خبردار!!!پھول لگانا منع ہے

کینیڈا سے وہ نئے نئے راولپنڈی آئے ، کئی برس پرانے گھر کی خوب تراش خراش کی۔ انکے گھر کی نکر پرعرصہ دراز سے گڑھے تھے خستہ حالی کی وجہ سے وہ کونا کتوں اور گندگی کا محفوظ ٹھکانہ بن چکا تھا۔

جس گند کو پورا محلہ ذہنی طور پر تسلیم کر چکا تھا اسے وہ قبول کرنے پر ہر گز تیار نظر نہیں آ رہے تھے،بے چینی بڑھی تو گھر میں موجود جھاڑو اٹھایا اپنے ملازم اور اکلوتی بیٹی کے ہمراہ گند کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا ، چند روز میں انہوں نے غلاظت سے بھر پور جگہ کی کایا ہی پلٹ دی۔

وہ اسی پر اکتفا کرنے والا ہر گز نہ تھا اس نے غلاظت کے ڈھیر میں خوشبوئیں بکھیرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹرالیوں پر سرخ مٹی منگوا لی گئی ، اسے نکر میں ڈال کر ٹریکٹر سے لیول کروایا گیا جس کے بعد ہزاروں روپے کے پھول اور سبزہ خرید کر لگوا دیا گیا۔

صبح سویرے جب بھی انہیں دیکھا وہ کبھی ایک پودے کو پانی دیتے تو کبھی دوسرے کے پاس دوڑے چلے جاتے جیسے وہ انکی سگی اولاد ہو۔

ایک ڈیڑھ ماہ بعد جب پھول جوبن پر پہنچے اور انکی خوشبو نے گلی کو خوشبووں سے معطر کیا تو ایک ایسا واقع پیش آیا جس نے اس معاشرے کے بارے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔

گلی کی نکر میں پورا محلہ جمع ہو چکا تھا، قلب و روح کو سکون پہنچانے والے پھولوں کی پتیاں بھی اشکبار تھیں، اسی اثنا میں پولیس کی گاڑی بھی نمودار ہو گئی جس سے معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی، میں بھی معاملے کی چانچ کاری لینے چھت سے نیچے اترا جب معاملے کی سمجھ آئی تو پیروں تلے زمین سرک گئی۔

محلے کے وہ بزرگ جنہیں اس نکر میں گند اور کتوں سے کوئی اعتراض نہیں تھا انہیں ان پھولوں سے یہ ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ جگہ پر قبضہ نہ کر لیں،لہذا انہیں پولیس کی موجودگی میں فوری طور پر اکھاڑنے کا فیصلہ ہوا۔

وہ بابا جی جنہوں نے ان پھولوں کی پرورش بچوں سے بھی بڑھ کر کی تھی اشکبار تھے۔
اس بے حس و نجس زدہ معاشرے میں کوئی ایک بھی زندہ ضمیر نہیں دیکھا جسے اس بات کا احساس ہو کہ وہ کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

ان بابا جی کو سنبھال کے انکے گھر پہنچایا تو وہ بولے بیٹا 20 برس بعد اس ملک کی محبت مجھے ٹورنٹو(کینیڈا) سے کھینچ کر یہاں لائی تھی سوچا کہ زندگی کے آخری ایام اس ملک میں گزاروں گا لیکن اب تو میں یہاں دفن بھی نہیں ہونا چاہتا کیونکہ یہاں گولی،بارود پر تو کسی کو اعتراض نہیں ہوتا لیکن یہ بد بخت معاشرہ پھول لگانے کو جرم سمجھتا ہے ، یہ کہتے ہوئے بابا جی زار وقطار رونا شروع ہو گئے۔

یقین مانیں ہمارا معاشرہ ذہنی و اخلاقی گراوٹ کی تمام حدوں کو عبور کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے شاید واپسی ناممکن ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے