آپ کو بھی جیل جانا پڑے گا

سیاست سے میرا زیادہ پرانا تعلق نہیں ہے. 2013 کے الیکشن کے بعد سے ملک کے سیاسی حالات میں دلچسپی لینا شروع کی اور پھر باقاعدگی سے ملکی سیاست پر نظر ڈالتا آ رہا ہوں.

پاکستان کے قیام سے ہی یہاں کی سیاست میں گالم گلوچ، عدم برداشت اور مخالفین کے لیے غیر شائستہ الفاظ استعمال ہوتے آ رہے ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس میں اضافہ ہوا ہے. جارحانہ سیاست کی رسم جو آج کل چل پڑی ہے انتہائی قابل مذمت ہے. سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور نازیبا الفاظ کا استعمال آج کے سیاستدانوں کے لیے معمول کی بات ہے.کمی، کمینے، چور، بےشرم، غدار جیسے الفاظ استعمال نہ ہوں تو ان کے نزدیک جلسوں کا حسن پھیکا لگتا ہے. گالیاں سیاسی جلسوں کا سخن بن گئی ہیں اور نہ ہی ان کے بغیر نعرے لگتے ہیں. مخالفین کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ہر پریس کانفرنس ادھوری رہتی ہے.

میرے آبائی شہر میں شرافت مندانہ اور بردباری کی سیاست روایت رہی ہے لاکھ اختلاف سہی لیکن کبھی ہم نے دو سیاسی مخالفین کو یہاں دست گریباں یا ایک دوسرے کی پوچ گوئی کرتے نہیں دیکھا. کل ایک معمولی بات پر علاقہ ایم این اے نے ایسی ایسی خرافات اپنے مخالف کو بکیں جو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں. یہ سب اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے سیاست دان اخلاقیات کے معاملے میں بانجھ ہو چکے ہیں.

کچھ عرصہ قبل جب اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ایک تقریب میں کسی نے جوتا مارا تو ان کی جماعت کے مخالف بہت زیادہ خوش ہوئے. سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ان کا بہت مذاق اڑایا گیا لیکن شاید یہ اس بات سے نا آشنا تھے کہ کل کو ان کے ساتھ بھی ویسا ہو سکتا ہے اور پھر ویسا ہی ہوا کچھ دن پہلے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بھی گالیوں اور توہین آمیز جملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہو سکتا ہے کچھ دن بعد حکمران جماعت کے کسی وزیر کے منہ پر سیاہی بھی پھینکی جائے.

ٹویٹر پر مخالفین کے لیے گالیوں کے ٹرینڈ چلائے جا رہے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ یہ سب کون کرواتا ہے. اس سب میں کسی بھی ایک سیاسی جماعت کا قصور نہیں ہے بلکہ سب جماعتیں اس میں برابر کی شریک ہیں اور ایسے کام کرتی آئی ہیں. فلاں ایسا ہے، فلاں ویسا ہے، فلاں نے اتنا ملک لوٹا، فلاں غدار ہے اس کے علاوہ ہمیں آج کچھ بھی سننے کو نہیں مل رہا. اور ہر پانچ سال بعد یہی الزام لگا کر اور مخالفین پر کیچڑ اچھال کر داد وصول کرتے ہیں. عوام بھی اس پر خوش ہو جاتی ہے. اگر ان سے کارکردگی کے بارے میں ایک سوال کیا جائے تو ان سب کے منہ پہ تالے لگ جائیں. ان سب کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے اپنے مخالفین کے لیے الزامات اور سیاسی القابات ہیں.اخلاقیات کے نام پر اگر کسی کو ووٹ دیا جائے تو میرے خیال میں ایسا کوئی سیاست دان نہیں ہوگا جس کو ایک ووٹ بھی ملے. ایوانوں میں جہاں لوگوں کے حقوق اور ملک کی خوشحالی کیلئے بات ہونی چاہیے تھی، الزام تراشی اور گالیوں کی گونج سنائی دیتی ہے. ہمارے سیاست دان ازل سے اس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں. اس سب سے باہر نکلیں گے تو ملک کے بارے میں سوچا جائے گا.

اس سب کا اثر عوام پر بھی دیکھ سکتے ہیں. تنقید برائے تنقید اس کا واضح ثبوت ہے. گالی کلچر کا لوگوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے. اپنی اپنی سیاسی جماعت کے دفاع کی خاطر لوگ لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں. سیاستدانوں کی گند آلود زبان اور الزام تراشی کی وجہ سے لوگوں میں بھی عدم برداشت جنم لے رہی ہے. دشنام آمیز اور نفرت سے بھری سیاست سے قلیل المدت تو فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن مستقبل میں اس کے نتائج ضرر رساں ہو جائیں گے.یہ بہتان تراشی ایک نئے تصادم کی جانب لے جائے گی.

دور حاضر کے حکمرانوں میں عدم برداشت کا عنصر بھی واضح دیکھنے میں آیا ہے. جو لوگ ماضی میں خود کو آزادی رائے کا سب سے بڑا علمبردار کہتے تھے آج اپنے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں ہیں. اپنے خلاف ہر بولنے والے کا منہ بند کرایا جا رہا ہے. اس کا آغاز بھی ایوب خان کے دور سے ہی ہو گیا تھا لیکن چونکہ وہ ایک آمر تھا اس وجہ سے اس نے اپنے خلاف لکھنے اور بولنے والے کو چپ کروایا. اگر کسی نے چپ نا کی تو اسے جیل جانا پڑا جس میں فیض بھی شامل تھے. ضیاء الحق کا دور بھی پاکستان کی تاریخ کا اس حوالے سے بد ترین دور سمجھا جاتا ہے. اس دور میں بھی اپنے مخالفین کو جیل میں ڈالا گیا، جمہوریت کی حمایت اور آمریت کے خلاف جو بھی بات کرتا اس کی زندگی اجیرن بنا دی گئی. موجودہ حکمران بھی یہی کچھ کر رہے ہیں. ان سے اپنے اوپر تنقید برداشت نہیں ہو رہی. جو لوگ جمہوریت کا راگ الاپتے تھکتے نہیں تھے ان سے بھی فاشزم کی بو آ رہی ہے. لہٰذا موجود حکمرانوں پر تنقید کرنے سے ہو سکتا ہے آپ پر بھی کرایہ داری ایکٹ لگ جائے اور آپ کو بھی جیل جانا پڑ جائے.

سیاست دانوں کو چاہئیے کہ اچھے کردار اور اخلاق کی سیاست کو فروغ دیں. الزام تراشی اور خرافات کی بجائے عوام کی خدمت پر توجہ دیں. طنزیہ باتوں کی بجائے اپنی کارکردگی سے جلسوں میں نعرے لگوائیں. بے شک اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتی ہے لیکن ان کو چاہیے کہ مثبت انداز میں اختلاف کا اظہار کریں. یہی باشعور سیاستدانوں کا شیوہ ہوتا ہے. اس سے ہی ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کچھ اچھا سبق دے سکتے ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے