وزیراعظم عمران خان سے ملاقات، ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کردی ، دلچسب خبروں سمیت دورے کی تفصیلات

[pullquote]مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو آگاہ کریں، امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی عمران خان سے گفتگو[/pullquote]

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی۔وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے۔پہلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش بھی کی۔امریکی صدر نے کہا کہ ‘بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی’۔انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔اس کے جواب میں عمران خان نے ٹرمپ کی پیشکش کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرادی تو خطے کے ایک ارب سے زیادہ عوام صدر ٹرمپ کیلئے دعاگو ہوں گے، ہم بھارت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان کی جو امداد بند کر دی تھی وہ بھی بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی تھی کہ وہ امریکا کی مدد نہیں کر رہا تھا، یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔صحافی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ اگر دعوت دی گئی تو کیا آپ پاکستان جائیں گے تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اب تک عمران خان نے دعوت نہیں دی، دعوت ملی تو ضرور پاکستان جاؤں گا۔


وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کرہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، پاکستان افغان عمل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے.انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں.عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے۔ امید ہے ہم آنے والے دنوں میں طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کےمقابلے میں افغان مسئلے کے حل کیلئے امن معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔صحافی کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔

[pullquote]امریکا پاکستان سے افغانستان امن بات چیت میں مزید تعاون کا کہےگا، وائٹ ہاؤس کا اعلامیہ[/pullquote]

پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپس کیخلاف کچھ اقدامات کیے ہیں، پاکستان کاتمام دہشت گرد گروپوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا اقدام بہت اہم ہوگا،وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق وائٹ ہاؤس نے اعلامیہ جاری کردیا۔وائٹ ہاؤس اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ جنوبی ایشیا کے امن، استحکام، خوشحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔امریکا جنوبی ایشیا میں امن کیلئے سازگار حالات پیدا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔اعلامیہ کے مطابق صدر ٹرمپ پاکستان کے ساتھ مضبوط معاشی، تجارتی تعلقات چاہتے ہیں، مضبوط تجارتی تعلقات امریکا پاکستان کیلئے فائدے مند ہوں گے، صدر ٹرمپ علاقائی سلامتی، انسداد دہشتگردی کیلئے پاکستان کے ابتدائی اقدامات کو تسلیم کرتا ہے، پاکستان نے افغانستان امن بات چیت کرانے کیلئے کوششیں کی ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان سے افغانستان امن بات چیت میں مزید تعاون کا کہےگا، پاک امریکا مضبوط شراکت کا راستہ افغانستان میں تنازع کے پر امن حل میں ہے، پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروپس کیخلاف کچھ اقدامات کیے ہیں، پاکستان کاتمام دہشت گرد گروپوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا اقدام بہت اہم ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 2018 میں 6.6 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا نیا ریکارڈ بنا، امریکا کی پاکستان کو 2018 میں 2.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات ہوئیں، پاکستان کو برآمدات بڑھنے سے امریکا میں 10 ہزار افراد کو ملازمتیں ملیں، امریکا، پاکستان کی اشیاء کی درآمدات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان سے تجارتی تعلقات امریکی کسانوں کیلئے بہت فائدے مند ہیں، امریکا نے 2018 میں پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کی زرعی اشیاء برآمد کیں، 15 برس سے امریکا پاکستان میں 5 بڑے انویسٹرز میں شامل ہے، امریکی توانائی کی کمپنیوں کو پاکستان میں کاروبار کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔اعلامیے کے مطابق امریکی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے منصوبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی لا رہی ہیں، امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ کے کاروبار کا موقع ملا ہے، پاکستان نے مارچ 2017 تا اپریل 2019 امریکا سے بڑی مقدار میں ایل این جی خریدی، 27 برس بعد ایگزون موبل نے پاکستان میں دوبارہ دفتر قائم کیا، ایگزون موبل پاکستان میں ایل این جی درآمدات بڑھانے کیلئے کام کررہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے عمران خان کے دورہ وائٹ ہاؤس کو تعلقات بہتر بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ عمران خان کا دورہ پائیدار شراکت داری اور تعاون کو مستحکم بنانے کا موقع ہے، امریکا پاکستان کو یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہے کہ تعلقات کی بہتری کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

[pullquote]وزیراعظم سے امریکی سینیٹر کی ملاقات [/pullquote]

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پاکستان ہاؤس میں ملاقات کی۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر لنزے گراہم نے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور وزیراعظم عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کی بہتری کیلئے سینیٹر لنزے گراہم کی کوششوں کو سراہا۔وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر کو ترقی اور معاشی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا سے وسیع بنیادوں پر تعلقات چاہتا ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہو۔انہوں نے کہا کہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں بھرپور تعاون چاہتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کی پاکستان نے بھاری قیمت اداکی اور پاکستان امریکا کے تعاون سے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ پاک امریکا اعلی سطح پر رابطے دونوں ملکوں کے فائدے میں ہیں، افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کے باعث صورتحال بہتر ہوسکی۔سینیٹر لنزے گراہم ری پبلکن پارٹی اور امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن ہیں اور خطے میں امن و سلامتی کیلئے پاک امریکا تعلقات کے سرگرم حامی ہیں۔

[pullquote]امریکی خاتون اول نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تصاویرخود پوسٹ کیں .[/pullquote]

وزیراعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات بہت اچھی رہی: امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی ٹوئٹ
واشنگٹن: امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کو خوشگوار قرار دے دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میلانیا ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے بیان میں امریکی خاتون اول نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات بہت اچھی رہی۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

[pullquote]’مودی نے کبھی امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی درخواست نہیں کی'[/pullquote]

بھارت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کی درخواست نہیں کی۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سے بات چیت سنی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے تیار ہیں تاہم ایسی کوئی درخواست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے امریکی صدر کو نہیں کی گئی’۔بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات دونوں ملک باہمی طور پر طے کریں گے، کسی بھی کسم کی بات چیت پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی کے خاتمے سے مشروط ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیے کی رو سے پاکستان اور بھارت تمام تر مسائل باہمی طور پر ہی حل کریں گے۔دوسری طرف بھارت کے سابق وزیر ششی تھرور نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو بالکل بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، ان سے مودی نے ملاقات کے وقت جو کچھ کہا تھا یا تو وہ ٹرمپ نے سمجھا ہی نہیں یا ٹرمپ کو بریفنگ نہیں دی گئی۔ششی تھرور نے کہا کہ ٹرمپ کو نہیں معلوم کہ کشمیر پر کسی تیسرے ملک کی جانب سے ثالثی سے متعلق بھارت کا مؤقف کیا ہے۔خیال رہے کہ بطور وزیراعظم اپنے پہلے دورہ امریکا میں وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے