وہ جاتا تھا کہ میں نکلا:دو سابق وزرائے اعظم ایک جج کے سامنے

اسلام آباد کا موسم قدرے خنک ہو گیا ہے صبح تڑکے اٹھنا مشکل کام ہوتا ہے مگر کیا کریں بارش ہو یا طوفان، جون کی گرمی ہو یا دسمبر کی یخ بستہ دن صحافیوں کو اپنے فرائض کی بجا آوری کے لیے اپنی اپنی بیٹ یا حلقہ کارمیں جانا پڑتا ہے.

گزرے روز سے طبعیت منتشر سی تھی، بائیں پاؤں کی ایڑی میں درد کی شدید ٹیس اٹھ رہی تھی، صبح بستر چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا،احتساب عدالت میں جانا بھی ضروری تھا بیدار ہونے کے بعد موبائل پر واٹس ایپ دیکھے کہ شاید کوئی ضروری پیغام ہو، ایک پیغام دیکھا تو اپنی خرابی طبعیت کو بھول گیا، لگ بھگ سوا پانچ بجے پیغام دیا گیا کہ میاں نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد کے لیے عازم سفر ہو چکے ہیں، سوچا ستر سالہ بزرگ لاہور سے اسلام آباد آ کر پیشی بھگت سکتے ہیں تو میں اپنے فرائض سے غافل کیونکر ہو سکتا ہوں

پاکستان کی آبادی کی اکثریت جانتی ہے کہ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا کیس چل رہا ہے اور اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر ہوتی ہے ، ہفتے کے پانچ دن میاں نواز شریف عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور یہ پچھلے ایک سال سے چل رہا ہے
آج احتساب عدالت میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کیس کی سماعت کے بعد عدالت سے باہر نکل رہے ہیں اور دوسرا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کیس سننے کے لیے عدالت میں داخل ہو رہا ہے.

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک دونوں کیسز کی سماعت کر رہے ہیں، اسی عدالت میں ایک اور کیس بھی چل رہا جسے عرف عام میں ”رائل پام گالف کلب” میں زمینوں کی خرد برد، فرق مگر یہ ہے کہ اول و ثانی الذکر میں ملزمان دو سویلین وزرائےاعظم ہیں اور جبکہ ، موخرالذکر میں فوجی جرنیل جن پر اربوں روپے زمینوں کی خردبرد کا الزام ہے.

ریٹائرڈ جرنیل جب پیشی پر آتے ہیں تو پورے جاہ و جلال کے ساتھ عدالت لگتی ہے، جرنیل حاضر ہوتے ہیں، سماعت شروع ہونے سے قبل ہی ایک دو ماہ کے بعد کی تاریخ دے دی جاتی ہے.
نیب پراسیکیوٹر بھی بھگی بلی بن کر کہتے ہیں جیسے حضور آپ کی مرضی! اس وقت جرنیلوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے ان کے منہ میں دہی جم جاتا ہے مگر جب سابق وزیراعظم کے خلاف دلائل دیتے ہیں تو ان کی زبانیں رکنے کا نام نہیں لیتیں بالخصوص جب وکیل صفائی جج سے استدعا کرتا ہے کہ ایک دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیا جائے تو انہیں کرنٹ سا لگ جاتا ہے.

شاید میاں نواز شریف کو عدالت میں جج کے سامنے بیٹھا دیکھ کر اُن کی جھوٹی انا کو تسکین پہنچتی ہے ، ہاں وہی نواز شریف جو تین بار اس ملک کا وزیراعظم رہا ، طاقتور حلقوں نے مگر یہ سوچ رکھا ہے کہ اسے اتنے مقدمات میں اُلجھا دیں کہ خوف کی وجہ سے یہ سیاست کرنا چھوڑ دے مگر یہ بھی ضد کا پکا ہے ، مقدمات بھگت رہا ہے اور استقامت کے ساتھ کھڑا ہے.

بات آج کی کارروائی سے شروع ہوئی تھی، بیچ میں کہیں اور چلی گئی ، کمرہ عدالت میں دونوں سابق وزرائے اعظم کی ملاقات بھی ہوئی، وہ گرم جوشی کے ساتھ ایک دوسرے سے ملے ، کچھ راز و نیاز کی باتیں بھی ہوئیں، میاں نواز شریف کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد آج کمرہ عدالت میں موجود تھی.

ان کے دائیں طرف عرفان صدیقی اور بائیں طرف بزرگ سیاست دان راجہ ظفرالحق براجمان تھے ، عدالت کی طرف سے میاں نواز شریف کو بیان قلم بند کروانے کے لیے اردو میں سوالنامہ دیا گیا جس کا میاں نواز شریف غور سے مطالعہ کرتے رہے اور عرفان صدیقی سے برابر صلاح بھی لیتے رہے.

پرویز رشید میاں نواز شریف کے عین پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ تہمینہ دولتانہ، طاہرہ اورنگزیب براجمان تھیں.

کمرہ عدالت میں لیگی لیڈران گزرے روز زرداری کے بیان پر غور و فکر کرتے رہے ،
میاں نواز شریف اطمینان سے صف اول کے ایک اردو اور انگریزی اخبار کا مطالعہ بھی کرتے دکھائی دیے.

کمرہ عدالت میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والوں میں سردار ممتاز، پیر صابر شاہ، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں گل عمر فاروق، امیر مقام، مدن لعل چوپڑہ، حاجی عمر فاروق، سجاد خان، زیب جعفر، مریم اورنگذیب ،حال ہی میں اعلیٰ عدالت کے فیصلے میں سئنیٹر شپ سے فارغ ہونے والی سعدیہ عباسی اور دیگر موجود تھے

لگ بھگ پونے بارہ بجے میاں نواز شریف کو کمرہ عدالت سے جانے کا اذن ملا، میرے ساتھ کھڑے سینئر صحافی ایوب ناصر نے ان سے پوچھا کہ میڈیا سے گفتگو کریں گے تو انھوں نے کہا ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا ہے پھر کریں گے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے