پاک فوج کی کارروائی، 22 مبینہ دہشت گرد ہلاک

armyپاک افغان سرحد پر پاک فوج کی فضائی کارروائی میں 22 مبینہ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ فضائی کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کی گئی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاک افغان سرحد کے قریب فضائی کارروائی رات گئے مذکورہ علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی قابل اعتماد خفیہ اطلاعات پر کی گئی۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے 6 ٹھکانے تباہ کیے گئے جس میں ہلاکتیں ہوئیں۔

یاد رہے کہ وفاق کے زیرِ انتظام پاک افغان سرحد پر واقع شمالی وزیرستان، خیبر ایجنسی اوراورکزئی ایجنسی سمیت سات ایجنسیوں کو عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔

8 جون 2014 کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر ہونے والے حملے کے ایک ہفتے بعد پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

آپریشن سے قبل ایک طویل عرصے تک امن مذاکرات بھی جاری رہے تھے مگر ان مذاکرات میں دونوں فریق کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے جس سے fojمذاکراتی عمل کو ناکام قرار دیا گیا۔

آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کی زمینی اور فضائی کارروائی کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا ایک بڑا حصہ عسکریت پسندوں سے خالی کروانے کا دعویٰ کیا گیا۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کو دہشت گردوں سے خالی کروانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کا دائرہ کار شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں تک بڑھایا گیا۔

بعد ازاں اکتوبر 2014 میں خیبر ایجنسی اور ملحقہ علاقوں میں آپریشن ’خیبر ون‘ اور مارچ 2015 میں ‘خیبر ٹو’ کے تحت سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں مزید تیز کردیں۔

جبکہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے بعد بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں تیزی آگئی ۔

پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل عاصم باجوہ نے آپریشن ضرب عضب کے ایک سال مکمل ہونے پر 2 ہزار 763 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔

اس ایک سال کے دوران پاک فوج کے 347 افسر اور جوان بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

تاہم ان اعدادوشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ صحافیوں کو اس علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے