خوف کی فضا کو توڑنا ضروری ہے!

کہیں ایسا تو نہیں کہ دوسروں کے بارے میں ہمارے خیالات، تصورات اور رویے، غلط فہمیوں، تعصبات، افواہوں، زبان زد عام عامیانہ تصورات ، خود ساختہ خیالات، صرف مخالفین کی آراء پر مبنی ہوں۔انہی غلط فہمیوں، تعصبات، افواہوں، عامیانہ تصورات اور خود ساختہ خیالات، صرف مخالف لٹریچر اور اہل علم کی آراء کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں ہمار ے دل نفرت انگیز جذبات سے بھرے ہوں، ہماری زبان زہر اگلتی ہو ، ہمارا قلم نفرت پھیلاتا ہو اور ہمارا رویہ قابل گرفت ہو!

پاکستان کی حد تک بات کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے منصورہ میں جاکر جماعتِ اسلامی کی تربیت گاہ اور نظام کا کبھی براہِ راست مطالعہ نہیں کیا وہ جماعتِ اسلامی کے خلاف اتھارٹی بنے پھرتے ہیں۔ جنھیں یہ معلوم نہیں کہ جامعہ نعیمیہ کہاں ہے اور نہ کبھی وہاں جاکر رہے وہ بریلوی مسلک کے خلاف بولتے لکھتے نہیں تھکتے۔ جنھیں رائے ونڈ تبلیغی مرکز جانے کا کبھی موقع نہیں ملا وہ تبلیغ کے خلاف لمبے لمبے مضامین لکھتے ہیں۔ جو لوگ مرکز الدعوۃ کے مرکزی دروازے سے نہیں گزرے وہ سلفیوں کو گستاخ بتاتے نہیں تھکتے۔ کچھ لوگ ہیں جو غامدیت کے خلاف دوسروں کی تحریروں سے تیسروں کے اقتباسات نقل کرنے کو خدمتِ دین بنائے بیٹھے ہیں۔ اور مجھے کہنے دیجیے کہ شیعیت کے خلاف بولنے لکھنے والے کتنے ہیں جنھوں نے کبھی جامعہ المنتظر یا جامعہ الکوثر تشریف لے جانے کی تکلیف اٹھائی ہے؟

بڑے بڑے علما اور شیوخ الحدیث ایسے ہیں کہ ساری زندگی دوسرے ذہن کی اس مسجد میں پاؤں تک نہیں دھر سکے جو ان کے محلے میں پڑتی ہے۔ جب یہ لوگ بھائی چارے اور اسلامی رواداری کی بات کرتے ہیں تو شاید فرشتے بھی ان کی مجلسوں سے چلے جاتے ہوں۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

جس طرح مضاربے کی ضرب سے تبلیغ کی ساکھ اور اعتماد متزلزل کر دینے والے مفتیوں کی حرام کاری کو تبلیغ والوں کا اصل چہرہ نہیں کہا جانا چاہیے بلکہ تبلیغ کے کام کے مراکز میں جاکر اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے ہی سے تبلیغ والوں کی درست تصویر سمجھ آتی ہے بالکل اسی طرح کچھ مزاروں پر ہونے والی رسومات سے بریلویت کی حتمی تصویر بنا لینا قرینِ انصاف نہیں ہے اور جامعہ نعیمیہ اور کچھ اور مراکز میں جاکر چند دن گزارنے سے اور ان کے معمولات میں شریک ہونے سے ہی بریلوی عقائد اور رسومات کی درست تفہیم ہوسکتی ہے۔ بعینہ چند امام بارگاہوں اور کچھ جگہوں پر نکلنے والے جلوسوں میں ہونے والے کاموں کے تناظر میں پوری شیعیت کو دیکھنا ہماری رائے میں ناکافی ہے۔

صرف مخالفانہ لٹریچر کا مطالعہ یا دوسرے ذہن کے لوگوں کے بارے میں اپنے طور پر کچھ باتیں طے کرلینا اور اس محدود مطالعے و مشاہدے کی بنیاد پر ان پر حکم لگاتے چلے جانا کسی بھی طور سے درست رویہ نہیں ہے۔ کسی ایک آدمی کا تنہا کسی جگہ جاکر کچھ مطالعہ و مشاہدہ بھی محض کارِ لاحاصل ہے۔ کسی نظام اور فکر کے لوگوں کے ساتھ جب تک مختلف شعبہ ہائے زندگی کے کچھ فہیم لوگ معتد بہ وقت نہ گزار لیں، تب تک اس نظام و فکر کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔

مثال لیجیے کہ مولانا علی میاں علیہ الرحمہ نے ہندوستان کے کچھ دینی مراکز کا مطالعاتی دورہ کیا تو اکیلے نہیں کیا بلکہ مولانا محمد منظور نعمانی اور عبدالواحد صاحب کے ہمراہ یہ طول طویل اسفار کیے۔ مولانا علی میاں خود مصنف اور مدرس تھے، مولانا محمد منظور نعمانی مناظر اور مصنف تھے اور مضبوط صحافیانہ پس منظر رکھتے اور ایک جریدے کے مدیر تھے، اور عبد الواحد صاحب ایم اے پاس تھے (جو اس وقت رسمی عصری تعلیم کا اعلیٰ درجہ تھا اور پورے پورے شہر میں ایک بھی مسلمان ایم اے پاس نہ ملتا تھا)۔ ان متنوع صلاحیتوں والے لوگوں نے مل کر کچھ دینی مراکز کا مطالعاتی دورہ کیا اور ان کی تیارہ کردہ رپورٹیں آج بھی ان دینی تحریکوں کے بارے میں وقیع بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مجھے (حافظ صفوان) مولانا طارق جمیل صاحب کے ساتھ چند دن گلگت میں مختلف شیعہ مراکز میں جانے کا موقع ملا۔ ہم نے وہاں نمازیں بھی پڑھیں۔ الحمد للہ اس علاقے میں باہمی رنجش کی شدید مسموم فضا دیکھتے دیکھتے بدل گئی اور ایک دوسرے پر تنی ہوئی بندوقیں سرنگوں ہوگئیں۔ اللہ نے کلمہ گوؤوں کی بڑی قتل و غارت گری سے حفاظت فرمائی۔

اگر ہر مکتبِ فکر والے نمائندہ لوگ اپنے خرچ پر ہر تین مہینے کے بعد کچھ کچھ دن کے لیے کسی دوسرے مکتبِ فکر کی مرکزی جگہ جاکر چند دن گزارنے، وہاں کے روزمرہ معمولات میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ ان کی مسجد میں نماز پڑھنے کی ترتیب بنانے پر آ جائیں تو فرقہ واریت کی فضا رواداری کی فضا میں بدل سکتی ہے۔ لیکن یہ کام لکھنے میں جتنا آسان ہے، کرنے میں اتنا ہی مشکل ہے۔ اس کی ابتدائی ترتیب یہ ہوسکتی ہے، بقول مولانا مفتی محمد زاہد صاحب، کہ عید، شب برات ،اور خوشی غمی کے مواقع پر چائے کے کپ پر جمع ہو جایا جائے۔

تعصباب سے تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان انفرادی طور پر اپنے آپ کا محاسبہ کرے اور اپنے خیالات و تصورات کو جانچے۔ کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مختلف مسالک، مذاہب، اقوام اور جماعتوں اور شخصیات کے بارے میں ہم نے جو تصورات اور خیالات قائم کیا ہوا ہے۔

کیا وہ: مستند ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں ؟

دوسروں کو جاننے کے لیے ان کے مستند معتبر، موافق اہل علم اور لٹریچر سے بھی رجوع کیا ہے؟

کیا وہ حقائق پر مبنی ہیں؟

کیا وہ انصاف پر مبنی ہیں؟

جو مطلب ہم اخذ کیے ہوئے ہیں کیا وہی مطلب وہ بھی اپنے بارے میں رکھتے ہیں؟

کیا ہم اسے حق کے میزان پر تول سکتے ہیں؟

کیا ہمارے پاس اتنے قابل قبول شواہد موجود ہیں جنہیں کسی عدالت میں پیش کیے جا سکیں؟

غور کیجیے گا اور اپنے دل و دماغ کو تعصبات سے پاکیزہ اور حقائق سے لبریز کیجیے گا۔ کیونکہ پُرامن بقائے باہمی کے لیے خوف کی فضا کا توڑنا ضروری ہے۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے