عمان فیسٹیول کی رونقیں!

عمان کے پاکستان فیسٹیول سہیل وڑائچ، جاوید چوہدری، طلعت حسین، طارق چوہدری اور عامر غوری کے علاوہ نوجوان صحافیوں میں سے گوہر زاہد ملک اور مخدوم شہاب الدین نے شرکت کی جبکہ آرٹسٹ اور ادباء و شعراء کی برادری میں سے نامور غزل گائیک حامد علی خان نوجوان ستار نواز وجیہہ نظامی ہر دلعزیز سلمان گیلانی، میرے محبوب ڈاکٹر انعام الحق جاوید، یوسف خالد، خالد شریف، عزیزم ابرار ندیم عمدہ منتظم اور شاعر ڈاکٹر علی یاسر، اردو نعت کے عقیل عباس جعفری نے خصوصی شرکت کی۔ عمان میں کئی بار پہلے بھی مشاعروں میں میرا آنا ہوا مگر سچی بات ہے اس قدر اعلیٰ، منظم اور تاریخی تقریب میں نے عالمی سطح پر نہیں دیکھی، شاید یہی وجہ ہے کہ اس فیسیٹول کی بے مثال کامیابی کے بعد کچھ مقامات سے آہ و بکا بھی سنائی دے رہی ہے۔

فیسٹیول کی کامیابی کی یہ ایک اور دلیل ہے ناکامی پر ’’شریکوں‘‘ نے جشن منانا ہوتا ہے اور کامیابی پر ان کے ہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ فیسٹیول کے دوسرے دن الفا ایونٹس عمان کے فہد اویس منیر، ندیم عزیمی اور شاعر مروت احمد کی جانب سے کرائون پلازہ میں لنچ کا اہتمام تھا جن دوستوں نے مہمانوں کو خصوصاً بہت بہت محبت دی ان میں زاہد شکور، ذیشان بٹ، شاندار بخاری، محسن شیخ، افتخار احمد اور کئی دوسرے دوست شامل تھے۔ پاکستان فیسٹیول کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سفیر پاکستان علی جاوید نے بتایا کہ عمان خلیجی ریاستوں میں پاکستان کا قریب ترین ہمسایہ ملک ہے اور وہ افراد جو بیرونی ممالک مقیم ہیں ان میں پاکستان سب سے زیادہ پیسے بھیجنے والوں میں سے اس کا چھٹا نمبر ہے جبکہ عمان میں ایک جدید تحقیق کے مطابق موہنجودڑو کی طرح یہاں کے آرکیالوجی سنٹر میں عمان سے چند دریافت کردہ برتن اور پھر اس سے لگی مٹی سے ثابت ہوا ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے بھی عمان اور پاکستان کے علاقوں کا آپسی رشتہ گہرے تجارتی تعلق پر قائم رہا ہے۔

عمان میں ہماری سرگرمیاں بہت متنوع قسم کی تھیں خصوصاً مفتی اعظم عمان احمد الخلیلی سے ملاقات بہت اہم تھی۔ حضرت مفتی صاحب ضعیف العمری کے باوجود اپنے گھر کے مین گیٹ پر ہمارے استقبال کے لئے موجود تھے۔ میں نے ظہرانے میں عربوں کی صدیوں پرانی مہمان نوازی کی جھلکیاں دیکھیں۔ بہت لمبی میز انواع و اقسام کے کھانوں سے اٹی ہوئی تھی۔ ان میں دو سالم بکرے بھی تھے۔ میرا خیال تھا کہ برادرم سہیل وڑائچ کے لئے یہ بکرے ناکافی ہوں گے مگر انہوں نےتو ہم سب سے کم کھانا کھایا۔ اس روز پتا چلا کہ انہوں نے کھانے کے حوالے سے خواہ مخواہ اپنی ’’ٹوہڑ‘‘ بنائی ہوئی تھی۔ کھانے کے بعد انواع و اقسام کے پھل اور سویٹس کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

حضرت مفتی اعظم ساتھ والی کرسی جو اتفاقاً میری تھی، پر بیٹھے مہمان کے لئے اپنے ہاتھ سے اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے تھے۔ ہم سب کھانے کے لئے چمچ استعمال کر رہے تھے مگر مفتی صاحب روایتی انداز میں ہاتھ سے چاولوں کا گولہ بنا کر کھانا تناول فرما رہے تھے۔ کھانے کے آخر میں ایک خادم نے چلمچی میں ہمارے ہاتھ دھلوائے اور عود کی خوشبو سے ہمارے چہروں کو خوشبو میں نہلا دیا۔ میں اگر یہاں برادرم امیر حمزہ کا ذکر نہ کروں تو یہ ڈنڈی مارنے والی بات ہو گی، امیر حمزہ کا تعلق پنجاب کے ایک قصبے سے ہے اور وہ عرصہ دراز سے حکومت عمان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ بہت سی کتابوں کے مصنف اور علمی شخصیت ہیں۔ ان کے ایک بھائی عمیر ’’لفظ بہ لفظ‘‘ ان کے ہم شکل ہیں مگر وہ علمی نہیں ’’فلمی‘‘ شخصیت ہیں مگر یہ شرارتی بچہ وہ ڈائیلاگ بھی بول دیتا ہے، جو اسکرپٹ کا حصہ نہیں ہوتے۔

میں اس فیسٹیول کی یادیں اس لئے بھی نہیں بھول سکتا کہ فارغ اوقات میں اپنے ادیب دوستوں اور نامور گلوکار استاد حامد علی خاں کے علاوہ اپنے صحافی دوستوں سے بھی کھل کر گپ شپ کا موقع ملا۔ سہیل وڑائچ، جاوید چوہدری، طلعت حسین، عامر غوری اور دیگر سب دوست ہوٹل کے لائونج میں اکٹھے ہو جاتے تھے، سنجیدہ گفتگو بھی کرتے تھے اور کھلکھلا کر ہنستے بھی تھے۔ عامر غوری کو میں پہلی بار ملا مگر سہیل وڑائچ، جاوید چوہدری اور طلعت حسین سے پہلے سے بھی ملاقاتیں ہیں۔

جو لوگ ان سے نہیں ملے وہ انہیں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھتے ہوں گے مگر میری بات پر یقین کریں یہ ہم سب دوسرے پاکستانیوں کی طرح ہیں اور پاکستان سے ان کی محبت ہم میں سے کسی سے بھی کم نہیں۔ عمان میں چند روزہ قیام کے دوران پرانے دوستوں فیاض شاہ، یاسین بھٹی اور مروت احمد سے بھی ملاقات ہوئی لیکن اگر کسی سے ملاقات نہیں ہوئی تو ہر وقت ہنسنے والے ایک دوست جن کا نام بھول گیا ہوں، سے نہیں ہوئی، میں اور سید ضمیر جعفری برسوں پہلے جب عمان آئے تو جعفری صاحب نے عمان کے بارے میں ایک شعر کہا تھا:

اک طرف پہاڑی ہے، اک طرف سمندر ہے

اس کے بعد جو کچھ ہے، بس اسی کے اندر ہے

آخر میں صرف یہ کہ جہاں سفیر پاکستان عزت مآب علی جاوید نے پاکستان کی سفارت کا حق ادا کیا وہاں قمر ریاض غیر سرکاری طور پر مسلسل پاکستان کی پہچان کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اگر یہ نوجوان کسی ملک میں پاکستان کی ثقافتی پہچان پر مامور ہوتا اور اسے اپنی روزی، روٹی کے لئے کچھ نہ کرنا پڑتا تو پاکستان کا امیج خراب کرنے والوں کو ’’وخت‘‘ ڈال دیتا۔ کاش اس نے تعلیم کے اختتام پر سی ایس ایس کا امتحان دیا ہوتا!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے