اگر کتا یا کوئی اور جانور ہاتھ پر یا جسم کے کسی اور حصے پر کاٹ جائے تو فوری طور پر اس زخم کو پندرہ منٹ تک پانی سے دھویں اور صابن بھی لگاتے جائیں، اس کے بعد جراثیم کش محلول لگائیں، فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

اس بیماری سے مکمل طور پر تو نہیں بچاجاسکتا لیکن اس کے ہونے کے امکان کو کم کیا جاسکتا ہے، اپنے پالتو جانوروں بلی اور کتے کو باقاعدگی سے vet کو دکھائیں، اس کا ویکسین کورس مکمل کریں، اپنے گھریلو جانوروں کو جنگلی جانوروں سے دور رکھیں، اکثر جنگلی جانوروں کے حملے کے باعث پالتو جانور ریبیز کا شکار ہوجاتے ہیں، اگر اپنے علاقے میں کوئی بھی بیمار کتا دیکھیں یا جنگلی جانور فوری طور پر انتظامیہ کو اطلاع کریں۔

Rabies 1

پاکستان میں ریبیز کے حوالے سے بہت کم آگاہی ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال پانچ سے چھ سو پاکستانی ریبیز کی وجہ سے جاں بحق ہوجاتے ہیں، بہت سے پاکستانی اس مرض کا شکار گلی کوچوں میں رہنے والے کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتے ہیں، اس کے بعد پالتو کتے کی وجہ سے کیونکہ اس کو اپنی حفاظت کے لئے رکھ تو لیتے ہیں پر حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں کرتے، ہاتھ صابن سے نہیں دھوتے، جانوروں کو ویکسین کا کورس نہیں کرواتے نا ہی بیشتر پاکستانیوں کی جیب اس بات کی اجازت دیتی ہے۔

حکومت اس ضمن بہتر کردار ادا کرسکتی ایک تو اینٹی ریبیز ویکسین کو عوام کہ دسترس میں پہنچائے اور اس کی قیمت بہت کم رکھی جائے۔ دوسرا جانوروں کے لئے بھی اینٹی ریبیز ویکسین شفاء خانوں پر موجود ہونی چاہیے۔اس کے ساتھ گلیوں میں پاگل کتوں اور بیمار کتوں کو فوری طور پر انتظامیہ شہری آبادی سے نکالے، اس کے ساتھ عوام میں یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ جانوروں سے کھیلنے یا دیکھ بھال کے بعد ہاتھ صابن سے دھوئیں اور جراثیم کش محلول کا استعمال کریں۔ اگر اپنے پالتو جانور پر زخم دیکھیں یا اس کے رویے میں تبدیلی فوری طور پر اس کو ڈاکٹر کو دکھائیں۔ واضح رہے ریبیز میں موت کا امکان ننانوے فیصد ہے ، اس لئے احتیاط ہی اس بیماری کا علاج ہے –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے