جسٹن ٹروڈو طالبان سے بڑا خطرہ

کینڈا میں منتخب ہونے والے نئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی انخابات میں کامیابی اور ان کی پر کشش شخصیت کے ساتھ ساتھ تمام کیمیونٹی میں یکساں مقبولیت سے نہ صرف انڈو وپاک میں رہنے والے افراد کی طرف سے پزیرائی مل رہی ہے بلکہ فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں رہنے والے تارکین وطن بالخصوص ایسے مسلمان جنھیں مختلف انداز سے انتہا پسند حکومتوں کے ہاتھوں شدید ازیت کا سامنا ہے کا آشیر باد بھی حاصل ہے۔۔۔۔

وہ بھی خوب داد دے رہے ہیں اور کہیں نہ کہیں یہ خواہش جاگ رہی ہے کہ یا تو ہم جسٹن ٹروڈر کے ملک میں ہجرت کر جائیں یا جس ملک میں وہ رہ رہے ہیں اس میں بھی کسی ایسی جماعت کی حکومت آجائے جس کا سربراہ جسٹن ٹروڈر جیسا ہو ۔۔۔۔

اگر ہم انڈیا کی بات کریں تو وہاں بھی کیا مسلمان کیا سکھ اور کیا نچلی ذات کے ہندو سب ہی کے ساتھ "کتے” والی ہو رہی ہے۔

اور اگر بات کی جائے پاکستان کی تو جیسے بھارت برہمنوں کا ملک بن کر رہ گیا ہے تو یہاں بھی کچھ خاص طبقات جنھیں یا تو مغربی ممالک کی طرف سے تھاپڑا ملتا ہے اور مال پانی بھی اور یا ایسے برادر اسلامی ممالک سے جو اپنے فرقے کے ساتھ ساتھ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پاکستان کو اکھاڑہ بنائے ہوئے ہیں اور اپنے اپنے پیاروں کی خوب حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ سیاسی سماجی اور مالی معاونت بھی کر رہے ہیں۔۔۔۔

اس موجودہ صورتحال ایک عام پاکسستانی شدید کنفیوژن کا شکار ہے کہ وہ جائے تو کس طرف جائے۔۔۔!

ایک طرف امریکی اور مغربی ایڈ پر پلنے والی موم بتی مافیا ہے ۔۔۔ جس کے ہر عمل سے دو نمبری جھلکتی ہے تو دوسری جانب وہ مذہب کی دکانیں ہیں جن میں مخلتف اقسام کے چورن بیچے جاتے ہیں ۔۔۔ جو کھا لے یا تو قے کر دیتا ہے اگر ہضم کرلے تو باولا ہو جاتا ہے۔۔۔!!

اور ہماری سرکار کا یہ عالم ہے کہ وہ قومی مفاد میں سب ہی کو راضی رکھنے میں مصروف رہتی ہے ۔۔

اور حقیقت حال یہ ہے کہ حکومت ایک چوں چوں کا مربہ ہے جس میں ہر ڈھونگی حصہ بقدر جثہ موجود ہے اور حکومتی وژن پنڈولم کی طرح بس ادھر ادھر جھولتا ہی نظر آتا ہے ۔۔۔۔

اور عام آدمی کیا داڑھی رکھے تب بھی پھستا ہے نہ رکھے تب بھی نہیں بچتا۔۔۔!!

دوسری طرف یورپی ممالک میں اور امریکہ میں بھی کہیں نہ کہیں دامے درمے سخنے حکومتیں ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں جن سے مسلمانوں کی دل آزاری کا سامان ہو سکے ،،

اور اپنی سوسائیٹی میں مسلمان بنیاد پرستی کا جن دکھا کر اپنی عوام کو الو بنانے کے ساتھ ساتھ خوفزدہ کئے رکھتی ہے ،،،

اس پوری دنیا میں جیسے استحصال عام آدمی کا ہمارے انڈو پاک میں ہے اس جتنا تو نہیں لیکن ترقی یاقتہ ممالک میں بھی ہو رہا ہے ،،

بس فرق یہ ہے ہم عوام کالنعام کا بھی سٹیس نہیں دیتے وہ چارہ وارہ اچھا ڈالتے ہیں ۔۔۔۔

سو اس عالم میں جو اضطراب پا یا جاتا ہے ۔۔۔ اس میں جسٹن ٹروڈر جیسا بندہ جو انڈین کمیونٹی میں جاکر ڈانس کرے اور مسلمان کمیونٹی میں جاکر شلوار قمیض کے ساتھ ساتھ ٹوپی بھی پہن لے ۔۔ سیلفی بناتے ہوئے ایک جیسی گرمجوشی ۔۔خواہ وہ گورا ہو یاں کالا ہو ۔۔ہندو ہو یاآں حجاب والی کوئی مسلمان خاتون ،،، تو اس کو آگے بڑھنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ،،،

جسے الیکشن جیتنے کے بعد ایک حجاب کرنے والی خاتون سے کیا گیا وعدہ بھی یاد ہو اور تاریخ میں مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ برتاو بھی یاد ہو،،،جس نے امریکی کی نام نہاد جنگ میں سے نکلنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا ہو ،،، تو اس 43 سالہ شخص سے بچنا ہوگا ۔۔

کیونکہ طالبان امریکہ کے ہمسائے میں نہیں تھے وہ بندہ بلکل ساتھ ہے ۔۔ سو اگر اس کی پالیسوں سے خلق خدا کو سکون نصیب ہونا شروع ہوگیا تو کہیں ایسا نہ ہوں کہ سب سے پہلے امریکن عوام ہی اپنی درپردہ یہودی حکومت سے بغاوت نہ کر دیں اور اس کے بعد یورپ اور پھر پاکستان اور انڈیا میں بھی جہاں جسٹن ٹروڈر کی حمایت کے واضح آثار نظر آرہے ہیں

ایک حلقہ اسے عمران خان کی جگہ دے رہا ہے اور ایک نے قائد اعظم محمد علی جناح اور جسٹن کی تاریخ پیدائش ایک ہونے پر کوئی نیا بیانیہ بنانے میں مصروف ہے ۔۔۔

سو یہ انداز حکومت اگر ثمر آور ہوگیا تو پاکستان بھی اس نے نہیں بچ سکے گا ،،،،اس لئے حکومت پاکستان کو امریکہ کو اس کی یہ بات یاد دلانا چاہیے۔۔ کہ دہشت گردی کی جنگ میں جو ہمارے ساتھ نہیں وہ بھی ہمارا دشمن ہے سو ۔۔۔

فوری طور پر اپنے اس نئے دشمن کے لئے لائحہ عمل ترتیب دینا شروع کر دینا چاہیئے ۔۔۔ رہی بات پاکستان کی تو وہ فرنٹ لائین اتحادی کے طور پر جہاں ایک بندوق طالبان پر تان کر کھڑا ہے ۔۔

وہاں ایک اور نیا محاز کھولنے میں اس کیا پریشانی ہو سکتی ہے ۔۔امریکہ کے پاس بندوقیں بہت اور ہمارے پاس چلانے والے بہت ۔۔۔ باقی آخر میں پیپلز پارٹی کے لئے مفت مشورہ ۔۔۔بھٹو کے ساتھ ساتھ اگر ہر بینر اور پینا فلیکس میں جسٹن کے ابا جان اور زولفقار علی بھٹو کے دیرینہ دوست ٹروڈر کی بھی تصویر اوپر اور بلاول کے ساتھ جسٹن ٹروڈر کی تصویر لگا لیں تو،،، تو جماعت میں تھوڑی بہت جان پڑ سکتی ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے