بھارت کا کشمیریوں پر کلسٹر بموں کا استعمال: پاکستان کا سلامتی کونسل سے نوٹس لینے کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بموں کے استعمال کا نوٹس لیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کلسٹر بموں کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کلسٹر بموں کااستعمال کیا اور کنونشنل ہتھیاروں سے متعلق 1983 کے معاہدے کے اپنے ہی وعدے کی خلاف ورزی کی۔

عمران خان نے لکھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل عالمی عالمی امن و سلامتی کو درپیش خطرات کا نوٹس لے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ یہ وقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی لمبی اذیت ناک رات کا خاتمہ ہو، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت استعمال کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کا واحد راستہ صرف پُرامن کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ کشمیر میں بدتر ہوتی صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کو روکنے کے لیے کچھ کیا جائے، بصورت دیگر پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔

[pullquote]او آئی سی کشمیر میں گھمبیر ہوتی صورتحال کا نوٹس لے: وزیر خارجہ[/pullquote]

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف احمد سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر طاقت کا استعمال انتہائی قابل مذمت ہے، بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ کر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندو یاتریوں اور غیر ملکی سیاحوں کو کشمیر سے نکلنے کے احکامات تشویشناک ہیں، ان حالات میں او آئی سی فوری طور پر اس گھمبیر صورتحال کا نوٹس لے۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو صورتحال کا نوٹس لینے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے