اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں ایک اور بچی کا ریپ

چار سالہ گڑیا (فرضی نام) اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز کے آئی سی یو میں سانس کی مشین یا وینٹیلیٹر پر پڑی ہے۔ اسے پیر کی رات گھر کے دروازے سے اغوا کیا گیا اور پھر آدھے گھنٹے بعد وہ قریب ہی ایک کھیت میں جھاڑیوں کے پیچھے شدید زخمی حالت میں ملی۔ تب سے وہ ہسپتال میں ہی ہے۔

گڑیا کے بستر سے کچھ فاصلے پر اس کی والدہ عائشہ بیٹھی تھیں۔ وہ رات بھر سو نہیں سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ دفتر سے شام چھے بجے جب گھر پہنچیں تو آتے ہی کام کاج میں لگ گئیں۔ ان کی چار سالہ بیٹی گڑیا ‘اپنے دو بھائیوں کے ساتھ گیٹ کی جانب چلی گئی تاکہ بارش دیکھ سکے۔‘

ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ بچی کا ریپ کیا گیا اور اسے گلا دبا کر مارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن شاید اس دوران بچی کے بھائیوں کا شور شرابا سن کر ملزم گڑیا کو اسی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

گڑیا کی والدہ نے آئی سی یو کے باہر بی بی سی سے بات کی کرتے ہوئے بتایا کہ ’ڈاکٹر پرامید نہیں ہیں۔ شاید ہماری ہی غلطی ہے کہ ہم سے کوتاہی ہوئی اور ایسے غیر محفوظ ماحول میں ہم نے بچی کو گیٹ پر جانے دیا’۔

‘ہمیں، ہمارے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست نے لی ہے۔ ہم اپنی آدھی آمدنی حکومت کو ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں کہ آپ ہماری جان و مال کی حفاظت کریں، آپ ذمہ دار ہیں۔ اس کے باوجود ہم محفوظ نہیں ہیں’۔

وہ کہتی ہیں کہ حکومت جب تک ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لے گی، یہ بار بار ہوتے رہیں گے، ‘جس شخص کو علم ہے کہ اس نے کسی بچی کے ریپ کے بعد بچ جانا ہے، قانون کی گرفت میں نہیں آنا، تو وہ تو یہ سب کرتا رہے گا۔ آپ عبرتناک سزا دیں تاکہ کوئی دوبارہ کسی بچی کے ریپ کا سوچ بھی نہ سکے۔’

یہیں بچی کے والد بھی موجود تھے۔ وہ بھی سرکاری ملازم ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ان کی بیٹی کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو ‘اس حکومت، ریاست اور اس ملک پر ہمارا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ میری بیٹی کو میرے گھر کے دروازے سے اغوا کیا گیا، اس پر تشدد کیا گیا، آج وہ آئی سی یو میں ہے۔ وہ معصوم نرسری کلاس کی بچی تھی۔ ہم پورا دن اس ریاست کے لیے کام کرتے ہیں اور یہ ہمارے بچوں کو نہیں بچا سکتی؟’

وہ کہتے ہیں کہ حکومت اس میں ملوث شخص کو ’سرعام‘ سزا دے ، لیکن اس کے ساتھ ‘وٹس ایپ، اور سوشل میڈیا پر آسانی سے دستیاب فحش ویڈیوز پر بھی پابندی لگائے جو نوجوانوں کے ذہن خراب کر رہی ہیں’۔

لیکن بارہ کہو میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ یہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ دوسرا واقعہ ہے جبکہ اسلام آباد کے مختلف حصوں میں حالیہ مہینوں میں بچوں کو نشانہ بنانے کے ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی نے بارہ کہو کے رہائشیوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بے ہنگم انداز میں بڑھتی آبادی ہے۔

ان کے مطابق ’یہاں آنے والوں کا ریکارڈ پولیس کے پاس موجود ہے اور نہ ہی پولیس ان پر نظر رکھتی ہے۔‘

رہائشی محمد عدنان کہتے ہیں کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد اپنے تینوں بچوں کو منع کیا ہے کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔

’میں اور میری اہلیہ خود بچوں کو سکول چھوڑنے اور واپس لینے جائیں گے، اور سختی سے منع کیا ہے کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلیں، کیونکہ ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ محلے میں کمیٹیاں بننی چاہییں جو یہ نظر رکھیں کہ گلی میں کہیں کوئی غیر متعلقہ شخص چکر تو نہیں لگا رہا’۔

یہاں کے ایک اور رہائشی محمد حنیف کہتے ہیں کہ ‘پولیس کے گشت میں اضافہ ہونا چاہییے، وہ یہاں وقتاً فوقتاً لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھیں، ان سے پوچھیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں یہاں ہر جگہ سے لوگ آ کر رہنے لگے ہیں اور کوئی کسی کو نہیں جانتا۔ بہت سے ایسے افراد ہیں جو جرائم میں ملوث ہیں مگر ان پر کوئی نگرانی نہیں ہے’۔

آئی جی اسلام آباد بھی اس موقع پر خود متاثرہ بچی کے گھر کے باہر اس کھیت میں پہنچے جہاں بچی زخمی حالت میں ملی تھی۔ ان کے ہمراہ فرانزک ٹیم بھی تھی جس نے وہاں سے نمونے اکٹھے کیے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی وہ خود نگرانی کر رہے ہیں اور دو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پولیس گشت میں اضافے کی ہدایت کی گئی ہے۔

لیکن جس گلی میں یہ واقعہ پیش آیا، وہاں منگل کی صبح سے ہی اہلِ محلہ گلی میں کرسیاں رکھ کر بیٹھے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب وہ خود ہی اپنی گلی میں سکیورٹی کیمرے نصب کریں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے